’تعلیم کی جانب واپسی‘: سعودی عرب نے غزہ میں ’مکہ سکول‘ کھول دیا
تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں تیزی آرہی ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی امدادی ایجنسی نے جنوبی غزہ میں ایک سکول کھولا ہے تاکہ بچوں کو تعلیم کی جانب لانے اور جنگ کی وجہ سے غزہ کے محصور علاقے کے بیشتر تعلیمی نظام کی تباہی کے بعد تعلیمی مواقع بحال کرنے میں مدد مل سکے۔
کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر نے ’مکہ سکول‘ کا آغاز کیا ہے، جس میں ابتدائی طور پر ایک ہزار بچوں کی گنجائش ہے۔ 32 اساتذہ کو ملازمت فراہم کی جائے گی۔ سکول کی گنجائش چار ہزار طلبہ تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
جنگ سے تباہ حال علاقے میں بچوں کے لیے بنیادی خدمات کی بحالی اور تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں تیزی آ رہی ہے۔
مشرقی خان یونس میں ایجوکیشن ڈائریکٹر ابراہیم رمضان نے سکول کے افتتاح کو غزہ کے تعلیمی شعبے کی تعمیر نو اور کلاسز کے دوبارہ اجرا کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا تعلیم’ مستقبل کی تعمیر کی بنیاد‘ ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کے لیے انسانی بنیادوں پر سپورٹ پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔
علاوہ ازیں شاہ سلمان مرکز کے سینٹرل کچن نے غزہ کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں انتہائی کمزور خاندانوں اور افراد میں 25 ہزار گرم کھانے کے پیکٹ تقسیم کیے ہیں۔

یہ اقدامات غزہ میں فلسطینوں کی سپورٹ کے لیے سعودی مہم کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے شاہ سلمان مرکز نے فوری انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کی ہے۔
سعودی عرب نے تنازع کے دوران غزہ میں انسانی امداد فراہم کی، جس میں خوراک، شیلٹر، طبی سامان اور ضروری خدمات کے لیے مدد شامل ہے جبکہ فلسطینی علاقے تک مستقل انسانی رسائی اور تعمیر نو پر بھی زور دیا ہے۔
