سعودی کافی: ’زمین، کسان اور نسل در نسل منتقل ہونے والے ورثے کی داستان‘
جمعرات 1 اکتوبر 2026 8:46
کسانوں نے کافی کی کاشت، دیکھ بھال اور کٹائی کا علم ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کیا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
عالمی یومِ کافی کے موقع پر دنیا ان فصلوں میں سے ایک کا جشن مناتی ہے جو مختلف اقوام کی زندگیوں اور ثقافتوں میں گہری جڑیں رکھتی ہے۔ تاہم سعودی عرب میں اس دن کی اہمیت کچھ مختلف ہے۔ کافی محض ایک مشروب نہیں بلکہ سعودی ثقافت کا ایک گہرا اور اہم حصہ ہے جس کی کہانی کھیتوں اور زمین سے لے کر محفلوں، مہمان نوازی اور قومی شناخت تک پھیلی ہوئی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق جنوبی پہاڑی علاقوں میں، جہاں جازان، عسیر اور الباحہ کی ڈھلوانوں پر زرعی سیڑھیاں پھیلی ہوئی ہیں، کافی کے درخت محض ایک زرعی فصل نہیں رہے بلکہ یہ انسان اور زمین کے درمیان نسل در نسل قائم رہنے والے تعلق اور ورثے کا حصہ بن چکے ہیں جس نے سعودی کافی کو آج مملکت کی ثقافتی اور زرعی شناخت کا ایک حقیقی جزو بنا دیا ہے۔
جیسے جیسے یہ شعبہ ترقی کر رہا ہے، سعودی کافی کی کہانی ایک ایسی قوم کی کہانی بن چکی ہے جو اپنی زمین، لوگوں اور ورثے میں سرمایہ کاری کر رہی ہے جبکہ کافی اگانے والے علاقوں کے قدرتی اور ثقافتی اثاثوں کو پائیدار ترقی اور معاشی مواقع میں بدلنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
پہاڑی دیہاتوں میں، کسانوں نے کافی کی کاشت، دیکھ بھال اور کٹائی کا علم ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کیا ہے۔ یہ علم دہائیوں کے تجربے سے تشکیل پایا ہے اور ان جگہوں کی یادوں اور ثقافت کا حصہ بن گیا ہے جہاں اس پر عمل کیا جاتا ہے۔

اس ورثے کو بنیاد بناتے ہوئے، پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی کمپنیوں میں سے ایک، سعودی کافی کمپنی قائم کی گئی تھی تاکہ مملکت میں کافی کے شعبے کو فروغ دیا جا سکے اور فارم سے لے کر صارف تک ایک ایکوسسٹم بنایا جا سکے۔
کمپنی ماڈل فارمز تیار کرنے، کسانوں کی مدد کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو بڑھانے، اور پروسیسنگ و پیداوار کے عملیات کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے جبکہ سعودی کافی کے معیار اور مقابلے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے انفراسٹرکچر، علم اور جدت میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

کافی پیدا کرنے والے علاقوں میں، یہ کردار ان اقدامات اور منصوبوں میں نظر آتا ہے جو پیداوار سے ہٹ کر اثر پیدا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں جن میں علم کی منتقلی، مہارتوں کی ترقی، زرعی طریقوں میں بہتری، اور ویلیو چین میں نئے مواقع کی تخلیق شامل ہیں۔
عالمی یومِ کافی کے موقع پر سعودی کافی کی شاید سب سے خوبصورت کہانی یہ ہے کہ یہ محض ایک درخت نہیں، بلکہ زمین، کسان، خاندان، گاؤں اور نسل در نسل منتقل ہونے والے ورثے کی داستان ہے۔
