نیپال میں مزید سیلاب کا الرٹ جاری، ہلاکتوں کی تعداد 750 تک پہنچ گئی
نیپال میں مزید سیلاب کا الرٹ جاری، ہلاکتوں کی تعداد 750 تک پہنچ گئی
اتوار 30 اگست 2026 8:16
نیپال اور تبت میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 750 ہو گئی ہے (فوٹو: اے پی)
نیپال میں حکام نے اتوار کو مزید سیلاب آنے کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے رہائشیوں کو انتہائی چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں میں ہلاکتوں کی تعداد سات سو 50 ہو گئی ہے جبکہ تین ہزار 44 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ کے مطابق یہ وارننگ نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع دریا بھوت کیشی دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد جاری کی گئی ہے۔
اتوار کی صبح لوگوں کے موبائل فونز پر سیلاب سے متعلق انتباہی پیغامات بھیجے گئے، جبکہ امدادی ٹیمیں کھٹمنڈو کو بدترین متاثرہ علاقوں میں سے ایک سے ملانے والی اہم شاہراہ سے ملبہ ہٹانے میں مصروف رہیں۔
گالچھھی کے قصبے میں شہریوں کا ایک گروپ قریبی پل پر نسبتاً محفوظ اور بلند مقام پر کھڑا ہو کر دریا کے تیز بہاؤ کو دیکھتا رہا۔ شہریوں نے ان بڑے بڑے پتھروں کی جانب اشارہ کیا جو گزشتہ سیلاب کے دوران پانی کے ساتھ بہہ کر آئے تھے، جبکہ پانی کے اوپر بنے معلق پل پر موجود افراد کو سیٹیوں کے ذریعے وہاں سے ہٹنے کی تنبیہ کی گئی۔
دریا کے کنارے کئی مکانات، گاڑیاں اور ٹریکٹر موٹی سرمئی اور بھورے رنگ کی کیچڑ میں دبے ہوئے اب بھی دکھائی دیتے ہیں جس نے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں کے پورے دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ دریا کے کنارے موجود چاول کے کھیتوں کی سیڑھی نما زمین بھی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آئی، جس کے باعث کھیتوں کے کچھ حصے دریا میں بہہ گئے ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے بعد نیپال اور تبت میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد سات سو 50 ہو گئی ہے جبکہ تین ہزار 44 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
نیپال کی ’نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی‘ کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 734 ہوگئی ہے جبکہ دو ہزار 498 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
چینی حکام کے مطابق تبت میں 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پانچ سو 46 افراد لاپتہ ہیں، جن میں سو کا تعلق نیپال سے ہے جبکہ بقایا لاپتہ افراد کا تعلق دیگر ایک درجن سے زائد ممالک سے ہے۔
نیپال میں نئی سیلابی وارننگ چینی حکام کی جانب سے نیپالی حکام کو بالائی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے سے آگاہ کیے جانے کے بعد جاری کی گئی ہے۔
وارننگ نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع دریا بھوت کیشی دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد جاری کی گئی ہے (فوٹو: اے پی)
نیپال کی ’نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی‘ کے چیف ایگزیکٹو دھرم راج اپریتی نے ’اے اپی‘ کو بتایا کہ ’چینی حکام نے دریا کے بالائی حصے میں پانی کے بہاؤ میں اضافے سے متعلق نیپالی حکام کو آگاہ کیا تھا۔‘
تاہم سیلاب سے متاثرہ دیہات کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی سیلاب کے بعد سے مسلسل موصول ہونے والے خطرے کے پیغامات نے انہیں شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
مقامی رہائشی گووند شریشٹھا نے بتایا کہ ’کبھی کہا جاتا ہے کہ سیلاب آنے والا ہے، پھر ہمیں دوبارہ بلند مقام کی طرف بھاگنا پڑتا ہے، حتیٰ کہ رات کے وقت بھی۔ بارش بھی ہو رہی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میرے لیے یہ واقعی بہت مشکل ہے۔ میرے والد 72 سال کے اور والدہ 70 سال کی ہیں۔ مجھے انہیں اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے اور میں تھک چکا ہوں۔ جو لوگ زندہ بچے ہیں، ان کے لیے یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔‘
سیلاب کے باعث بڑے کنکریٹ پلوں اور چھوٹے رابطہ پلوں کو بھی نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئے، جس کے نتیجے میں دریا کے دوسری جانب رہنے والی آبادیوں تک رسائی مزید مشکل ہوگئی ہے۔
47 سالہ ستن سنگھ تمانگ بدھ کو سیلاب آنے کے وقت ایک پل کے قریب کام کر رہے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’جو لوگ وہاں ہیں، وہ اب وہیں پھنسے ہوئے ہیں۔ جو یہاں ہیں، وہ یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ بہت مشکل ہونے والا ہے۔‘
سیلاب سے محفوظ رہ جانے والے گھروں اور کاروباری مراکز میں بھی اتوار کو بجلی بحال نہیں ہوسکی۔ بجلی کے مڑے ہوئے کھمبے اور تاریں کیچڑ میں الجھی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
پرتھوی ہائی وے ملک کے مختلف حصوں سے کھانے پینے کی اشیا، ایندھن اور دیگر سامان کھٹمنڈو پہنچانے کے لیے انتہائی اہم سپلائی روٹ ہے۔ شاہراہ کا بیشتر حصہ آمدورفت کے لیے کھلا ہے، تاہم بعض مقامات پر اب بھی مرمت اور بحالی کا کام درکار ہے۔