کافی اور چاکلیٹ پروڈکٹس کی کچھ اقسام استعمال کرنے پر وارننگ
کافی اور چاکلیٹ پروڈکٹس کی کچھ اقسام استعمال کرنے پر وارننگ
جمعہ 7 اگست 2026 11:15
ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ اس نے متاثرہ مصنوعات کو مارکیٹ سے واپس اٹھانے کا عمل شروع کر دیا ہے (فوٹو: ایس ایف ڈی اے ویب سائٹ)
سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایس ایف ڈی اے) نے لیبارٹری ٹیسٹوں کے بعد صارفین کو جنسینگ کے ذائقے والی تین طرح کی کافی اور چاکلیٹ پروڈکٹس کے استعمال سے خبردار کیا ہے کیونکہ ان میں نورٹاڈالافل نامی ایک ممنوعہ جزو پایا گیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق جن مصنوعات کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے ان میں پارسا کافی، پارسا چوکو اور بنتان سکائی شامل ہیں جنہیں 100 گرام کے ساشے میں فروخت کیا جاتا ہے۔
ایس ایف ڈی اے نے صارفین سے التماس کی ہے کہ ان منصوعات کا استعمال جلد از جلد بند کر دیں اور بچے ہوئے سٹاک کو تلف کر دیں کیونکہ یہ مصنوعات خاص طور پر دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔
ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ اس نے متاثرہ مصنوعات کو مارکیٹ سے واپس اٹھانے کا عمل شروع کر دیا ہے اور وہ حفاظتی معیارات کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے غذائی مصنوعات کی نگرانی جاری رکھے گا۔
اس کے علاوہ اتھارٹی نے درآمد کنندہ کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے اور بتایا ہے کہ سعودی عرب کے فوڈ لاء کی خلاف ورزی پر ایک کروڑ ریال تک جرمانہ، 10 سال قید یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اتھارٹی نے مارکیٹ میں نگرانی کا نظام مضبوط بنانے کے لیے شہریوں کو ایسی خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے کی ترغیب بھی دی ہے۔
ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ غذائی مصنوعات میں اس طرح کے اجزاء کی موجودگی صارفین کے لیے شدید مضر صحت اثرات اور دیگر ادویات کے ساتھ خطرناک ردعمل کا باعث بن سکتی ہے۔
چینل نیوز ایشیا کی ایک رپورٹ کے مطابق سنگاپور میں ہیلتھ سائنسز اتھارٹی نے بھی صارفین کو ایسی مصنوعات کے استعمال سے خبردار کیا ہے جن میں نورٹاڈالافل پایا گیا ہے۔
ریگولیٹر نے پہلے بھی اس کیمیائی کمپاؤنڈ پر مشتمل مصنوعات کو مارکیٹ سے ہٹانے کے احکامات جاری کیے تھے اور تنبیہ کی تھی کہ یہ بلڈ پریشر میں خطرناک حد تک کی کمی، دل کے دورے اور فالج جیسے سنگین نقصانات کا سبب بن سکتی ہے۔
ایس ایف ڈی اے نے صارفین سے التماس کی ہے کہ ان منصوعات کا استعمال جلد از جلد بند کر دیں (فوٹو: ایس ایف ڈی اے ویب سائٹ)
دوسری طرف ایچ ایس اے نے چوکو فِٹ نامی ایک وزن کم کرنے والی پراڈکٹ کے تجزیے کے بعد اس میں سیبوٹرامین کی موجودگی کا انکشاف کیا، جو بھوک دبانے والی ایک ایسی دوا ہے جس پر سنگاپور میں 2010 سے اس لیے پابندی عائد ہے کیونکہ یہ دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
ایجنسی نے آن لائن فروخت ہونے والی ایک اور مصنوعات ہیمر کینڈی کے بارے میں بھی ایک صارف کی شکایت کے بعد خبردار کیا کہ جس کے لیبارٹری ٹیسٹ میں ایک شدید اثر رکھنے والا غیر اعلانیہ طبی جزو پایا گیا۔
سنگاپور کے حکام نے صارفین کو غیر مصدقہ آن لائن ذرائع سے صحت کی دیکھ بھال کی سپلیمنٹس اور وزن کم کرنے والی مصنوعات خریدنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایسی ملاوٹ شدہ مصنوعات میں ایسی دوائیاں شامل ہو سکتی ہیں جن کا لیبل پر کوئی ذکر نہیں ہوتا۔