سپین:خاتون کی پاکستان میں کزن سے جبری شادی کروانے والے دو افراد گرفتار
اپریل میں پولیس کو اطلاع دی گئی کہ خاتون کو اُس کے خاندان کے افراد زبردستی پاکستان لے گئے ہیں (فوٹو: ایل پائیس)
ہسپانوی پولیس نے سنیچر کو کہا کہ ایک خاتون کو پاکستان سے بازیاب کروا کر سپین واپس پہنچا دیا گیا ہے جنہیں مبینہ طور پر دھوکے سے پاکستان لے جایا گیا اور وہاں اُن کی مرضی کے خلاف اُس کے ایک کزن سے اُن کی شادی کر دی گئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کاتالونیا کی علاقائی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ 41 اور 45 سال کی عمر کے دو افراد کو 21 جولائی کو بارسلونا ایئرپورٹ سے انسانی سمگلنگ اور جبری شادی کے مقصد سے سمگلنگ کے شبہے میں گرفتار کیا گیا۔
خاتون ستمبر 2025 میں پاکستان گئی تھیں۔ اِن کے ایک رشتہ دار نے مبینہ طور پر اِن سے کہا تھا کہ اِن کے خاندان نے ایک پاکستانی شہری کے ساتھ اِن کے تعلقات کی مخالفت ختم کر دی ہے۔ مذکورہ شخص بارسلونا میں کمپیوٹر کی دکان چلاتا ہے۔
تاہم پاکستان پہنچنے کے بعد مبینہ طور پر رشتہ داروں نے ان کا ہسپانوی پاسپورٹ اپنے قبضے میں لے لیا اور ان کو گھر تک محدود کر دیا اور ان کی مرضی کے خلاف اُن کی ایک کزن سے شادی طے کر دی۔
خاتون کے ساتھی نے اپریل میں پولیس کو اطلاع دی کہ خاتون کو اُن کے خاندان کے افراد زبردستی پاکستان لے گئے ہیں۔
اس سے قبل بارسلونا میں اِس خاتون کے ساتھی پر بھی ایک دھار دار ہتھیار سے حملہ کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس حملے میں ملوث ہونے کے شبے پر دو افراد کا اِس کیس سے مبینہ طور پر تعلق تھا۔
سپین کی پولیس نے پاکستان میں موجود اپنے سفارت خانے کے تعاون سے بعدازاں خاتون کا سراغ لگایا اور انہیں بازیاب کروا کر سپین واپس لانے کے انتظامات کیے۔
پولیس کے مطابق سپین واپسی کے بعد خاتون کو خصوصی ماہرین کی مدد اور معاونت فراہم کی گئی۔
پولیس نے کہا کہ ’تفتیش تاحال جاری ہے اور حکام ان تمام افراد کی شناخت کی کوشش کر رہے ہیں جو خاتون کی مبینہ جبری شادی اور اُس کے ساتھی پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے۔‘
بارسلونا میں پاکستانی کمیونٹی خاصی بڑی تعداد میں موجود ہے۔ شہر میں 26 ہزار سے زیادہ پاکستانی شہری رجسٹرڈ ہیں، جس کے باعث پاکستانی شہری وہاں غیر ملکی قومیت رکھنے والے شہریوں میں تیسرا سب سے بڑا گروہ ہیں۔
سپین میں ان سے زیادہ تعداد میں صرف اطالوی اور کولمبیائی شہری ہی بستے ہیں۔
