نیپال نے سیلاب کے بعد بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے 5 ارب ڈالر کی امداد مانگ لی
نیپال نے سیلاب کے بعد بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے 5 ارب ڈالر کی امداد مانگ لی
ہفتہ 29 اگست 2026 10:44
نیپال نے سنیچر کو خراب موسم کے باعث ریسکیو آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا ہے اور تباہ کن سیلاب سے نمٹنے کے لیے دیگر ممالک سے تکنیکی مدد مانگ لی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق 30 لاکھ آبادی والے اس غریب ہمالیائی ملک میں بدھ کو تبت سے متصل علاقے میں آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔
گلیشیئر کے ٹُوٹنے سے آنے والے شدید سیلابی ریلے میں چٹانیں، برف، کیچڑ اور ملبہ شامل تھا، جو بدھ کو پہاڑوں اور دریاؤں سے تیزی سے گزرا اور تباہی پھیلاتا گیا۔
اس کے نتیجے میں نیپال میں کم سے کم 626 جبکہ چین کے تبت میں 7 افراد ہلاک ہوئے، نیپال میں متعدد عمارتیں، پُل اور بجلی گھر بھی سیلاب کی زد میں آگئے۔
رپورٹس کے مطابق جس علاقے میں سیلاب آیا وہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں قریباً 40 کلومیٹر تک کے علاقے میں سڑکیں اور پُل تباہ ہو گئے ہیں۔
سیلابی ریلے کے بعد علاقے میں قریباً 3 ہزار افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں نیپال کے قریباً 2 ہزار 426 جبکہ تبت کے گیئرونگ کاؤنٹی کے کم سے کم 558 افراد شامل ہیں۔
حکام کے مطابق ’لاپتا افراد میں کم سے کم 540 غیر ملکی بھی شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد انڈیا سے آنے والے ہندو یاتریوں کی ہے جبکہ بیرونِ ملک سے لوگ یہاں ہائیکنگ اور ٹریکنگ کے لیے بھی آتے ہیں۔‘
نیپال کے وزیرِ خزانہ سوارنیم واگلے نے روئٹرز کو بتایا کہ ’سیلاب سے ہونے والے نقصانات بہت زیادہ ہیں اور اس تباہی کے بعد تعمیرِ نو کے لیے قریباً 4 سے 5 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔‘
متاثرہ ضلع رسووا کے ایک اعلٰی سرکاری افسر نریندر پریار نے روئٹرز کو بتایا کہ ’ریسکیو کی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں کیونکہ بارش ہو رہی ہے اور دُھند کی وجہ سے موسم ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ جن یاتریوں کو ریسکیو کیا گیا ہے انہیں زمینی راستے کے ذریعے دارالحکومت کھٹمنڈو پہنچایا جائے۔‘
حکام کے مطابق ’ریسکیو کیے گئے یاتریوں کو زمینی راستے کے ذریعے کھٹمنڈو پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ (فوٹو: اے ایف پی)
نیپال اور تبت میں آنے والے شدید سیلاب کے بعد دنیا کے کئی ممالک وہاں امدادی سامان بھجوانے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں سڑکیں بہہ جانے کی وجہ سے امدادی سامان کو پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام نے جمعے کو بھی امدادی کارروائیاں اُس وقت مختصر وقت کے لیے معطل کر دی تھیں جب نیپال اور چین کی سرحد پر سیلاب کے بعد بننے والی ایک جھیل سے بہت زیادہ مقدار میں پانی کے اخراج کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
حکام اس جھیل سمیت سیلاب زدہ علاقے کے بالائی حصے میں موجود دو جھیلوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ ایک اہلکار نے خبردار کیا کہ جب تک دونوں جھیلیں پانی سے مکمل طور پر خالی نہیں ہو جاتیں، سیلاب کا خطرہ بدستور برقرار رہے گا۔
رپورٹس کے مطابق سیلابی ریلوں سے قبل گڑگڑاہٹ کی آواز سنی گئی اور جھٹکے بھی محسوس ہوئے جن کو حکام کی جانب سے زلزلے کے باعث ہونے والی تباہی قرار دیا گیا۔
تاہم دوسری جانب امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ ’نیپال میں زلزلہ نہیں آیا بلکہ یہ تباہی گلیشیئر کے ٹُوٹنے کی وجہ سے ہوئی جس کے نتیجے میں برف اور ملبے کا ایک بہت بڑا ریلہ نیچے کی طرف بہہ نکلا۔‘
اس واقعے کی وجہ موسمیاتی تبدیلی کو قرار دیا جا رہا ہے جو اس سے قبل بھی کئی ممالک میں سانحات کی وجہ بن چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں گلیشیئر تیزی سے پِگھل رہے ہیں اور اِن کے ٹُوٹنے کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔‘