Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مارپیٹ کیلئے بچوں سے زیادہ مائیں ذمہ دار

لندن ..... بچے بالعموم شریر ہوتے ہیں اور یہ شرارت کبھی کبھار تکلیف دہ حد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس حوالے سے بالعموم یہی کہا جاتا ہے کہ بچوں کو ان شرارتوں سے دور رکھنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے اور یہ کوئی خرابی نہیں۔ بڑی عمر تک پہنچتے پہنچتے یہ بچے خود ہی درست ہوجاتے ہیں۔ اس حوالے سے ہونے والی تازہ ترین تحقیق نے عجیب انکشاف کیا ہے او روہ یہ ہے کہ اسکول کے بچوں سے زیادہ انکی مائیں بدمعاش ہوتی ہیں جو بچوں کو چھوڑنے یا لینے کیلئے اسکول آتی ہیں اور اسکول گیٹ پر کھڑے ہوکر اپنے بچوں کو دوسرے بچوں کیساتھ مار پیٹ کیلئے اکساتی ہیں۔ یہ تحقیقی رپورٹ مرتب کرنے والوں نے کئی اسکولوں کے پاس جاکر یہ صورتحال دیکھی ہے او رکہا ہے کہ یہ کیفیت برطانیہ میں تقریباً ہر جگہ پائی جاتی ہے اسلئے شرارتوں اور چھوٹی موٹی مارپیٹ کے لئے بچوں سے زیادہ انکی ماﺅں کو ذمہ دار قرار دینا چاہئے۔ یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب مارپیٹ پر پکڑے جانے والے دو بچوں نے یہ شکایت درج کرائی کہ وہ بے قصور ہیں اور انہیں انکی ماﺅں نے مارپیٹ کیلئے اکسایا تھا۔

شیئر: