نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 1204 ہو گئی، 4216 افراد تاحال لاپتہ
نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 1204 ہو گئی، 4216 افراد تاحال لاپتہ
بدھ 2 ستمبر 2026 18:03
چین اور نیپال کی سرحد پر آنے والے تباہ کُن سیلاب کے نتیجے میں نیپال میں کم سے کم 1 ہزار 204 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ 4 ہزار 216 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ’یہ تازہ عداد و شمار نیپال کی ڈیزاسٹر اتھارٹی کی جانب سے اِس قدرتی آفت کے ایک ہفتے بعد بدھ کو جاری کیے گئے ہیں۔‘
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق بدھ تک تبت میں 21 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 541 افراد لاپتا ہیں۔ اس طرح 26 اگست کو آنے والے اِس تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1 ہزار 225 ہو گئی ہے جبکہ 4 ہزار 757 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
نیپال میں بدھ 26 اگست کو تبت سے متصل علاقے میں آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور عمارتیں، پُل اور بجلی گھر بھی سیلاب کی زد میں آگئے۔
نیپال اور تبت میں آنے والے شدید سیلاب کے بعد دنیا کے کئی ممالک وہاں امدادی سامان بھجوانے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں سڑکیں بہہ جانے کی وجہ سے امدادی سامان کو پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
نیپال کے وزیرِ خزانہ سوارنیم واگلے نے روئٹرز کو بتایا کہ ’سیلاب سے ہونے والے نقصانات بہت زیادہ ہیں اور اس تباہی کے بعد تعمیرِ نو کے لیے قریباً 4 سے 5 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔‘
رپورٹس کے مطابق سیلابی ریلوں سے قبل گڑگڑاہٹ کی آواز سنی گئی اور جھٹکے بھی محسوس ہوئے جن کو حکام کی جانب سے زلزلے کے باعث ہونے والی تباہی قرار دیا گیا۔
تاہم دوسری جانب امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ ’نیپال میں زلزلہ نہیں آیا بلکہ یہ تباہی گلیشیئر کے ٹُوٹنے کی وجہ سے ہوئی جس کے نتیجے میں برف اور ملبے کا ایک بہت بڑا ریلہ نیچے کی طرف بہہ نکلا۔‘
اس واقعے کی وجہ موسمیاتی تبدیلی کو قرار دیا جا رہا ہے جو اس سے قبل بھی کئی ممالک میں سانحات کی وجہ بن چکی ہے۔
ہائیڈروپاور منصوبوں کی سُرنگوں میں پھنسے کارکنوں کو تلاش کرنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں گلیشیئر تیزی سے پِگھل رہے ہیں اور اِن کے ٹُوٹنے کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔‘
ائیڈروپاور منصوبوں کی سُرنگوں میں پھنسے کارکنوں کی تلاش جاری
نیپالی امدادی کارکنوں نے بدھ کو تباہ کن سیلاب کے ایک ہفتے بعد ہائیڈروپاور منصوبوں کی سُرنگوں میں پھنسے افراد کو تلاش کرنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری رکھیں۔
حکام کے مطابق ’امدادی ٹیموں کو کئی جگہوں پر کوئی راستہ نہیں ملا اور تاحال کسی شخص کے زندہ ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔‘
حکومت نے ابتدا میں یہ بیان دیا تھا کہ ’اسے امید ہے کہ مختلف سُرنگوں میں 100 سے زیادہ مزدور زندہ ہو سکتے ہیں۔‘
قومی ادارہ برائے قدرتی آفات سے نمٹنے کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’سُرنگوں میں تلاش اور امدادی کارروائی اب بھی جاری ہے اور غیر ملکی ٹیمیں بھی اس کام میں مدد کر رہی ہیں۔‘
قومی ادارے کے مطابق 26 اگست کو کیچڑ اور ملبے کا ایک بڑا ریلہ آنے کے بعد سے ہائیڈروپاور منصوبوں میں کام کرنے والے 639 کارکن لاپتہ ہیں۔‘