Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’دن میں رات ہو گئی‘، روس میں سورج گرہن، اب سپین میں ہوگا، شہری پرجوش

سورج گرہن دیکھنے کے لیے استعمال ہونے والی خصوصی عینکوں کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے (فوٹو: گیٹی)
قدرت کے عظیم ترین مظاہر میں سے ایک غیرمعمولی اور مکمل سورج گرہن بدھ کے روز شروع ہوا، جس نے مختصر وقت کے لیے روس کے دور دراز شمالی قطبی علاقے میں دن کو رات میں بدل دیا اور پھر یورپ کے وسطی حصوں کی جانب بڑھ گیا۔
چاند نے گرین وچ مین ٹائم کے مطابق تقریباً شام پانچ بجے سب سے پہلے روس کی سرزمین کے انتہائی شمالی سرے پر سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا۔ اس دوران سورج کی بیرونی فضا، یعنی شمسی ہالے کی مدھم اور لرزتی ہوئی روشنی ہی دکھائی دیتی رہی اور اردگرد ایک پُراسرار تاریکی چھا گئی۔
اس کے بعد گرہن کا سایہ گرین لینڈ اور آئس لینڈ کے بعض حصوں سے گزرتا ہوا سپین کی جانب بڑھا، جہاں لوگوں میں جوش و خروش بڑھتا گیا۔ گرہن کا محدود راستہ سپین کے شمال مغربی بحرِ اوقیانوس کے ساحل سے ترچھا گزرتا ہوا بحیرۂ روم تک پہنچا، جہاں گرین وچ مین ٹائم کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے اس کا اختتام متوقع تھا۔
سپین کے عام طور پر پُرسکون رہنے والے دیہات میں سیاحوں اور گرہن کے شوقین افراد کا ہجوم دیکھا گیا، کیونکہ یورپ کے وسطی علاقوں میں گزشتہ 20 برس سے مکمل سورج گرہن نہیں دیکھا گیا، جبکہ سپین میں ایک صدی سے زیادہ عرصے سے مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ نہیں ہوا۔
دوسری جانب آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیاوک میں آخری بار مکمل سورج گرہن سال 1433 میں دیکھا گیا تھا۔
فرانس میں مقیم 50 سالہ پیرو سے تعلق رکھنے والی خاتون یینی گویرا نے شمال مغربی سپین کے شہر برگوس میں اے ایف پی سے جوشیلے انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ پہلی بار ہے اور آخری بار بھی، یعنی میری زندگی میں یہ واحد موقع ہے جب میں سورج گرہن دیکھوں گی۔‘
میڈرڈ سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں واقع کولمینار ویئیخو کے ایک پارک میں گرہن کا انتظار کرنے والی 51 سالہ انجینئر مرسیدیز بوا نے کہا کہ ’مجھے مصوری پسند ہے اور روشنی بھی بہت پسند ہے۔ اس لیے میرے لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس دوران منظر کیسا دکھائی دیتا ہے۔‘
گرہن دیکھنے کے لیے استعمال ہونے والی خصوصی عینکوں کی طلب بھی بہت بڑھ گئی، کیونکہ یورپ کے بیشتر علاقوں، کینیڈا، امریکہ کے شمالی حصوں اور شمال مغربی افریقہ میں کروڑوں مزید افراد کو جزوی سورج گرہن دیکھنے کا موقع ملنا تھا۔
چند لمحوں کا منظر
انسانی تاریخ کے دوران سورج اور چاند گرہن ہمیشہ حیرت، خوف اور عقیدت کا باعث بنتے رہے ہیں، کیونکہ یہ مظاہر کچھ دیر کے لیے ایسا محسوس کراتے ہیں جیسے فطرت کا معمول کا نظام رُک گیا ہو۔

یورپ کے وسطی علاقوں میں گزشتہ 20 برس سے مکمل سورج گرہن نہیں دیکھا گیا (فوٹو: روئٹرز)

سورج اور چاند کی مخصوص سیدھ سے بننے والا گہرا سایہ ایک عجیب و غریب نیم تاریکی پیدا کرتا ہے۔ اس دوران درجۂ حرارت کم ہوجاتا ہے، سایے غیر معمولی زاویوں پر دکھائی دیتے ہیں اور بعض جانور وقت سے پہلے سونے لگتے ہیں۔
تاہم یہ مظہر بہت مختصر وقت کے لیے ہوتا ہے اور صرف چند منٹ تک جاری رہتا ہے۔
جزوی سورج گرہن اُس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج کے سامنے سے گزرنا شروع کرتا ہے اور پھر اس راستے سے آگے بڑھتا ہے، یوں سورج کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے۔ یہ مرحلہ تقریباً ایک گھنٹے اور 45 منٹ تک جاری رہے گا۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی شمسی طبیعیات کی ماہر لوسی گرین دنیا بھر میں سورج گرہن دیکھنے کے لیے سفر کرچکی ہیں، انہوں نے سورج گرہین کو ’ایک دل کو چھو لینے والا تجربہ‘ قرار دیا۔ وہ سپین کے جزیرے مالورکا کے قریب ایک کشتی سے گرہن کا مشاہدہ کریں گی۔
یہ پورا واقعہ ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی دونوں کی جانب سے براہِ راست نشر بھی کیا جائے گا۔ سائنس دانوں کے لیے یہ سورج کے ماحول اور اس کی بیرونی ترین تہہ کا مطالعہ کرنے کا ایک نایاب موقع ہے۔ ماہرین اس کے ذریعے شمسی ہواؤں اور ہمارے ستارے، یعنی سورج، کے مقناطیسی میدان سے متعلق راز جاننے کی کوشش کریں گے۔
موسم بھی اہم کردار ادا کرے گا
شمال مغربی آئس لینڈ کے ویسٹ فِیورڈز کے علاقے میں بارش اس موقع کو خراب کرسکتی ہے۔

یہ پورا واقعہ ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی دونوں کی جانب سے براہِ راست نشر کیا جائے گا (فوٹو: روئٹرز)

سائنس دان اور ماہرِ فلکیات سیور ہیلی براگاسن نے ریکیاوک میں اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’موسم کی ناموافق پیش گوئی کی وجہ سے وہ ’جوش اور دل شکستگی دونوں‘ محسوس کر رہے ہیں۔
تاہم انہیں امید ہے کہ آسمان اتنی دیر کے لیے صاف ہوجائے گا کہ وہ اپنے گھر سے اس منظر کو دیکھ سکیں، جسے انہوں نے ’ہماری زندگی کی مختصر ترین، اچانک نمودار ہونے والی، خوبصورت ترین، منفرد ترین اور یادگار ترین رات‘ قرار دیا۔
تاہم سپین میں ایسے کسی مسئلے کا خدشہ ظاہر نہیں کیا جا رہا، جہاں موسم صاف رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ البتہ شدید گرمی اور جنگلات میں آگ لگنے کے مسلسل خطرے کے باعث خدشات موجود ہیں۔
سورج گرہن کے باعث سپین میں غیر معمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار اضافی سیاح ملک کا رُخ کرسکتے ہیں، جس سے ملکی معیشت کو تقریباً 347 ملین یورو (تقریباً 400 ملین ڈالر) کا اضافی فائدہ ہوسکتا ہے۔
سپین کے وزیر داخلہ فرنانڈو گرانڈے مارلاسکا نے بتایا کہ ’ملک میں تقریباً 25 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ یہ پورا پروگرام کسی رکاوٹ کے بغیر مکمل ہوسکے۔‘
برطانوی ماہرِ فلکیات اور سائنس کے فروغ کے لیے کام کرنے والے گراہم جونز نے منگل کے روز شمالی سپین کے علاقے فونتانِل دے لوس اوتروس سے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مکمل گرہن کا راستہ بہت محدود ہوتا ہے۔ اس کی چوڑائی صرف چند سو کلومیٹر ہوتی ہے۔‘

انسانی تاریخ کے دوران سورج اور چاند گرہن ہمیشہ حیرت، خوف اور عقیدت کا باعث بنتے رہے ہیں (فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے کہا کہ ’سپین کی خاص بات یہی ہے کہ مکمل گرہن کا راستہ پورے جزیرہ نما سپین سے گزرتا ہے۔‘
اگست 2027 میں ایک اور مکمل سورج گرہن جنوبی سپین اور شمالی افریقہ سے گزرے گا، جبکہ سال 2028 میں جزیرہ نما آئبیریا میں سورج گرہن دیکھا جائے گا جس کے گرد حلقہ دکھائی دے گا۔ ایسا گرہن اُس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپنے کے لیے اس قدر بڑا دکھائی نہیں دیتا اور سورج کے گرد روشنی کا ایک روشن دائرہ نظر آتا ہے، جسے عام طور پر ’آگ کا حلقہ‘ کہا جاتا ہے۔

شیئر: