Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خیال سے اثر تک: سعودی میڈیا فورم کے ’دی سٹوم روم‘ میں جدید اور تخلیقی اقدامات کا جائزہ

ورکشاپ میں سعودی میڈیا فورم کے صدر محمد الحارثی نے شرکت کی (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی میڈیا فورم نے اپنے ’دی سٹوم روم‘ اقدام کے تحت ’خیال سے اثر تک‘ کے عنوان سے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں میڈیا کے ممتاز ماہرین، تعلیمی ماہرین، صحافیوں، اور سرمایہ کاری، کمیونیکیشنز، جدت اور کونٹینٹ ایکسپرٹ کو اکٹھا کیا گیا تاکہ میڈیا انڈسٹری کی بدلتی ہوئی ضروریات کا جائزہ لیا جا سکے اور ایسے خیالات کی نشاندہی کی جا سکے جو اثر انگیز اور پائیدار اقدامات میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ورکشاپ میں سعودی میڈیا فورم کے صدر محمد الحارثی نے شرکت کی جنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصل چیلنج صرف خیالات پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ اچھے خیالات کو ایسے کاموں میں بدلنا ہے جن کے فائدے اور نتائج واقعی نظر آئیں۔
محمد الحارثی نے کہا کہ ’برین سٹورمنگ سیشنز درجنوں خیالات پیدا کر سکتے ہیں، لیکن اصل چیلنج ان خیالات کی نشاندہی اور ترقی ہے جنہیں ایسے اقدامات میں بدلا جا سکے جو معنی خیز اثرات پیدا کریں اور میڈیا انڈسٹری کی خدمت کریں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا انڈسٹری اپنی تاریخ کی سب سے تیز رفتار تبدیلی سے گزر رہی ہے جس میں گہرے اثرات انڈسٹری کے ڈھانچے، مواد کی تخلیق، سامعین کی شمولیت، اعتماد سازی، ڈیٹا کی پروسیسنگ، اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو متاثر کر رہے ہیں۔
الحارثی نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات تشکیل دینا ضروری ہیں جو بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں اور تیز رفتار تکنیکی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقع اور چیلنجز سے نمٹ سکیں۔

ورکشاپ کا آغاز ایک تعارفی سیشن سے ہوا جس میں سعودی میڈیا فورم کے سفر، اہم کامیابیوں اور بڑے اقدامات کو نمایاں کیا گیا۔ اس کے بعد برین سٹورمنگ سیشنز کی ایک سیریز ہوئی جس میں میڈیا انڈسٹری کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ پائیدار اقدامات کو تیار کرنے کے طریقوں کو تلاش کیا گیا۔
گفتگو کا بنیادی مقصد اچھے خیالات کو صرف سوچ بچار تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی بہتری، عمل درآمد اور نمایاں نتائج کی طرف بڑھانا تھا اور ورکشاپ کا اختتام اس بات پر زور دیتے ہوئے ہوا کہ قابلِ عمل نظریات کو ایسے پائیدار منصوبوں میں بدلا جائے جو میڈیا انڈسٹری کو آگے بڑھانے میں مدد دے سکیں۔

 

شیئر: