چند ہفتے پہلے میں نے ڈیلفی اکنامک فورم میں حصہ لیا اور مجھ سے خلیج اور وسیع مشرقِ وسطیٰ میں فروری میں آپریشن ایپک فیوری کے آغاز کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ جغرافیائی سیاسی صورت حال کے نتیجے کی پیشگوئی کرنے کے لیے کہا گیا۔
میں نے جواب دیا کہ یہ تجزیہ کرنا کہ یہ مخصوص جنگ کیا رخ اختیار کرے گی، جس نے دنیا کو حیران کر دیا، یا اس میں شامل فریقین کی اگلی چال کا اندازہ لگانا ،خاص طور پر ایسے غیر متوقع کردار جیسے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اتنا مشکل ہے کہ اس یونانی شہر میں کبھی موجود مشہور پیشگو (اوریکل) بھی ہار مان لیتا۔
صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنانے والی چیز متضاد خبروں کی بھرمار ہے، جن میں تصدیقیں اور تردیدیں شامل ہیں، اور ساتھ ہی بے شمار لیکس بھی سامنے آ رہی ہیں، جن میں سے کچھ درست ثابت ہوئیں جبکہ کچھ مکمل طور پر غلط نکلیں۔
مزید پڑھیں
-
یمن میں قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ، سعودی عرب کا خیر مقدمNode ID: 904265











