کچی پگڈنڈیوں اور لہلہاتے کھیتوں میں گھری ’وادی حلیہ‘
کچی پگڈنڈیوں اور لہلہاتے کھیتوں میں گھری ’وادی حلیہ‘
جمعہ 9 اکتوبر 2026 21:55
وادی علاقے کے زرعی اور تاریخی جغرافیے میں بھی اہم مقام کی حامل ہے(فوٹو، ایس پی اے)
مکہ مکرمہ ریجن کی اللیث کمشنری میں واقع سبزہ زاروں میں گھری وادی ’حلیہ‘ ، جسے وادی الشاقہ الشامیہ (الشمالی وادی) بھی کہا جاتا ہے، کچی پگڈنڈیوں، سرسبز کھیتوں اور بہتے پانی کے امتزاج سے ایک دلکش دیہی منظر پیش کرتی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ وادی انسان اور زمین کے گہرے تعلق اور مقامی زرعی ماحول کے حسن کو نمایاں کرتی ہے۔ وادی علاقے کے زرعی اور تاریخی جغرافیے میں بھی اہم مقام کی حامل ہے۔
بحر الاحمر میں وادی کے دہانے کے قریب اس کے سیلابی میدان میں قدیم شہر ’السرین‘ کے آثار بھی ہیں، جبکہ اس کے جنوب میں وادی ’علیب‘ لگتی ہے، جسے الشاقہ الیمانیہ کہا جاتا ہے۔
الشاقہ شمالی کے لہلہاتے کھیت سبزہ زاروں سے گھرے ہیں، جنہیں کچی پگڈنڈیاں مختلف حصوں میں تقسیم کرتی ہیں۔ کھیتوں کے کناروں پر اگے درخت آب پاشی کے لیے بنائی گئی نالیوں پر سایہ فگن ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
کھیتوں کے کنارے ٹیوب ویل سے آنے والا پانی مٹی کی کچی نالی سے گزرتا ہوا پودوں کو سیراب کرتا زرعی زمینوں تک پہنچتا ہے۔ یہ منظر فصلوں کی دیکھ بھال اور ان کی نشوونما میں پانی کی بنیادی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ قدرتی مناظر اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ زراعت کسی علاقے کی شناخت تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کھیت نہ صرف پیداوار کا ذریعہ ہیں بلکہ زمین کی دیکھ بھال ، پانی کی تقسیم اور پودوں کی پرورش سے وابستہ مقامی مہارتوں اور روایتی تجربات کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔
کچی آبی گزرگاہوں پر سایہ کیے درخت پرسکون دیہی تصویر پیش کرتے ہیں(فوٹو، ایس پی اے)
زرعی مناظر اور قدیم شہر ’السرین‘ کے آثار کا امتزاج اس علاقے میں قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور انسانی محنت کو یکجا کرکے پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس بنیاد پر دیہی سیاحت کے امکانات بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں۔
شمالی الشاقہ میں بہتا پانی، کچی گزرگاہوں پر سایہ کیے درخت اور حدِ نگاہ تک پھیلے کھیت ایک پرسکون دیہی تصویر پیش کرتے ہیں۔
یہاں وادی ’حلیہ‘ زمین کو قدرتی وسعت عطا کرتی ہے ، جبکہ کسانوں کی محنت ہر سو بکھرے سبزے کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔