دہلی کی گرد آلود فضا میں ایک شخص ایسا بھی دکھائی دیتا ہے جو ننھا سا درخت لگا رہا ہے اور ایسا کوئی پہلی بار نہیں بلکہ نصف صدی سے کرتا آ رہا ہے، اس عزم کے ساتھ کہ تیزی سے ختم ہوتے سبزے کو بچایا جائے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں ایک ایسی شخصیت کا حوالہ دیا گیا ہے جن کو بابائے پیڑ اور پیپل بابا کے ناموں سے جانا جاتا ہے جبکہ ان کا اصل نام سوامی پریم پریورتن ہے۔
مزید پڑھیں
-
ماحولیاتی نظام کی بحالی، سعودی عرب کے لیے اقوام متحدہ کا ایوارڈNode ID: 907862
انہوں نے نئے لگائے گئے پودے کے گرد پودے کے گرد کھاد ڈالتے ہوئے کہا کہ ’جب میں جوان تھا تو ایک سپاہی کی طرح پودے لگایا کرتا تھا۔‘
یہ ان لاکھوں پودوں میں ایک نیا اضافہ تھا جو ان کی ٹیمیں مختلف علاقوں میں اب تک لگا چکی ہیں۔
وہ کہتے ہیںکہ ’پودے لگانے کا جو کام میں نے اکیلے شروع کیا تھا وہ اب ایک تحریک بن گیا ہے۔‘
60 سال کی عمر میں انہوں نے درختوں سے اپنی بچپن کی محبت کو انڈیا کی بڑی شجرکاری کی مہموں میں بدل دیا ہے۔

’ہم حکومتوں کے اقدامات کا انتظار نہیں کیا، دوستوں، رضاکاروں، مسافروں اور ٹری لورز کو اپنے ساتھ ملایا۔‘
30 کروڑ کی آبادی رکھنے والے شہر دہلی میں لوگوں کو موسم گرما میں سخت گرمی اور سرما میں شدید فضائی آلودگی کا سامنا رہتا ہے کی مشکلات کا حل بھی پیپل بابا کے پاس موجود ہے۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہاکہ ’ایک درخت لگائیں، اس کا خیال رکھیں اور پھر ایک اور درخت لگائیں، یہ بہت سادہ بات ہے۔‘
وہ کہتے ہیں ماحول کے تحفظ کے لیے ہم جتنا بھی تھوڑا بہت کر سکتے ہیں، ہمیں ضرور کرنا چاہیے کیونکہ سبزہ زندگی ہے۔
پیپل بابا کے لیے یہ یاد نہیں کہ انہوں نے اب تک کتنے درخت لگائے یا زمین کے کتنے حصے کو سر سبز کیا۔
ان کی تنظیم کے اندازے کے مطابق دو لاکھ 70 ہزار ہیکٹر یا 27 سو مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پودے لگائے جا چکے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اب تک دو کروڑ 60 لاکھ کے قریب درخت لگائے یا محفوظ بنائے جا چکے ہیں۔
تاہم پیپل بابا کو اصل تعداد یا رقبہ یاد نہیں۔
’میں کبھی درختوں کے سائے کو اعداد کی طرح شمار نہیں کیا، بات ایک، دو یا ہزار درخت لگانے کی نہیں بلکہ اس زمین کی دیکھ بھال کی ہے جہاں یہ پودے اگتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ درختوں سے محبت ان کے اندر ان کی دادی اور ایک باغ نے پیدا کی جہاں وہ ان کے ساتھ مل کر پودوں کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے۔
انہوں نے گیارہ سال کی عمر میں پہلی بار چند درخت لگائے جن میں پیپل کا ایک درخت بھی شامل تھا، جو چند مذاہب کے نزدیک کافی مقدس بھی سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے اپنی خود نوشت میں درختوں کو انسانی امید کے لیے کولنگ ٹاورز قرار دیا ہے۔

یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے بعد انہوں نے اپنا تدریس کا شعبہ چھوڑ دیا اور ایک سکوٹر پر نکل پڑے تاکہ لوگوں کو درخت لگانے کی ترغیب دے سکیں انہوں نے انڈیا بھر کے سفر کیے جس کے دوران ہی ایک شخص نے ان کو پہلی بار پیپل بابا کہا، جو بعد میں مشہور ہو گیا۔
انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’میرے اس نام نے میرے سکوٹر سے زیادہ تیزی سے سفر طے کیا۔‘
رپورٹ کے مطابق ان کا اندازہ ہے کہ انہوں نے پانچ لاکھ 40 ہزار کلومیٹر کے قریب سکوٹر پر سفر کیا۔
اس دوران وہ جہاں بھی ہوتے سو جاتے، وہ مندروں میں بھی سوئے، بس سٹاپس پر بھی اور درختوں کے نیچے بھی، صبح اٹھ کر لوگوں کو پھر درخت لگانے کا کہتے اور وہاں درخت لگاتے بھی، اس کے بعد آگے چلے جاتے۔












