Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’میڈیا ان اے شیپنگ ورلڈ‘ریاض میں سعودی میڈیا فورم 2026 کا آغاز

سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے پیر کو ریاض میں سعودی میڈیا فورم 2026 کے پانچویں ایڈیشن کا افتتاح کیا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزکی زیر سرپرستی فورم کا پانچواں ایڈیشن تین دن جاری رہے گا جس کا سلوگن ’میڈیا ان اے شیپنگ ورلڈ‘ ہے۔
وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے افتتاحی خطاب میں کہا ’خادم حرمین شریفین کی سرپرستی میڈیا کے شعبے سے منسلک افراد کے لیے باعثِ افتخار ہے۔  میڈیا محض اطلاع رسانی ہی نہیں بلکہ شعور بیدار کرنے اور ترقی کا ایک موثر ذریعہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’آج ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں وہاں اقدار اور سرمایہ کے درمیان کشمکش ہے، جدید میڈیا ماڈلز میں اکانومی آف اٹینشن غالب آچکی ہے جہاں الگورتھمز کے ذریعے معیار کو جانچا جاتا ہے۔‘
’کامیابی کا پیمانہ وسعت ہے نہ کہ اثر کی گہرائی، اس حوالے سے ایک اخلاقی سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ ’اگرمیڈیا اقدار سے جدا ہو جائے اور جب انسان مقصد نہیں بلکہ ذریعہ بن جائے تو کیا ہوگا؟۔‘
 وزیر اطلاعات نے وضاحت کرتے ہوئے کہا’ مملکت نے ہمیشہ اس بات کی یقین دہانی کی ہے کہ میڈیا میں اقدار محض کاسمکٹ یا نمائشی وتشہری بات نہیں بلکہ پالیسیوں، فیصلوں اور ٹیکنالوجی و انسان کے تعلق کو منظم کرنے والی بنیاد ہے۔‘

وزیراطلاعات نے کہا’ ڈیجیٹل دور میں نسلِ نو کا تحفظ پابندی یا تنہائی سے نہیں بلکہ بااخلاق و باشعور میڈیا کے ماحول کی تشکیل سے ممکن ہے جہاں مواد ذہنی و فکری تعمیر کا ذریعہ ہو، مقصد یہ ہے کہ نوجوان دنیا سے اعتماد کے ساتھ جڑیں اور اپنی شناخت اور اقدار کو فراموش نہ کریں۔‘
انہوں نے 12 انیشیٹوز کا اعلان کیا جن میں ’سعودی میڈیا انوویشن کیمپ‘ نمایاں ہے جس کے تحت ایڈوانس جرنلزم، سمارٹ کانٹینٹ کریشن اور ورچوئل اینکر جیسے شعبے شامل ہیں، یہ اقدامات سدایا (سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلجنس ) کے اشتراک سے ہوں گے۔
ان کے علاوہ ’تمکین‘ اور نمو جیسے پروگرامزاور میڈیا آئیڈیاز کو پائیدار کاروباری ماڈلز میں بدلنے کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں۔

میڈیا میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے اے آئی ضوابط کی دستاویز جاری کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔
میڈیا میں سکالرشپ پروگرامز کے تحت سالِ رواں 100 طلبا کو دنیا کی بہترین جامعات میں بھیجا جائے گا تاکہ ان کی صلاحیتوں کو مزید نکھارا جائے۔
سعودی تاریخ و ثقافت کو عالمی سطح پرمتعارف کرانے کےلیے 70 ہزار سے زائد مضامین کو ’سعودی پیڈیا‘ کے تحت ان کا ترجمہ انگریزی، فرانسیسی ، چینی، روسی اور جرمن زبانوں میں کیا جارہا ہے۔ ’کنوز‘ انیشیٹیو کے تحت سالِ رواں 30 سے زائد دستاویزی فلمیں پیش کی جائیں گی۔

سعودی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 90 سے زیادہ ملکوں کے 2 ہزار سے زائد کانٹینٹ کریئیٹرز کو فورم کے دوسرے ایڈیشن میں القدیہ شہر میں شرکت کریں گے۔
انہوں نے سعودی پریس ایجنسی’ ایس پی اے‘ میں میڈیا اسٹڈیز اینڈ اوپینین پولز سینٹر کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
سعودی میڈیا ایوارڈ 2026 کے فاتحین کو مبارک باد دی جس میں 20 سے زائد ملکوں سے 500 سے زیادہ افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔
فورم میں 300 سے زیادہ بین الاقوامی ماہرین اور سپیشلسٹ 150 ڈائیلاگ سیشنز میں شرکت کریں گے، جس میں میڈیا کے ابھرتے ہوئے منظر نامے پر بات کی جائے گی۔
پروڈکشن، براڈکاسٹنگ اور ڈسٹری بیوشن کے شعبوں کے لیے جدید تکنیکی حل بھی پیش کیے جائیں گے جبکہ سعودی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے معاہدے بھی متوقع ہیں۔

شیئر: