Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نیپال میں ہلاکتیں 900 سے زیادہ، ٹنلز میں پھنسے سینکڑوں افراد تک پہنچنے کی کوششیں

نیپال میں سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی بڑھتی تعداد کے ساتھ سینکڑوں افراد کے سرنگوں میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ سرنگیں ہائیڈرو منصوبے کے تحت بنائی گئی تھیں جہاں سے بجلی سپلائی کی جاتی ہے، ریسکیو کارکن ان سرنگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کیچڑ میں بری طرح دب چکی ہیں۔
بجلی کمپنیوں کی نمائندگی کرنے والی ایک نجی تنظیم کا کہنا ہے کہ راسوا اور نواکوٹ اضلاع میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کے منصوبوں پرکام کرنے والے قریباً نو سو کارکنوں کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔
انڈیپینڈنٹ پاور پرڈیوسرز ایسوسی ایشن کے صدر موہن کمار کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ ان میں سے زیادہ ترٹنلز میں پھنسے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ ان کا پتہ چلانے کی کوششیں جاری ہیں۔
نیپال میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد نو سو سے بڑھ گئی ہے جبکہ چار ہزار سات سو سے زائد لاپتہ ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تیزی سے کھدائی کا کام کیا جا رہا ہے اور ایک ماہر تعمیرات کا کہنا ہے کہ سرنگ کافی کھلی تھی اور اس میں چھپنے کے لیے کافی جگہ تھی، اس لیے ممکن کہ کچھ کارکنوں کو آکسیجن مل رہی ہو اور وہ زندہ ہوں۔
تاہم دوسری طرف دیگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جن کارکنوں تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے ان کے زندہ ملنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نیپال میں آنے والے سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے (فوٹو: اے پی)

اس سے قبل بھی ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ کچھ کارکن ٹنل میں پھنسے ہو سکتے ہیں، جن کی تلاش کا کام شروع کر دیا گیا تھا تاہم اتنی بڑی تعداد کے بارے میں پتہ نہیں چلا تھا۔
امدادی کام کے دوران مزید بارش کے باعث سرگرمیاں مشکلات کا شکار ہو گئی تھیں۔
دھادنگ کے علاقے میں بنے ایک بجلی گھر کے اوپر سے ملبہ ہٹانے میں شریک ایک کارکن نے اے پی کو بتایا کہ یہ بجلی گھر بڑی بڑی سرنگوں کے اندر بنائے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ 20 ہزار سے زائد لوگوں کو بجلی کی فراہمی کا اہم ذریعہ تھے اور انہیں امید ہے کہ ان کو پھر سے دریا کے کنارے تعمیر نہیں کیا جائے گا۔
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف گراز سے وابستہ ماہر ارضیات جیکب اسٹائنز کا کہنا ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے ایسی سرنگیں دریاؤں کے کنارے اور پانی کا رخ موڑنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، یہ سرنگیں اتنی بڑی ہوتی ہیں کہ ان میں سے ٹرک بھی گزر سکتے ہیں۔

انڈیپینڈنٹ پاور پرڈیوسرز ایسوسی ایشن کے صدر موہن کمار کا کہنا ہے کہ 500 کے قریب کارکن ٹنلز میں موجود ہو سکتے ہیں (فوٹو: اے پی)

ان کے مطابق ’ان سرنگوں میں لوگوں کے محفوظ رہنے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے اور ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ان تک آکسیجن پہنچ رہی ہے اور ان کو نکالنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں، تاہم وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور ان کو پانی اور خوراک کی ضرورت ہو گی۔
سیلاب کے شدیدہ متاثرہ ضلع راسوا میں واقع اپر ترشولی ون منصوبے پر کام کرنے والے کم سے کم 576 افراد لاپتہ ہیں جن میں سے بیشتر کے سرنگ میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔
امدادی کارکن کئی دنوں سے بارش کے دوران ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں۔

شیئر: