’بیگ چھوڑو، بھاگو‘، سیلاب کی زد میں آنے والے نیپالی سکولوں اور بچوں پر کیا بیتی؟
’بیگ چھوڑو، بھاگو‘، سیلاب کی زد میں آنے والے نیپالی سکولوں اور بچوں پر کیا بیتی؟
پیر 31 اگست 2026 7:33
نیپال کی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ ایجنسی کے مطابق اتوار تک مرنے والوں کی تعداد 788 ہو چکی تھی (فوٹو: روئٹرز)
بدھ کو نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے دوران ایک سکول کے طلبہ اس لیے محفوظ رہے کیونکہ اس وقت وہ خوش قسمتی سے لنچ بریک پر تھے اور کلاس رومز سے باہر تھے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ میں دھادنگ کے علاقے کے میں قائم ایک اور سکول کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے جہاں ٹیچر نے پانی آنے سے چند لمحے قبل کلاس روم خالی کرنے کو کہا تھا۔
اسی سکول کے طالب علم والدہ لکشمی شریستھا کا کہنا ہے کہ بچوں کو ٹیچر نے کہا کہ سیلاب آ رہا ہے جلدی باہر نکل جاؤ، بیگ اور ٹفن چھوڑ دو، اس طرح ان کی جانیں بچیں۔
اتوار کے روز وہ دیگر خواتین اور بچوں کے ساتھ اسی سکول واپس آئیں تاکہ اپنے بچوں کی چیزیں تلاش کر سکیں۔
وہاں آنے والے زیادہ تر لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کے بچے محفوظ رہے۔
سکول کی دیواروں پر کیچڑ کی موٹ تہہ جمی ہوئی تھی جبکہ کیچڑ میں پھنسے ہوئے بعض بستے بھی ملے اور صحن بھی گارے سے بھرا ہوا تھا، چھت تک پانی کے نشانات موجود تھے۔
بچوں نے کیچڑ میں پھنسے بیگز اٹھا کر ایک جگہ پر اکٹھے کیے اور دیکھ رہے تھے کہ کون سا بیگ کس کا ہے۔
انہی لوگوں میں کوپلا میزار بھی موجود تھیں، جو ایک بچے کی والدہ ہیں وہ کوشش کے باوجود بھی اپنے بیٹے کا بیگ تلاش نہ کر سکیں تاہم وہ اسی پر خوش ہیں کہ ان کا بچہ زندہ ہے۔
’میرا بچہ میرے پاس ہے، میرے لیے خوش قسمتی کی سب سے بڑی بات یہی ہے۔‘
غیر سرکاری تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق نیپال میں سیلاب سے کم سے کم 69 سکول متاثر ہوئے اور انیس ہزار کے قریب طلبہ کا تعلیمی سلسلہ متاثر ہوا ہے۔
تنظیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امدادی ٹیموں کے مزید علاقوں تک پہنچنے پر یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق نیپال میں سیلاب سے کم سے کم 69 سکول متاثر ہوئے ہیں (فوٹو: اے پی)
بدترین لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے بعد حکومت نے سکول اور یونیورسٹیاں بند کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ امتحانات بھی روک دیے گئے تھے۔
ملک کے مختلف حصوں میں اب بھی سیلاب کی وارننگز موجود ہیں اور لوگوں کو محفوظ اور بلند مقامات پر جانے کا کہا جا رہا ہے، اس صورت حال میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ تعلیمی ادارے کب تک دوبارہ کھلیں گے۔
نیپال کی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ ایجنسی کے مطابق اتوار تک مرنے والوں کی تعداد 788 ہو چکی تھی جبکہ دو ہزار پانچ سو دو لاپتہ تھے دوسری جانب سرحد کے دوسری طرف چینی علاقے میں 16 ہلاکتوں کی اطلاع ہے اور پانچ سو 46 افراد لاپتہ ہوئے۔
لاپتہ افراد میں 12 سے زائد دوسرے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں جو کام، سیاحت یا مقدس مقامات پر جانے کی غرض سے علاقے میں موجود تھے۔
چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ تبت میں 261 غیرملکی لاپتہ ہیں، جن میں سو سے زائد نیپالی شہری اور دنیا کے دیگر ممالک کے افراد بھی شامل ہیں۔
بچوں اور ان کے والدین پانی اتر جانے کے بعد سکول پہنچے (فوٹو: اے پی)
نیپال میں اتوار صبح لوگوں کے موبائل فونز پر سیلاب سے متعلق انتباہی پیغامات بھیجے گئے، جبکہ امدادی ٹیمیں کھٹمنڈو کو بدترین متاثرہ علاقوں میں سے ایک سے ملانے والی اہم شاہراہ سے ملبہ ہٹانے میں مصروف رہیں۔
گلچھی کے قصبے میں شہریوں کا ایک گروپ قریبی پل پر نسبتاً محفوظ اور بلند مقام پر کھڑا ہو کر دریا کے تیز بہاؤ کو دیکھتا رہا۔ شہریوں نے ان بڑے بڑے پتھروں کی جانب اشارہ کیا جو گزشتہ سیلاب کے دوران پانی کے ساتھ بہہ کر آئے تھے، جبکہ پانی کے اوپر بنے معلق پل پر موجود افراد کو سیٹیوں کے ذریعے وہاں سے ہٹنے کی تنبیہ کی گئی۔
دریا کے کنارے کئی مکانات، گاڑیاں اور ٹریکٹر موٹی سرمئی اور بھورے رنگ کی کیچڑ میں دبے ہوئے اب بھی دکھائی دیتے ہیں جس نے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں کے پورے دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ دریا کے کنارے موجود چاول کے کھیتوں کی سیڑھی نما زمین بھی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آئی، جس کے باعث کھیتوں کے کچھ حصے دریا میں بہہ گئے ہیں۔