مصنوعی ذہانت کے خطرات، امریکہ اور چین کا کمیونیکشن چینل قائم کرنے پر اتفاق
صدر شی کا کہنا تھا ’ہم دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے کہ ہم اے آئی کو بہتری کے لیے تیار کریں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ اور چین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے جڑے متوقع خطرات اور حوادث سے نمٹنے کے لیے ایک باقاعدہ کمیونیکیشن چینل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ہونے والے حالیہ سربراہی اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے جس میں گفتگو کا بڑا محور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے چیلنجز رہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ شیٹ کے مطابق دونوں ممالک نے اے آئی کے فائدے اور خطرات پر تبادلہ خیال کے لیے ’یو ایس - چائنا سپر انٹیلی جنس ڈائیلاگ‘ کا آغاز کر دیا ہے۔
بیان میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ’مصنوعی ذہانت’کے بجائے ’سپر انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
فریقین کے درمیان اس سلسلے میں اگلا مذاکراتی دور رواں برس نومبر تک توقع کے مطابق طے پائے گا۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک نے کسی بھی ایمرجنسی یا ممکنہ حادثے کی صورت میں فوری رابطے کے لیے ایک ’دوطرفہ کمیونیکیشن چینل‘ قائم کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔
سربراہی اجلاس سے قبل سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے ایک بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’سپر انٹیلی جنس پر تفصیلی بات چیت ہو گی، تاہم میں اس معاملے کو بالکل اسی حالت میں چھوڑنا چاہتا ہوں جہاں یہ فی الوقت موجود ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ چین کا موقف بھی اس معاملے پر یہی ہے۔
دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے زیادہ محتاط اور سنجیدہ موقف اختیار کیا۔
انہوں نے دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان حریفانہ تعلقات کو متوازن رکھنے اور مصنوعی ذہانت کو انسانی کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر شی کا کہنا تھا ’ہم دونوں ممالک کے پاس یہ صلاحیت اور ذمہ داری ہے کہ ہم اے آئی کو بہتری کے لیے تیار کریں اور اس کے استعمال کو سنبھالیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت کی ارتقاء ہمیشہ انسانی کنٹرول میں رہے۔‘
