’ایک ہی بار کنبہ مکمل‘، انڈیا میں مسلم خاتون کے ہاں پانچ دن میں 4 بچوں کی نارمل ڈلیوری
’ایک ہی بار کنبہ مکمل‘، انڈیا میں مسلم خاتون کے ہاں پانچ دن میں 4 بچوں کی نارمل ڈلیوری
اتوار 17 مئی 2026 9:19
یوسف تہامی -دہلی
انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے شہر مرادآباد میں ایک نہایت غیر معمولی طبی واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون نے پانچ دنوں کے وقفے میں چار بچوں کو جنم دیا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ تمام ولادتیں آپریشن کے بغیر نارمل ڈلیوری کے ذریعے ہوئیں جبکہ حمل کو ابتدا ہی سے ’ہائی رسک‘ قرار دیا گیا تھا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈیا میں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے اور گزشتہ روز (16 مئی کو) وسطی ریاست آندھر پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والی خواتین کے لیے انعام کا اعلان کیا ہے جس میں تیسرے بچے کی ولادت پر 30 ہزار روپے اور چوتھے بچے کی ولادت پر 40 ہزار روپے کی مالی اعانت کا اعلان کیا ہے۔
مرادآباد میں چار بچوں کی ولادت کے واقعے نے نہ صرف طبی حلقوں بلکہ عام لوگوں میں بھی دلچسپی پیدا کر دی ہے کیونکہ ایک ساتھ چار بچوں کی ولادت خود ایک نادر واقعہ تصور کیا جاتا ہے اور وہ بھی مسلسل پانچ دنوں کے دوران نارمل ڈلیوری کے ذریعے۔ طبی اعتبار سے اسے غیرمعمولی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
مرادآباد کے لودھی پور علاقے میں واقع تیرتھنکر مہاویر یونیورسٹی ہسپتال کے مطابق سنبھل ضلع کے اوواری گاؤں کی رہائشی آمنہ نے 9 مئی کو اپنے پہلے بچے کو جنم دیا جبکہ بعد کے تین بچوں کی پیدائش 14 مئی کو ہوئی۔
ان چار بچوں میں دو لڑکے اور دو لڑکیاں شامل ہیں۔
انڈین میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس میڈیکل ٹیم کی قیادت ڈاکٹر شبھرا اگروال کر رہی ہیں (فوٹو: ویڈیو گریب)
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ماں اور تمام نومولود اس وقت طبی نگرانی میں ہیں اور احتیاطی طور پر بچوں کو وینٹی لیٹر سپورٹ پر رکھا گیا ہے، تاہم ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
انڈین میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس میڈیکل ٹیم کی قیادت ڈاکٹر شبھرا اگروال کر رہی ہیں۔
ان کے مطابق ہسپتال کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب چار بچوں کی پیدائش مکمل طور پر نارمل ڈلیوری کے ذریعے ہوئی ہو۔
ڈاکٹر اگروال نے بتایا کہ ’آمنہ کا علاج حمل کے تیسرے مہینے سے جاری تھا، جب الٹراساؤنڈ میں چار جنین کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ چونکہ ایک ساتھ چار بچوں کا حمل ماں اور بچوں دونوں کے لیے خطرناک تصور کیا جاتا ہے، اس لیے ڈاکٹروں نے ابتدا میں جنین کی تعداد کم کرنے کا مشورہ دیا تھا مگر خاندان نے تمام بچوں کو دنیا میں لانے کا فیصلہ کیا۔‘
ڈاکٹر رولی اگروال، ڈاکٹر پورتی چھنّا اور دیگر طبی عملے نے کئی مہینوں تک مسلسل نگرانی کے ذریعے اس پیچیدہ حمل کو سنبھالا۔
آمنہ کے شوہر محمد علیم نے ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے نہایت احتیاط اور محنت کے ساتھ اس کیس کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
طبی ماہرین کے مطابق ایک ساتھ چار بچوں کی پیدائش، جسے ’کواڈروپلیٹس‘ کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں انتہائی کم دیکھی جاتی ہے۔
قدرتی طور پر ایسے حمل کے امکانات قریباً سات لاکھ میں ایک سمجھے جاتے ہیں لیکن جدید بانجھ پن کے علاج اور آئی وی ایف جیسی تکنیکوں کے بعد اس طرح کے معاملات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
انڈیا میں اس سے پہلے ممبئی، حیدرآباد اور کیرالا جیسے شہروں میں چار یا پانچ بچوں کی پیدائش کے چند واقعات سامنے آ چکے ہیں لیکن نارمل ڈلیوری کے ذریعے ایسا ہونا اب بھی غیرمعمولی مانا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ انڈیا میں شرح پیدائش میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ اور انڈین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی ’ٹوٹل فرٹیلٹی شرح‘ یعنی فی خاتون اوسط بچوں کی تعداد اب قریباً 2.0 تک آ چکی ہے جو آبادی کو مستحکم رکھنے کی سطح 2.1 سے بھی کم ہے۔
چند دہائیاں قبل یہی شرح 5 سے زیادہ تھی۔
ماہرین اس تبدیلی کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں، جن میں شہری زندگی کا بڑھتا دباؤ، تعلیم یافتہ خواتین کی تعداد میں اضافہ، مہنگائی، روزگار کے مسائل، اور خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں بڑھتا شعور شامل ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف ملک میں مجموعی شرح پیدائش کم ہو رہی ہے تو دوسری جانب بانجھ پن کے علاج اور جدید تولیدی ٹیکنالوجی کے باعث جڑواں، تین یا چار بچوں کی پیدائش جیسے معاملات نسبتاً زیادہ رپورٹ ہونے لگے ہیں۔
دیہی علاقوں میں اب بھی ایسے واقعات کو خدا کی خاص نعمت اور معجزہ تصور کیا جاتا ہے، جبکہ طبی دنیا انہیں پیچیدہ اور حساس حمل کی مثال کے طور پر دیکھتی ہے۔
ایک ایسا ملک جہاں آبادی میں اضافے کی رفتار سست پڑ رہی ہے، وہاں ایک غریب دیہی خاندان میں ایک ساتھ چار بچوں کی آمد نہ صرف خوشی بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی بن گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر اس تعلق سے حیرت، خوشی اور مزاحیہ تبصروں کا دلچسپ امتزاج نظر آ رہا ہے۔
کئی صارفین نے اسے ’قدرت کا معجزہ‘ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹروں اور ماں کی ہمت کی تعریف کی۔
ایکس اور فیس بک پر متعدد صارفین نے مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا کہ ’ایک ساتھ دو لڑکے اور دو لڑکیاں، گویا پورا کنبہ ایک ہی بار میں مکمل ہو گیا۔‘
کچھ پوسٹوں میں بچوں کی پرورش کے اخراجات پر تبصرے بھی کیے گئے، خاص طور پر مہنگائی اور بڑھتے معاشی دباؤ کے تناظر میں۔
کئی صارفین نے ملک میں کم ہوتی شرحِ پیدائش کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’جہاں لوگ ایک یا دو بچوں پر رک رہے ہیں، وہاں ایک خاندان میں بیک وقت چار بچوں کی آمد غیر معمولی خبر بن گئی ہے۔‘
بعض تبصروں میں اسے دیہی علاقوں کی خاندانی سوچ اور مذہب سے بھی جوڑا گیا کیونکہ خاندان نے ڈاکٹروں کے مشورے کے باوجود حمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔