Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قلعہ روہتاس، مسلم فن تعمیر کا نمونہ

قلعہ روہتاس اسلام آباد سے 109 کلو میٹر کے فاصلہ پرضلع جہلم کے قصبہ دینہ کے قریب واقع ہے۔ اسے دہلی کے حکمران شیر شاہ سوری نے مقامی گکھڑ قبائل سے محفوظ رہنے کے لئے ایک فوجی اڈے کے طور پر 1540ء اور 1545ء کے درمیان تعمیر کروایا۔ایک رپورٹ کے مطابق قلعہ روہتاس شیر شاہ سوری (فرید خان) کے بیٹے حسن خان، ابراہیم خان اور لودھی قبیلے کے احکامات کے بعد تعمیر کیا گیا تھا-قلعہ روہتاس مکمل کرنے کے لئے تقریبا 10 سال لگے اور 8 کروڑ روپے اور بعض روایات کے مطابق 16کروڑ 10 لاکھ روپے خرچ ہوئے ان کا حوالہ گیٹ پر لگی ایک پرانی تختی سے بھی ہوتا ہے۔مختلف ادوار میں یہ قلعہ بہت سے مسلمان حکمرانوں کے قبضے میں رہا جن میں ہمایوں ، ظہیر الدین محمد بابر اہم ہیں۔قلعہ ایک ایسی جگہ پر واقع ہے جو دفاعی نقطہ نظر سے بہت ہی محفوظ ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریباً 5 مربع میل ہے اور یہ سطح سمندر سے 2660 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ دیواروں کی اونچائی 10 سے 18 میٹر تک ہے۔ دیواریں زیادہ تر اینٹوں اور چونے سے تعمیر کی گئی ہیں جس میں 68 ٹاور ہیں جو دشمن پر نظر رکھنے کے لئے اس دور میں تعمیر کئے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ 12 دروازے ہیں جن میں سے 4دروازے ڈبل ہیں، بہت سے کمرے ہیں، اس کا کنواں منفرد حیثیت کا حامل ہے جس کے پانی تک پہنچنے کے لئے سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ رانی محل حویلی مان سنگھ اور شاہی مسجد بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوتی ہیں۔ قلعے میں داخل ہوتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان اس زمانے میں آگیا ہے جس میں یہ قلعہ تعمیر ہوا تھا۔ قلعے کی تعمیر میں زیادہ تر خطاطی عربی اور فارسی میں کی گئی ہے۔ یہ قلعہ مکمل طور پر مسلم فن تعمیر کا نمونہ ہے جو ہمیں مسلمانوں کے عظیم فاتح ہونے اور عظیم معمار ہو نے کا ثبوت دیتا ہے۔اب قلعہ کو اقوام متحدہ کی جانب سے ایک عظیم ورثہ قرار دیا جا چکا ہے اور حکومت پاکستان اس کی تعمیر و ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ اس عظیم ورثے کوآنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں قلعہ میں ایک وسیع و عریض میوزیم تعمیر کیا جا رہا ہے اور سیاحوں کی سہولت کے لئے معلومات سینٹر قائم کئے جا رہے ہیں تاکہ اس عظیم ورثے سے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات عام کی جاسکیں تاہم موسمی تغیرات اور دیگر عوامل کے باعث اس عظیم ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اور اس کی حفاظت کے لئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

شیئر: