Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دریائے نیل کے کنارے سعودی کافی کی مہک جو سیاحوں کو کھینچ لاتی ہے

قاہرہ کے بہت سے سیاحتی اور تفریحی مقامات پر سعودی کافی کی خصوصی مانگ ہے (فوٹو: وزارتِ ثقافت)
سعودی کافی نے اپنی مقبولیت کی وجہ سے مصر کے ریستورانوں، سیاحوں کے لیے بنے کیفوں اور معاشرے کے دیگر حصوں میں اپنے لیے جگہ بنا لی ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کے مابین تاریخی اور ثقافتی تعلقات کی مضبوط ترجمانی بھی ہوتی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق حالیہ برسوں کے دوران سعودی کافی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ قاہرہ کے بہت سے سیاحتی اور تفریحی مقامات پر سعودی کافی کی خصوصی مانگ ہے اور سعودی ورثے کے مشروب کے طور پر نہ صرف مصر بلکہ دیگر عرب اور بین الاقوامی سیاح بھی سعودی کافی کو بہت پسند کرتے ہیں۔
اسی لیے دریائے نیل کے کنارے بہت سے کیفے اور ریستوارنوں نے سعودی طریقوں سے متاثر ہو کر مشرقی ڈھنگ کے خصوصی سیکشن بنائے ہیں جہاں عرب دنیا میں نشستوں کے روایتی انداز اختیار کیے گئے ہیں۔ اس سے سیاحوں کا تجربہ بڑھ جاتا ہے اور انھیں روایتی اور مستند سعودی ثقافت اور میزبانی کی ایک جھلک دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
جوں جوں مصر کا سیاحتی شعبہ ترقی کر رہا ہے، وہاں پر سعودی برانڈز کی موجودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور مصر کے شہریوں اور دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں میں اُن کی طلب بھی زیادہ ہو رہی ہے۔
سعودی کافی، مصر کے جدید منظر نامے میں سیاحت اور قاہرہ اور ریاض کے درمیان ثقافتی اور تجارتی رابطوں کی ایک کامیاب مثال بن کر ابھر رہی ہے۔ اِس کی وجہ سے سیاحت میں اضافہ اور دونوں برادار ممالک کے درمیان تعلق کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے شعبے کی بھی ترقی ہو رہی ہے۔

شیئر: