Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

العلا: حجر کا آثارِ قدیمہ نبطی تہذیب کا تعمیراتی شاہکار

حجر کا آثارِ قدیمہ کا مقام العلا میں واقع ہے اور نبطی طرزِ تعمیر کی مہارت کا ایک نمایاں ثبوت ہے۔ یہ مقام پہلی صدی قبل مسیح سے پہلی صدی عیسوی کے درمیان براہ راست ریتیلے پتھروں کے پہاڑوں کو تراش کر بنایا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس مقام پر کل 141 چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے مقبرے موجود ہیں جن میں سے 93 مقبروں کے بیرونی حصے نہایت خوبصورت اور پیچیدہ جیومیٹری نقش و نگار سے مزین ہیں۔

یہ تعمیرات مقامی طرز تعمیر کو یونانی اور مشرقِ قریب کے اثرات کے ساتھ خوبصورتی سے یکجا کرتی ہیں۔ ان میں تزیئن اور آرائش کے عناصر شامل ہیں جیسے سیڑھی نما ستونوں کے سر (سٹیپڈ کیپیٹلز)، عمارت کے بیرونی حصے میں تکون والا ڈیزائن (پیڈیمنٹس) اور علامتی نقش و نگار، جن میں عقاب، شیر، اور مصری کنول کا پھول شامل ہیں جو دوبارہ زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ان کی خوبصورتی کے علاوہ یہ بیرونی حصے تاریخی ریکارڈ کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ چٹانوں پر کندہ تحریریں مرنے والوں کی سماجی حیثیت ظاہر کرتی ہیں جن میں طبیب اور فوجی رہنما بھی شامل تھے۔

حجر، یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہونے والا سعودی عرب کا پہلا مقام ہے جو نبطیوں کی چٹانوں کو تراش کر تعمیر کرنے کی مہارت اور قدیم تجارتی راستوں پر ان کے اہم اور سٹریٹیجک کردار کو نمایاں کرتا ہے۔

آج یہ مقام ایک اوپن ایئر میوزیم کی حیثیت رکھتا ہے جہاں لحیانی، ثمودی اور نبطی رسم الخط اب بھی شمالی عرب کے لسانی ارتقا کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔

شیئر: