بوڑھا ہونے سے انکارکرنے والی دادیاں اور نانیاں

بچے ٹام اینڈ جیری اور دادی اماں سلمان کی دبنگ 3 کے بعد چوتھی مرتبہ پھر دیکھنے کیلئے تیار نظر آتی ہیں
-  - - - - - - - - - - - -
ثمینہ عاصم ۔ جدہ
- - - - - - - - - -  -
پتہ نہیں یہ ہماری خوش نصیبی ہے یا بدنصیبی کہ جیسے جیسے سائنس ترقی کررہی ہے، لوگ کچھ زیادہ ہی’’ ایجوکیٹڈ‘‘ہوتے جا رہے ہیں،اس دوران ہماری دادیاں، نانیاں بھی ماڈرن ہورہی ہیں۔ گھروں کا ماحول ایسا بن گیا ہے کہ اس میں بڑے تو کیا بچے بھی الجھ کر رہ گئے ہیںکیونکہ وہ یہ فیصلہ ہی نہیں کر پاتے کہ ’’جائیں تو جائیں کہاں؟‘‘ پہلے زمانے کی نانیاں دادیاں اپنے بچوں کو پریوں ، شہزادوں ، چڑیا اور چڑے کی کہانی سنایا کرتی تھیں ۔ رات کو بچے دادی کے ساتھ سونے کی ضد کرتے تاکہ ان سے کہانی سن سکیں۔ کہانی کے بعد دادی اماں بچوں کوسونے سے پہلے دعائیں پڑھاتی تھیں۔ بچے اپنی امی اور دادی کو عبادت کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کاج کرتے دیکھتے تو وہی کچھ سیکھتے بھی تھے۔ بچے جب بزرگوں کو سلام کرتے،انہیں پانی پلاتے یا ان کا چھوٹا موٹا کوئی کام کرتے تو انہیں ڈھیر ساری دعائیں ملتیں ،اما دادیاں ان کے سر پر ہاتھ پھیرتی تھیںلیکن پھر یوں ہوا کہ بچوں نے بہت سے معاملات میں چھلانگیں لگائیں تو دوسری طرف نانیوں اور دادیوں نے بھی بوڑھا ہونے سے انکار کردیا۔ایک جانب اگر بچے ٹام اینڈ جیری دیکھنے میں مشغول ہوئے تو دادی اماں سلمان خان کی دبنگ تین مرتبہ دیکھنے کے بعد چوتھی مرتبہ پھر دیکھنے کے لئے تیار نظر آتی ہیں۔
بچے اسپائڈر مین بن کر اڑنا چاہتے ہیں تو نانی اماں ’’منی بدنام‘‘ ہوئی میں ہی مگن رہنے لگی ہیں۔ بچے انگلش میں بات کرنا پسند کرتے ہیں تو دادی نانی بھی انگلش سیکھنے کیلئے ڈکشنری کھولے بیٹھی ہیں۔ ہر طرف تعلیم کی پھریریاںاڑ رہی ہیں۔ ہر کوئی دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے۔ تبدیلی بلا شبہ آنی چاہئے، اچھی بات ہے لیکن تبدیلی کے ساتھ سنجیدگی بھی توآنی ضروری ہے ۔ پہلے انسان بچہ ہوتاہے، پھر جوان ہوتا ہے تو مزاج میں ، کام میں ، اطوار میں، گفتار میں تبدیلی آتی ہے۔ پھر جب بوڑھا ہوجاتا ہے تو سنجیدگی آجاتی ہے لیکن آج کی نانیاں اور دادیاں بوڑھا ہونا ہی نہیں چاہتیں۔ پہلے یہ مسلمانوں کے تاریخی واقعات بچوں کو سناتی تھیں، مسلم اسکالرز اور شخصیات کی باتیں بتاتی تھیں۔ اٹھنے ، بیٹھنے ، بولنے چالنے کے آداب سکھاتی تھیں۔ گلاس کے نیچے ہاتھ رکھ کر پانی دینے، بڑوں کو سلام کرنے ، ان کے آگے پاؤں نہ پھیلانے، بڑے باتیں کررہے ہوں تو درمیان میں نہ بولنے کی تربیت دیتی تھیں۔
آج یہ حالت ہے کہ جب بڑے اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تو بچے ہی انہیں ٹوک دیتے ہیں کہ یوں نہیں، یوں کیجئے اور فلاں بات یوں نہیں، یوں تھی۔ اس طرح وہ بڑوں کو جھوٹا ثابت کردیتے ہیںاور بڑے بغلیں جھانکتے رہ جاتے ہیں۔ والدین بلکہ دادیاں بھی یہی چاہتی ہیں کہ ان کے بچے بڑے اسکولوں میں پڑھیں اور اے ون گریڈ لائیں۔ دادیاںنانیاںاپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو اسکول چھوڑنے کے لئے خود گاڑی ڈرائیور کرکے جاتی ہیں۔اسی طرح دادیاں نانیاں نہ صرف خود بیوٹی پالر جاتی ہیں بلکہ بچیوں کو بھی اپنے ساتھ لے جاتی ہیں۔ اس طرح بچے بچپن سے ہی سمجھ لیتے ہیں کہ انہیں بالوں کا کیا اسٹائل رکھنا ہے، گھر کا ماحول کیسا رکھنا ہے۔ ماضی کے دور میں جب بچہ ذرا سی ضد کرتا تو دادی اماں فوراً کہتی تھیں کہ اسے نظر لگ گئی چنانچہ وہ صدقہ خیرات کرتی تھیں لیکن آج جب بچہ کسی بات پر دودھ نہیں پیتا یا روتا ہے تو فوراً بچے کی پسند کا میوزک یا گانا چلا دیا جاتا ہے۔ بچوں سے پوچھا جائے کہ وہ کیا کھانا پسند کریں گے تو وہ فوراً برگر، پیزا ، بروسٹ یا اسپیگٹیز کی فرمائش کرتے ہیں۔ ان کی امائیں یا دادیاں بھی شکر ادا کرتی ہیں کہ چلو کچن میں جانا نہیں پڑا۔ بچوں کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ اگر اماں کو کچھ بنانے کیلئے کہہ دیا اور انہوں نے پکانے کی کوشش بھی کی تو یا تو وہ جل جائے گا یا پھر نمک مرچ تیز ہوجائے گا۔
سبزیاں آجکل کوئی کھانا نہیں چاہتا اور جب تک امائیں پیزا یا کسی بڑے ہوٹل کے کھانے کی تصویر فیس بک پر نہیں لگا لیتیں، انہیں اس دن سکون نہیں ملتا۔ دادیاں اپنے پوتا یا پوتی کی انگلی پکڑ کر بازار جاتی ہیں اور بچے کو خاص طور سے منع کیا جاتا ہے کہ مجھے لوگوں کے سامنے دادی مت بولنا۔ پچھلے دنوں کی بات ہے ،ایک دعوت میں ایک خاتون سے پوچھاگیا کہ آجکل آپ گھر پر ہی ہوتی ہیں، کیا ریٹائر ہوگئیں؟وہ دائیں بائیں دیکھ کر انتہائی راز داری سے گویا ہوئیں کہ بھئی کسی کو مت بتانا کہ میں ریٹائر ہوگئی ہوں ورنہ لوگوں کو میری عمر پتہ چل جائے گی۔ اسی وقت گود میں بیٹھے ہوئے پوتے کو انہوں نے گود سے اتار ا کہ چلو اپنی امی کے پاس جاؤ۔

شیئر: