Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ورلڈ مائگریٹری برڈ ڈے 2026‘: سعودی عرب، پرندوں کی نقل مکانی کا اہم عالمی روٹ

499 اقسام میں 300 نقل مکانی کرنے والے جبکہ 180 آبی پرندے ہیں۔(فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں جنگلی حیات کے قومی مرکز نے ’ورلڈ مائگریٹری برڈ ڈے 2026 ‘ میں شرکت کی ہے، جس کا عنوان تھا ’ہر پرندہ اہم ہے۔۔۔ آپ کے مشاہدات سے فرق پڑتا ہے‘۔
اِس دن کو منانے کا مقصد ماحولیاتی نظام اور پائیداری میں نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے انتہائی اہم کردار کو واضح کرنا اور اُن کے تحفظ کی عالمی کوششوں میں کمیونٹی کی شمولیت کی اہمیت پر زور دینا ہے۔
سعودی عرب، پرندوں کی نقل مکانی کا انتہائی اہم عالمی روٹ ہے جہاں سے گزرنے والے پرندوں کی انواع کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ ان میں 499 اقسام شامل ہیں۔ اِن میں 300 نقل مکانی کرنے والے جبکہ 180 آبی پرندے ہیں۔
اِن پرندوں کو محفوظ رکھنے کے لیے جنگلی حیات کے قومی مرکز نے کئی انیشیٹیوز شروع کر رکھے ہیں جن میں میڈیم وولٹیج پاور لائنز پر انسیولیٹر کی تنصیب شامل ہے تاکہ پرندے کرنٹ لگنے سے ہلاکت کا شکار نہ ہوں۔

 اس کے علاہ مرکز نے نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے غیر قانونی شکار کی سرکوبی کے لیے ڈیجیٹل ’فطری پلیٹ فام‘ بھی قائم کیا ہوا ہے جس سے پرندوں کی نگرانی کے کاموں میں کارکردگی میں آسانی اور بہتری پیدا ہوتی ہے۔
مملکت میں نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی انواع کے تحفظ کی کوششوں اور اس سلسلے میں شاندار قیادت کا اعتراف، برازیل میں نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے کنوینشن کے شراکت داروں کی پندرہویں کانفرنس میں ایک سرٹیفیکیٹ کے ذریعے بھی کیا گیا ہے۔

اِس سے پہلے بھی سمرقند میں سعودی عرب کو نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے تحفظ کے سلسلے میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر ایوارڈ دیا گیا تھا۔
اِن اعزازات سے مملکت کی طرف سے فراہم کیا جانے والا کامیاب بین الاقوامی تعاون اور ڈیٹا پر مبنی فیلڈ سروے استعمال کر کے حیاتیاتی تنوعی کی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنا اور ماحولیات سے متعلق معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنا شامل ہے۔

جنگلی حیات کے تحفظ کے قومی مرکز نے عوام الناس اور شوقین افراد پر زور دیا ہے کہ اگر انھیں کہیں پرندے دکھائی دیں تو وہ اُن کا اندارج کریں۔
مرکز کے مطابق کمیونٹی کی مدد سے اس طرح تیار کیا گیا ڈیٹا، سائنسی معلومات کو آگے بڑھانے اور مملکت کے زرخیز ماحولیاتی نظام اور پرندوں کے قدرتی ٹھکانوں کی پائیداری میں تعاون کے لیے لازمی ہے۔

 

شیئر: