Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کابینہ کے ارکان کی تنخواہ لاکھوں میں،’گزارا کرنا مشکل‘

سیلریز اور الاؤنسز کے ایکٹ کے مطابق وفاقی وزرا اور وزیر اعظم کے مشیروں کو ماہانہ دو لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے(فوٹو: پی آئی ڈی)
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے ہونے والے حالیہ احتجاج کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے اپنے اخراجات کم کریں۔
ان کے اس بیان کے بعد یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر زیر بحث آ گیا کہ اس ملک میں محنت مزدوری کرنے والے عام آدمی اور وفاقی وزرا کی تنخواہوں میں بہت فرق ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کا ماضی میں دیا گیا ایک بیان بھی زیر گردش رہا کہ ان کی تنخواہ بہت کم ہے اور اس میں گزارا مشکل ہے۔
اردو نیوز نے اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن وزرا اور وزیراعظم کی تنخواہ اور مراعات کا ایک جائزہ لیا ہے۔
قومی اسمبلی کی دستاویزات سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق وفاقی وزرا، وزرائے مملکت کی سیلریز اور الاؤنسز کا ایکٹ 1975 سے نافذ العمل ہے جس میں مختلف ادوار میں ترامیم کی جاتی رہیں۔
اسی ایکٹ کے مطابق اس وقت وفاقی وزرا اور وزیر اعظم کے مشیروں (جن کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوتا ہے) کو ماہانہ دو لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے۔
ماہانہ 20 ہزار روپے ایڈ ہاک ریلیف اور 22 ہزار یوٹیلٹی الاؤنس کی مد میں دیے جاتے ہیں۔
تعیناتی کی بعد ان کو پانچ ہزار آلات کا الاؤنس کے نام پر دیے جاتے ہیں جبکہ ماہانہ چھ ہزار کا مصارف الاؤنس دیا جاتا ہے۔
وزرا اور مشیروں کو ذاتی اور اہل خانہ کے استعمال کے لیے سرکاری گاڑی میسر ہوتی ہے اور اس دوران فرنشڈ گھر بھی دیا جاتا ہے۔

وفاقی وزرا کو ہر سہولت میسر ہوتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اگر سرکاری رہائش گاہ نہیں ملتی تو انہیں ماہانہ ایک لاکھ تین ہزار ایک سو 25 روپے کرایہ کی مد میں دیے جاتے ہیں اور اگر وہ اپنی ذاتی رہائش گاہ استعمال کرتے ہیں تب بھی انہیں یہ رقم ادا کی جاتی ہے۔
سرکاری دوروں کے دوران وزرا اور مشیروں کو تین ہزار روزانہ الاؤنس کی مد میں ملتا ہے۔
وزرا ہر ماہ چار چھٹیاں کرسکتے ہیں اور اگر نہ کریں تو انہیں اس کے بدلے دو لاکھ روپے ماہانہ ادا کیے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ انہیں پرائیویٹ سیکریٹری سمیت پانچ ملازمین مہیا کیے جاتے ہیں۔
گھر پر اپنے اور اہل خانہ کے علاج کی سہولت کے ساتھ گھر پر ٹیلی فون کے علاوہ سات ہزار موبائل فون الاؤنس کی مد میں دیا جاتا ہے۔
اپنی رہائشگاہ پر وزرا اور مشیروں کو سرکاری خرچ پر چار ایئر کنڈیشنرز چار گیس دو بجلی کے ہیٹرز اور ریفریجریٹر کی سہولیات میسر ہوتی ہے جبکہ گھر پر مالی اور سکیورٹی گارڈ بھی مہیا کیا جاتا ہے۔
کسی فضائی حادثاتی موت کی صورت میں تین لاکھ کی رقم لواحقیقن کے لیے مختص کی گئی ہے۔
وزرائے مملکت اور معاونین خصوصی کی سہولیات بھی وہی ہیں جو وفاقی وزرا کو ملتی ہیں تاہم ان کی تنخواہ اورکچھ الاؤنسز میں معمولی فرق ضرور ہے۔

وزرا اور مشیروں کو ذاتی اور اہل خانہ کے استعمال کے لیے سرکاری گاڑی میسر ہوتی ہے (فوٹو: پاک ویلز)

وزرائے مملکت اور معاونین خصوصی کی تنخواہ ایک لاکھ اسی ہزار ماہانہ ہے۔ ان کا ایڈ ہاک الاؤنس 18 ہزار روپے ہے۔
انہیں سرکاری رہائش گاہ نہ ملنے کی صورت میں اسی ہزار سات سو پچاس روپے ملتے ہیں اور چھٹیاں نہ کرنے کی صورت میں ایک لاکھ 80 ہزار کی ادائیگی کی جاتی ہے جبکہ دیگر تمام سہولیات وہی ہیں جو وفاقی وزرا کو دی جاتی ہیں۔
اس وقت وفاقی کابینہ میں 28 وزرا، چار مشیر ،تین وزرائے مملکت اور 18 معاونین خصوصی ہیں۔
اس طرح پچاس سے زائد وفاقی وزرا، مشیروں، وزرائے مملکت اور معاونین خصوصی کو ملنے والی تنخواہ اور مراعات ماہانہ کروڑوں روپے بنتی ہیں۔
تاہم کابینہ اراکین ان تنخواہوں اور مراعات پر بھی مطمئن نہیں ہیں اور اکثر کہتے نظر آتے ہیں کہ سرکار کی طرف سے دیے گئے معاوضے میں گزارا نہیں ہوتا۔
اردو نیوز نے موجودہ کابینہ کے رکن ایک وفاقی وزیر سے اس معاملے پر بات کی تو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ اگر صرف تنخواہ میں گزارا کرنا پڑے تو یہ خاصا مشکل ہے۔ لیکن اکثر وزرا کو تنخواہ سے غرض نہیں ہوتی کیوں کہ ان کا کوئی نہ کوئی اچھا ذریعہ معاش ضرور ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں اور عوامی نمائندے کے بہت سے اخراجات ہوتے ہیں، بالخصوص حلقے کے عوام کی دیکھ بھال اور اگر صرف ان کے ڈیروں پر عوام کی چائے پانی کا حساب لگایا جائے تو سرکاری تنخواہ سے وہ بھی ممکن نہیں۔ تاہم مراعات جن میں حکومت کی طرف سے سٹاف اور گاڑیاں وغیرہ دیا جانا کافی پر کشش ہوتا ہے اور اس کے علاوہ معاشرے میں وزیر ہونے کی وجہ سے اثرورسوخ۔

معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی کے مطابق وزرا کو تنخواہوں کی ادائیگی ملکی قرضوں سے کی جاتی ہے (فوٹو: پی ٹی آئی ٹوئٹر)

سابق حکومت کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں کہ تنخواہ وزرا  کے لیے اتنا مسئلہ نہیں ہوتا  بلکہ اصل مسئلہ مراعات کا ہوتا ہے۔
معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ ان تنخواہوں کی ادائیگی ملکی قرضوں سے کی جاتی ہے جس کا بوجھ ملکی معیشت کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
قوانین کے مطابق تنخواہ ادا کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن موجودہ دور میں تنخواہ کی اوپری حد ختم کر دی گئی ہے جس سے زیادہ سے زیادہ تنخواہ کا اب تعین نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کی تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے بیس ڈویژنز اب بھی نئے ناموں سے موجود ہیں ان ڈویژنز اور وزارتوں کا بھی کوئی جواز نہیں۔ لیکن ان کی وجہ سے کابینہ اراکین اور اس کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

شیئر:

متعلقہ خبریں