Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان میں حملے: سکیورٹی گارڈ اور قبائلی رہنما سمیت تین افراد ہلاک، 12 مزدور اغوا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے اضلاع دکی، ڈیرہ بگٹی اور خضدار میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مسلح افراد کے حملوں، فائرنگ اور اغوا کے الگ الگ واقعات پیش آئے ہیں جن میں ایک سکیورٹی گارڈ اور ایک قبائلی رہنما سمیت کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق دکی اور ڈیرہ بگٹی کے علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سرچ آپریشن اور حملہ آوروں کا محاصرہ جاری ہے۔
دکی میں مزدوروں کا اغوا
پہلا واقعہ ضلع دکی میں نانا صاحب زیارت کے قریب علاقے ’پلڑی‘ میں پیش آیا جہاں ایس پی دکی منصور احمد بزدار کے مطابق 40 سے 50 مسلح افراد نے ایک نجی تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کر دیا۔
حملہ آوروں نے کیمپ میں کھڑی کمپنی کی چار گاڑیوں کو آگ لگا دی اور شدید فائرنگ کی۔
ایس پی دکی نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں وہاں تعینات ایک نجی سکیورٹی گارڈ جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔
مسلح افراد کیمپ میں موجود 12 مزدوروں کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مغویوں میں دس کا تعلق پنجاب اور ایک کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان جبکہ ایک مقامی مزدور شامل ہیں۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مغویوں کی بازیابی کے لیے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ڈیرہ بگٹی: گیس کمپنی کے کیمپ پر حملہ
دوسری جانب وزیراعلی بلوچستان کے آبائی ضلع نارتھ ڈیرہ بگٹی کے علاقے بیکڑ میں بی لوٹی کے مقام ’کھجوری‘ پر گیس تلاش کرنے والی ایک کمپنی کے کیمپ کو نامعلوم مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔
حملے کے بعد کیمپ کی حفاظت پر مامور مقامی امن فورس (پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز) اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
ایس پی نارتھ ڈیرہ بگٹی سردار محمد ہاشم نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں امن فورس کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے انڈس ہسپتال سوئی پہنچایا  گیا۔ بعد ازاں ایئر ایمبولینس کے ذریعے سکھر منتقل کردیا گیا۔
ایس پی نارتھ ڈیرہ بگٹی  کے مطابق اطلاعات ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور ایف سی کی نفری موقعے پر پہنچ گئی۔
مقامی پولیس کے مطابق کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے مقابلے میں کم از کم پانچ حملہ آور مارے گئے جبکہ تین زخمی ہوئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فورسز اور امن فورس کے اہلکاروں نے باقی ماندہ حملہ آوروں کو محاصرے میں لے رکھا ہے اور کارروائی جاری ہے۔
خضدار میں قبائلی رہنما کا قتل
بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل نال میں بھی 26 اور 25 ستمبر کی درمیانی شب بے امنی کا واقعہ دیکھنے میں آیا جہاں مسلح افراد شہر کے مختلف علاقوں میں داخل ہو گئے اور مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر دی۔
نال عیدگاہ کے قریب مسلح افراد نے فائرنگ کر کے مقامی قبائلی رہنما میر غلام نبی سیاہ پاد کو قتل کر دیا۔
اس کے علاوہ مسلح افراد نے ایک سابق صوبائی وزیر کے گھر کے سامنے بھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص شدید زخمی ہو گیا۔
واقعات کے بعد حملہ آور قریب موجود پہاڑوں کی جانب فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
فی الحال کسی بھی کالعدم تنظیم نے ان تینوں واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

شیئر: