Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جعل سازی کو منظم ’فن‘ کی شکل دینے والا ’چندرشیکھر‘ جس کی بالی وڈ اداکاراؤں سے بھی دوستی رہی

سنہ 2013 میں سکیش چندرشیکھر نے ایک کاروباری جوڑے کو جعلی سرکاری منصوبے کے نام پر قریباً 19 کروڑ روپے کا چُونا لگایا (فائل فوٹو: انسٹاگرام)
انڈیا کی حالیہ تاریخ میں اگر کسی شخص نے جعل سازی، نقالی اور مالی دھوکہ دہی کو ایک منظم فن کی شکل دی تو وہ سکیش چندرشیکھر ہیں۔
ایک ایسا شخص جس نے کم عمری میں جعلی شناختوں کا کھیل شروع کیا اور پھر ملک کے مختلف شہروں میں طاقتور شخصیات، سرکاری افسران اور کاروباری خاندانوں کو اپنے جال میں پھنساتا چلا گیا۔
اس کی کہانی صرف ایک فراڈیے کی داستان نہیں بلکہ یہ اس نظام کی کمزوریوں کا عکس بھی ہے جہاں ایک شخص برسوں تک مختلف شناختیں اختیار کرکے اربوں روپے بٹورتا رہا۔
’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق سکیش چندرشیکھر کی زندگی کا آغاز جنوبی انڈیا کے شہر بنگلورو سے ہوا، جہاں وہ ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا۔
اس کے والد آٹو پارٹس کے کاروبار سے وابستہ تھے اور جُزوقتی مکینک بھی تھے، جبکہ چندرشیکھر بچپن ہی سے شاہانہ زندگی، مہنگی گاڑیوں اور طاقتور شخصیات کے اندازِ زندگی سے متاثر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سکول کے زمانے میں جب اس کے ساتھی لگژری گاڑیوں میں آتے تھے تو وہ خود کو کمتر محسوس کرتا تھا، اور شاید یہی احساس بعد میں اس کے جرائم کی بنیاد بن گیا۔
صرف 17 برس کی عمر میں سکیش چندرشیکھر نے پہلا بڑا دھوکہ کیا۔ پولیس کے مطابق وہ اپنے پاس بنگلورو پولیس کمشنر کا جعلی خط رکھتا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسے کم عمری کے باوجود گاڑیاں چلانے کی اجازت حاصل ہے۔
اسی زمانے میں اس نے کرناٹک کے اس وقت کے وزیراعلٰی ایچ ڈی کمارا سوامی کے بیٹے کا قریبی دوست بن کر ایک خاندان سے قریباً ایک کروڑ 14 لاکھ روپے ہتھیا لیے۔ اس نے متاثرہ شخص کو یقین دلایا کہ وہ بنگلورو ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے قبضے سے زمین واپس دلوا سکتا ہے۔
پولیس جب اس تک پہنچی تو اس کے زیراستعمال گاڑیوں اور شاہانہ طرزِ زندگی نے سب کو حیران کردیا۔ ایک نوجوان لڑکے کے پاس ’بی ایم ڈبلیو‘، ’نسان‘، ’ہونڈا سٹی‘، ’ہونڈا اکارڈ‘ جیسی مہنگی گاڑیاں، قیمتی گھڑیاں، سونے کے زیورات اور مہنگے موبائل فون موجود تھے۔ سکیش چندرشیکھر بنگلورو کی ریسنگ اور ڈریگ کار کلچر میں بھی کافی مشہور تھا۔
مگر یہ تو صرف آغاز تھا۔ وقت کے ساتھ سکیش کے فراڈ مزید پیچیدہ اور خطرناک ہوتے گئے۔ اس نے کبھی خود کو وزیراعلٰی کا سیکریٹری ظاہر کیا، کبھی سی بی آئی افسر، کبھی وزیراعظم آفس کا اہلکار اور کبھی کسی مرکزی وزارت کا نمائندہ۔
اس کے طریقۂ واردات میں جدید ٹیکنالوجی، سپوف کالز، ورچوئل نمبرز اور جعلی شناختوں کا استعمال شامل تھا۔ پولیس اور تحقیقاتی اداروں کے مطابق اس نے ایک منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا، جو مختلف شہروں میں سرگرم رہتا تھا۔
سنہ 2011 میں چندرشیکھر کو ایک ایسے کیس میں گرفتار کیا گیا جس میں اس نے خود کو اس وقت کے وزیراعلٰی کرناٹک بی ایس یدی یورپا کا سیکریٹری ظاہر کر کے تاجروں سے سرکاری ٹھیکوں کے نام پر رشوت وصول کی۔
اسی دوران اس کی ملاقات لینا ماریا پال سے ہوئی، جو بعد میں اس کی اہلیہ بنی اور متعدد مقدمات میں شریکِ ملزم بھی قرار پائیں۔

لینا ماریا پال نے سکیش چندر شیکھر سے شادی کر رکھی تھی (فائل فوٹو: انسٹاگرام)

یہ جوڑی بعد میں مختلف شہروں میں فراڈ کے نت نئے منصوبے بناتی رہی۔ ایک کیس میں سکیش چندرشیکھر نے ایک ٹیکسٹائل کمپنی سے یہ کہہ کر لاکھوں روپے وصول کیے کہ وہ بالی وڈ کی معروف اداکارہ کترینہ کیف کو ان کے پروگرام میں لا سکتا ہے۔
بعد ازاں سنہ 2013 میں اس نے ایک کاروباری جوڑے کو جعلی سرکاری منصوبے کے نام پر قریباً 19 کروڑ روپے کا چُونا لگایا۔ اس بار اس نے خود کو کرناٹک کیڈر کا آئی اے ایس افسر ظاہر کیا اور خواتین کے لیے سینیٹری نیپکن مشینوں کے بڑے سرکاری کونٹریکٹ کا جھانسہ دیا۔
تاہم سکیش چندرشیکھر کو اصل شہرت سنہ 2017 کے بعد ملی، جب اس کا نام ایک بڑے سیاسی رشوت سکینڈل میں سامنے آیا۔ اس وقت وہ دہلی کی تہاڑ جیل میں قید تھا، مگر الزام یہ تھا کہ اس نے اے آئی اے ڈی ایم کے دھڑے کو انتخابی نشان دلوانے کے لیے الیکشن کمیشن کے افسران تک رسائی کا دعویٰ کیا اور کروڑوں روپے وصول کیے۔
اسی کیس کے دوران انکم ٹیکس حکام نے اس سے وابستہ لگژری گاڑیاں ضبط کیں، جن میں لیمبرگینی، بینٹلے، رولز رائس، پورشے، رینج روور اور جیگوار شامل تھیں۔
حیران کن بات یہ تھی کہ جیل میں ہونے کے باوجود سکیش چندرشیکھر کی سرگرمیاں رُکی نہیں۔ تفتیشی اداروں کے مطابق وہ جیل کے اندر بیٹھ کر موبائل فونز اور خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے اپنے فراڈ آپریشنز چلاتا رہا۔ اس پر الزام ہے کہ وہ جیل حکام کو ہر ماہ کروڑوں روپے رشوت دیتا تھا تاکہ اسے خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں اور اس کی سرگرمیوں پر خاموشی اختیار کی جائے۔

سکیش چندرشیکھر کی زندگی کے وہ پہلو بھی بے نقاب کیے جن میں بالی وڈ شخصیات سے اس کے تعلقات شامل تھے (فائل فوٹو: انسٹاگرام)

سنہ 2021 میں اس کا سب سے بڑا فراڈ منظرِعام پر آیا۔ آدیتی سنگھ نے دہلی پولیس کو شکایت درج کروائی کہ ایک شخص نے خود کو لا سیکریٹری ظاہر کرکے ان سے قریباً 200 کروڑ روپے وصول کیے۔ اس شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ان کے شوہر شیوندر سنگھ کے قانونی مسائل حل کرا سکتا ہے۔ بعد میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ شخص سکیش چندرشیکھر تھا، جو جیل کے اندر سے پورا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔
اسی کیس نے چندرشیکھر کی زندگی کے وہ پہلو بھی بے نقاب کیے جن میں بالی وڈ شخصیات سے اس کے تعلقات شامل تھے۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ اس نے مبینہ طور پر اپنے غیرقانونی اثاثوں سے کئی اداکاراؤں اور مشہور شخصیات پر بے تحاشا رقم خرچ کی، جن میں جیکلین فرنینڈز اور نورا فتحی کے نام خاص طور پر زیرِبحث آئے۔
سکیش چندرشیکھر کی کہانی جُرم، دولت، طاقت اور دھوکے کے ایسے امتزاج کی مثال ہے جس نے پورے انڈیا کو حیران کردیا۔ ایک ایسا نوجوان جو کبھی جعلی اجازت نامے کے ساتھ گاڑیاں چلاتا تھا، بعد میں ملک کے طاقتور اداروں اور امیر ترین افراد کو اپنی چالاکی سے دھوکہ دیتا رہا۔ مگر اس کی زندگی یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ جھوٹ اور جعل سازی پر کھڑی کی گئی سلطنت آخرکار اپنے ہی بوجھ سے گِر جاتی ہے۔

شیئر: