بیشہ ایئرپورٹ شمالی عسیر کی سیاحت اور اقتصادی ترقی کا گیٹ وے
بیشہ ایئرپورٹ ملک کے تین اندرونی مقامات ریاض، جدہ اور دمام کے لیے پروازیں چلاتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
ابھا سے تقریباً 200 کلومیٹر شمال میں واقع بیشہ ایئرپورٹ ایسے گورنریٹ کے لیے ایئر گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سیاحت، معیشت اور زراعت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق بیشہ کا جغرافیائی محلِ وقوع اور قدرتی وسائل اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ ایئرپورٹ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں گورنریٹ کی ترقی اور اہمیت کی عکاسی کرتی ہیں۔
ایئرپورٹ سفری سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ بیشہ کو سعودی عرب کے بڑے شہروں اور اہم منزلوں سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
بیشہ اپنے کھجور کے باغات اور پیداوار، بالخصوص صفری کھجوروں کی وجہ سے جانا جاتا ہے جو اپنے معیار اور منفرد ذائقے کی بدولت اس علاقے کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے ایک ہے۔
کھجور اور نخلستان کا شعبہ ایک اہم معاشی سرگرمی ہے جسے کسانوں اور مقامی منڈیوں کا ایک مربوط نظام سپورٹ کرتا ہے، جس سے بیشہ کی معاشی اور سیاحتی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
بیشہ ایئرپورٹ کو چلانے والی کمپنی کلسٹر ٹو ایئرپورٹس نے 2025 اور 2026 کی پہلی ششماہی ماہی کے دوران ایئرپورٹ کی کارکردگی میں نمایاں نمو کی رپورٹ دی ہے۔ اس دوران مسافروں کی تعداد چھ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 8.5 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

فلائٹس کی تعداد بھی پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جو 31.8 فیصد نمو اور ایئرپورٹ کی بڑھتی ہوئی آپریشنل سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
بیشہ ایئرپورٹ تین قومی ایئرلائنز کے ذریعے ملک کے تین اندرونی مقامات ریاض، جدہ اور دمام کے لیے پروازیں چلاتا ہے اس سے گورنریٹ کا فضائی رابطہ مضبوط ہوتا ہے۔ مقامی رہائشیوں، سیاحوں اور کاروباری شخصیات کی آمد و رفت میں آسانی ہوتی ہے اور معاشی، تجارتی و سیاحتی سرگرمیوں کو تقویت ملتی ہے۔

بیشہ ایئرپورٹ نے حال ہی میں کئی بین الاقوامی اعزازات اور سندیں بھی حاصل کی ہیں جن میں مسافروں کے لیے آسان ترین سفری سہولیات پر مشرقِ وسطیٰ کے بہترین ایئرپورٹ کا ایوارڈ، ایئرپورٹس کونسل انٹرنیشنل کی جانب سے کسٹمر ایکسپیریئنس ایکریڈیشن کا لیول تھری اور ایکسیسیبیلٹی انہینسمنٹ کا لیول ون شامل ہے۔
