Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’20 سیکنڈ میں سب کچھ بہہ گیا‘: نیپال کے تباہ کن سیلاب میں زندہ بچ جانے والوں کی داستانیں

نیپال اور چین کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب میں کچھ زندہ بچ جانے والے اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے، جبکہ کچھ لوگ بڑی مشکل سے اس آفت کی زد میں آنے سے بچے۔ تاہم، سبھی افراد ایک بڑی تباہی اور اس کے بعد ہونے والی تباہ کاریوں کے عینی شاہد ہیں۔
ریسکیو ٹیموں نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان وادیوں سے زندہ بچ جانے والے افراد کو نکالا، جہاں بظاہر ایک گلیشیئر کے ٹوٹنے سے آنے والے سونامی جیسے پانی اور ملبے کے ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ابھی تک 1,400 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جن میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی ہیں، جبکہ 550 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے تھے۔
زندہ بچ جانے والوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اس تباہی کی تفصیلات بتائیں۔
اچانک ہم اس کی لپیٹ میں آ گئے: زائرین
سِوارنجنی متھوناتھان انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو سے آنے والے 56 دیگر افراد کے ہمراہ بس میں نیپال کا سفر کر رہی تھیں۔ وہ چینی سرحد کی جانب جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں ایسا لگا جیسے ٹریفک جام ہو گیا ہو۔
46  سالہ متھوناتھان نے اے ایف پی کو بتایا، ’پھر دھند، دھواں اور کچھ ایسا نظر آیا جو اچانک ہمیں اپنی لپیٹ میں لیتا محسوس ہوا۔‘
انہوں نے اپنے موبائل فون سے بنائی گئی ایک ویڈیو بھی دکھائی، جس میں پانی کا ایک تیز ریلا ان کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
ان کے اردگرد گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں یا کیچڑ تلے دب گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’ایک ایک کرکے ہم بھی ڈرائیور کی طرف والے دروازے سے باہر نکلے۔ اس کے بعد ایک پہاڑی پر چڑھنے میں کامیاب ہوئیں۔
بس میں موجود ایک اور 53 سالہ خاتون زائر، وجے بھونیشوری نے کہا، ’ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔‘

تریشولی وادی میں ڈیم کے منصوبوں سے بچائے گئے کارکنوں نے ایسی تباہی بیان کی جو انتہائی خوفناک رفتار سے رونما ہوئی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمارے آگے اور پیچھے موجود ہر گاڑی غائب ہو چکی تھی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جب ہم اوپر چڑھ رہے تھے تو ہمیں ایسی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جیسے دھماکے ہو رہے ہوں۔‘ ’وہ چٹانیں اور بڑے بڑے پتھر تھے جو آپس میں ٹکرا رہے تھے۔‘
گروپ کے عمر رسیدہ افراد کے لیے پہاڑی کنارے پر چڑھنا مشکل ہو رہا تھا۔ اس دوران 61 سالہ پونگوزہلی پونمبادان نے اپنی ساڑھی کھول کر اپنے شوہر کو دے دی تاکہ وہ اسے رسی کے طور پر استعمال کر سکیں۔
انہوں نے بتایا، ’انہوں نے اسے حفاظتی پٹی کے طور پر استعمال کیا اور کئی بزرگ افراد کو اوپر کھینچنے میں مدد دی۔‘

جتنے لوگ بچائے گئے، اس سے زیادہ ہلاک ہوئے‘

تریشولی وادی میں ڈیم کے منصوبوں سے بچائے گئے کارکنوں نے ایسی تباہی بیان کی جو انتہائی خوفناک رفتار سے رونما ہوئی۔
جس مقام پر دیو شریستھا کام کر رہے تھے، وہاں سے انہیں فضائی راستے سے نکالا گیا۔ انہوں نے بچاؤ کے بعد اے ایف پی کو بتایا، ’اس مقام پر کم از کم 400 کارکن موجود تھے۔ جتنے لوگوں کو بچایا گیا، اس سے زیادہ ہلاک ہو گئے۔‘
کارکن بدھ تمَنگ نے بتایا کہ وہ صرف اس لیے زندہ بچ سکے کیونکہ سیلاب آنے کے وقت وہ اس ڈیم کی ایک سرنگ کے اندر موجود تھے جہاں وہ کام کرتے تھے۔ بعد ازاں وہ سرنگ سے باہر نکلنے اور امدادی کارکنوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
تمَنگ نے بتایا کہ ’میں اس لیے بچ گیا کیونکہ میں سرنگ کے اندر تھا۔‘

ابھی تک 1,400 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جن میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انہیں جمعرات کو اس وقت فضائی راستے سے نکالا گیا جب وہ 24 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک پھنسے رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ دوسری جانب کام کرنے والے سینئر افسران سب کے سب سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔
ایک اور کارکن، ارجن کمار تمَنگ نے اس پن بجلی منصوبے میں بڑے پیمانے پر ہونی والی تباہی کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا، ’مجھے نہیں معلوم کہ کتنے لوگ ہلاک ہوئے، لیکن پانی کے طاقتور ریلے نے سب کچھ بہا دیا۔‘

صرف دریا باقی رہ گیا تھا‘

انڈیا سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ انجینئر اننَے شرما علاقے میں ایک منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں پاور ہاؤس میں تھا کہ مجھے ایک زوردار آواز سنائی دی۔ وہاں سے پانی رس رہا تھا اور ہمیں باہر نکلنے کے لیے کہا گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’جب میں باہر آیا تو سب کچھ ختم ہو چکا تھا، صرف دریا باقی رہ گیا تھا۔ ایک رہائشی کیمپ مکمل طور پر بہہ گیا، جبکہ دوسرا کیمپ ابھی موجود ہے جہاں ہم نے پناہ لی۔‘

’جان بچانے کے لیے 20 سیکنڈ ملے‘

گورکھ کھٹکا، جو ایک انجینئر ہیں، سیلاب کے مرکز کے قریب واقع شانتی بازار کے علاقے میں موجود تھے۔ انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے دوڑ لگا دی۔
انہوں نے بتایا، ’ہمیں ردِعمل ظاہر کرنے کے لیے صرف 20 سیکنڈ ملے، اس کے بعد سیلاب زدہ علاقے میں کیچڑ اور پانی کی سطح 20 فٹ تک پہنچ گئی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ہم جان بچانے کے لیے بھاگے اور 48 گھنٹے سے زیادہ ایک پہاڑی پر گزارے، یہاں تک کہ بالآخر مدد پہنچ گئی۔

شیئر: