Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپین میں ایک صدی بعد مکمل سورج گرہن، ’میرے جسم میں کپکپی طاری ہوگئی‘: تصاویر

سپین میں بدھ کا دن لمحاتی طور پر رات میں بدل گیا جب ملک نے ایک صدی سے زائد عرصے بعد اپنا پہلا مکمل سورج گرہن دیکھا جو فطرت کے عظیم ترین مظاہر میں سے ایک ہے۔
انسانی تاریخ میں سورج گرہن ہمیشہ حیرت، خوف اور عقیدت کا باعث رہا ہے، کیونکہ یہ بظاہر فطرت کے معمول کو لمحاتی طور پر روک دیتا ہے۔

سورج اور چاند کی صف بندی سے پیدا ہونے والا سایہ ایک عجیب سا غروب کا منظر بناتا ہے، جس دوران درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے، سائے عجیب زاویوں پر پڑتے ہیں اور کچھ جانور سو جاتے ہیں۔

سورج کی بیرونی کرونا کی نازک روشنی سائے دار چاند کے کناروں سے جھلک رہی تھی جس کو دیکھ کر بڑے ہجوم نے حیرت اور خوشی کے نعرے بلند کیے۔

سپین میں چاند کا سایہ ایک تنگ راستے میں شمالی ساحل سے لے کر بیلیئرک جزائر تک ترچھا حرکت کرتا رہا، جہاں سیاح اور مقامی لوگ، کئی حفاظتی چشمے اور تیراکی کے لباس پہنے ساحل پر جمع ہوئے۔

یہ گرہن 2006 کے بعد یورپ کی سرزمین پر پہلا تھا جو گرین لینڈ کے کچھ حصوں پر سایہ ڈالتا ہوا، آئس لینڈ کے دارالحکومت کے قریب کیفلاوِک کو ڈھانپ کر شمالی سپین کی طرف بڑھا۔

فرانسیسی پہاڑ پیِک دو میدی کی چوٹی پر، گھنے بادل چند منٹ پہلے چھٹ گئے، جس نے زائرین کو یہ منظر دیکھنے کا موقع دیا۔

خصوصی چشموں کی مانگ بہت زیادہ تھی، کیونکہ یورپ، کینیڈا، شمالی امریکہ اور شمال مغربی افریقہ میں جزوی گرہن دیکھا جا سکتا تھا۔

سائنسدانوں کے لیے سورج کی فضا اور اس کی بیرونی پرت کا مطالعہ کرنے کا نادر موقع تھا، تاکہ وہ شمسی ہواؤں اور سورج کے مقناطیسی میدان کے راز جان سکیں۔

گرہن کے جوش نے سپین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، حکومت کی پیش گوئی تھی کہ تقریباً ساڑھے چار لاکھ اضافی سیاح ملک کی معیشت کو 347 ملین یورو کا فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

 

شیئر: