Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دنیا کی آخری مادہ سفید گینڈوں میں سے ایک ’ریٹائر‘

ایک شمالی سفید مادہ گینڈا افزائش نسل کے پروگرام سے ریٹائر ہو رہی ہے۔ 32 برس کی نیجن آخری نایاب دو سفید گینڈوں میں سے ایک ہے۔ نیجن کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس کی بیٹی سفید گینڈوں کو معدومیت سے بچا پائے گی۔
مادہ گینڈا نیجن اپنی بیٹی کے ساتھ کینیا کے لیکیپیا نیشنل پارک میں رہتی ہے۔ آخری نر گینڈا 2018 میں مر گیا تھا جس کے بعد ایسا کوئی بھی سفید نر گینڈا نہیں بچا جو سفید گینڈوں کی نسل کو آگے بڑھا سکے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی تصاویر میں ان شمالی سفید مادہ گینڈوں کی تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں۔

گینڈا نیجن اپنی بیٹی کے ساتھ کینیا کے لیکیپیا نیشنل پارک میں موجود ہے، اس کی بیٹی کا نام فیتو ہے۔

ان گینڈوں کے لیے خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔ فیتو افزائش نسل کے لیے پروگرام کی اب واحد مادہ گینڈا ہے۔

کینیا میں کوئی بھی سفید نر گینڈا نہیں ہے۔ سفید گینڈوں کا شکار اس کے سینگوں کے لیے کیا جاتا تھا۔

ایک وقت تھا جب سفید گینڈے مشرقی اور وسطی افریقہ میں آزادانہ گھومتے تھے تاہم غیر قانونی شکار کی وجہ سے ان کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی۔

آخری نر گینڈا 2018 میں مر گیا تھا، اس کا نام سوڈان تھا۔

جرمنی میں بائیو ریسکیو ٹیم جو معدومیت کے شکار جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے، نے سفید گینڈے نیجن کو ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا۔

نیجن کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ اس کی بڑھتی عمر اور بیماری کی وجہ سے کیا گیا۔

سائنسدانوں کو امید ہے کہ سفید گینڈوں کو معدومیت سے بچانے کے لیے وہ سفید گینڈوں کے انڈوں کے خلیات اور محفوظ سپرمز کو سروگیٹ گینڈوں میں استعمال کر لیں گے۔

وائلڈ لائف ریسرچ اور اور ٹریننگ اسنٹی ٹیوٹ کے قائم مقام ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق ’افزائش نسل کے لیے فیتو کے ساتھ تجربہ کامیاب رہا ہے اور اب تک ہمارے پاس خالص سفید گینڈوں کے ایمبریوز ہیں۔‘

ماہرین کی ٹیم کو امید ہے کہ تین سالوں میں گینڈے کا بچھڑا ڈیلیور ہو جائے گا۔

شیئر: