Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شوگرفارنزک رپورٹ:’سیاستدانوں نے مل کر کسانوں کو لوٹا‘

ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم نے کابینہ میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی تھیں۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد حکومت نے شوگر بحران پر فارنزک رپورٹ شائع کر دی ہے۔ فرانزک رپورٹ نے ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کی تصدیق کر دی ہے اور ملک میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار شوگر ملز مالکان کو ٹھہرایا ہے جس میں جہانگیر ترین سمیت حکومتی اور اپوزیشن کی سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں حکومتی اداروں جیسے ایف بی آر، سٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایس ای سی پی کو بھی ذمہ دار گرادنتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے۔ 
رپورٹ میں کہا گیا کہ دسمبر 2018 کے بعد چینی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا جو کہ اگست 2019 تک جاری رہا اور چینی کی قیمت 51.6 روپے سے 68.6 روپے تک پہنچ گئی۔
اس سال فروری کے بعد چینی کی فی کلو کارخانہ اور پرچون قیمت میں پھر اضافہ ہوا پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے جنوری میں جزوی ہڑتال کی گئی جو اتفاقاً انہیں دنوں میں سامنے آئی جب حکومتی تحقیقات کا فیصلہ ہوا۔ شوگر ملز والوں کا موقف تھا کہ گنے کی رسد میں کمی ہوئی ہے اور کاشتکاروں نے ریٹ بڑھا دیا ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق گنے کی پیداوار اس سال گذشتہ سال کے مقابلے میں 67.7 میٹرک ٹن یا ایک فیصد بڑھی۔
رپورٹ کے مطابق ملک کی 88 شوگر ملون کے اعداد و شمار میں گنے کی پیداوار کم دکھائی گئی اور پیداوار کا قریب ایک چوتھائی حصہ مخفی رکھا گیا۔ کمیشن کے مطابق پیداوار ملکی ضرورت کے لیے کافی تھی اور اس میں کمی کا کوئی امکان نہیں تھا اور چینی کی قیمت میں اضافے کا باعث پیداوار کی کمی نہیں تھی۔
چینی کمیشن کی تحقیقات اور فرانزک رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ تمام شوگر ملز کاشتکاروں کو حکومت کی طرف سے مقرر گئی گنے کی امدادی قیمت یعنی 180 روپے فی من سے بھی کم ادائیگی کرتی رہیں اور انہیں صرف 140 روپے فی من کی ادائیگی کی گئی۔ کین کمشنر اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر کاشتکاروں کی حق تلفی روکنے میں ناکام رہے۔

فرانزک آڈٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ شوگر ملیں چینی کی فی کلو قیمت میں اضافے کے لیے اپنے اخراجات بڑھا کر دکھاتے ہیں جبکہ کمیشن نے جب آئی ایف آر ایس اصولوں کے مطابق آزادانہ طور پر چینی کی فی کلو پیداواری لاگت کا اندازہ لگایا تو یہ لاگت صرف 38 روپے فی کلو (برائے سال 2017-18) اور 40 روپے فی کلو برائے سال 2018-19 نکلی جبکہ شوگر ملوں نے اس کی قیمت 50 روپے فی کلو ظاہر کی۔

جہانگیر ترین کا ردعمل

رپورٹ پر اپنے ردعمل میں پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین نے ٹویٹ کیا کہ ’جھوٹے الزامات پر مجھے دکھ ہوا۔ میں نے ہمیشہ شفاف طریقے سے کاروبار کیا ہے۔ پورا پاکستان جانتا ہے کہ میں ہمیشہ کاشت کاروں کو پوری قیمیت ادا کرتا ہوں۔ میں دو بکس نہیں رکھتا اور اپنے تمام ٹیکسز ادا کرتا ہوں۔ میں ہر الزام کا جواب دوں گا اور ان سے بری ہو جاؤں گا۔‘

ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے شوگر ملز کے فرانزک آڈٹ کا حکم دیا تھا۔ (فوٹو: سوشل میڈیا)

واضح رہے کہ ملک میں آٹے اور چینی کے بحران کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے ایف آئی اے کو فارنزک تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ جمعرات کو کابینہ نے فارنزک رپورٹ کو پبلک کرنے کی منظوری دی۔
گزشہ ماہ اپریل کے اوائل میں جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ میں سیاسی اثرو رسوخ رکھنے والے شوگر مل مالکان کو چینی کی قلت، قیمتوں میں اضافے اور منافع حاصل کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔
ایف آئی اے کی ابتدائی رپورٹ میں وزیراعظم کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا تھا جس کے بعد حکومت  نے جہانگیر ترین کو زرعی ورکنگ گروپ کے عہدے سے الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 
ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے شوگر ملز کے فرانزک آڈٹ کا حکم دیا تھا جس کی رپورٹ 25 اپریل کو وزیراعظم کو پیش کی جانی تھی تاہم تحقیقاتی ٹیم نے تین ہفتوں کی مہلت طلب کی تھی۔
ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم نے کابینہ میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی تھیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ایف آئی اے کو آٹا اور چینی  بحران کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ (فوٹو: سوشل میڈیا)

رپورٹ میں وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی کا نام آنے کے ان سے فوڈ سکیورٹی کی وزارت واپس لے کر سید فخر امام کو دے دی گئی تھی جبکہ خسرو بختیار کو اقتصادی امور کا قلمدان سونپ دیا گیا تھا۔ 
یاد رہے کہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے اردو نیوز کو انٹرویو میں کہا تھا کہ 'آٹا اور چینی بحران کے حوالے سے ایف آئی اے کی فارنزک رپورٹ 25 اپریل کے بجائے چند دن موخر ہو سکتی ہے۔'
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 'آٹے اور چینی کے بحران کے حوالے سے ایف آئی اے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد معاملات کا دائرہ کار خاصا وسیع ہو چکا ہے۔'
فرانزک رپورٹ کی سفارشات میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ تحقیقات اور فرانزک آڈٹ کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے، ایس ای سی پی، اینٹی کرپشن ، ایف بی آر اور سٹیٹ بینک کے افسران پر مشتمل تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو ملک میں چینی کے تمام کارخانوں کا آڈٹ کریں اور نتائج کی روشنی میں قانونی کارروائی کریں۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ نیب سے درخواست کی جائے کہ وہ عوامی عہدوں پر فائز افراد اور ان کے قریبی عزیزوں اور دوستوں کے چینی کارخانوں کے ان عوامل کی تفتیش کریں جو کہ نیب آرڈنینس کے تحت قابل سزا جرم ہیں۔ اس کے علاوہ قومی خزانے سے سبسڈی کے نام پر لوٹ کھسوٹ کی بھی تحقیقات کریں۔

شیئر:

متعلقہ خبریں