سعودی عرب: ایک ہفتے کے دوران 11 ہزار غیر قانونی تارکین کو واپس بھیجا گیا
اقامہ، لیبر قانون کی 11 ہزار 175 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی مزید 11 ہزار 175 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ 11 ہزار 272 غیر قانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے نے سنیچر کو وزارت داخلہ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا’ 30 اپریل سے 6 مئی 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 6 ہزار 153 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار 619 کوغیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور ایک ہزار 403 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 403 افراد کو حراست میں لیا گیا، ان میں 62 فیصد ایتھوپین، 36 فیصد یمنی اور 2 فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں مزید 23 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے، جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 19 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
