Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وادی جازان ڈیم: نصف صدی سے زراعت اور قدرتی ماحول کے لیے اہم ذریعہ

ڈیم کی تعمیر 1967 میں شروع ہوئی اور 1971 میں اس کا افتتاح کیا گیا (فوٹو: ایس پی اے)
ایک ایسا خطہ جو تاریخی طور پر بارش کے سیزن میں اپنی بہتی ہوئی ندیوں کی وجہ سے مشہور ہے وہاں اصل چیلنج  پانی تک رسائی بڑا مسئلہ نہیں بلکہ اس پانی کو محفوظ کرنا، انتظام کرنا اور اس کا موثر استعمال تھا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اسی ضرورت کے لیے وادی جازان ڈیم بنایا گیا جسے موسمی سیلابی پانی کو ایک پائیدار وسیلے میں تبدیل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تاکہ جازان میں زراعت اور آبی ترقی کو فروغ مل سکے۔
تعمیر کے بعد سے اس ڈیم  نے وادی کے پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے، سیلاب کے خطرات کو کم کرنے، آبپاشی کے لیے پانی کی فراہمی اور آبی وسائل کے مجموعی نظام اور استعمال کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس منصوبے کا آغاز 1960 میں کیا گیا، اس وقت وادی جازان کی ترقی اور اس کے آبی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے سٹڈیز کا آغاز کیا گیا۔ ڈیم کی تعمیر 1967 میں شروع ہوئی اور 1971 میں اس کا افتتاح کیا گیا۔
اس ڈیم کی لمبائی 316 میٹر اور اونچائی 37.80 میٹر ہے جبکہ اس میں 54.2 ملین مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔

تعمیر کے بعد سے یہ ڈیم آبپاشی کے نظام کا اہم حصہ بن چکا ہے اور وادی جازان کی زرعی سرگرمیوں میں معاونت کر رہا ہے۔ ڈیم کا پانی نہ صرف کھیتوں کی آبپاشی کے لیے استعمال ہوتا ہے بلکہ زیرِ زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جیسے جیسے ڈیم کی عمر بڑھ رہی ہے، اس کی کارکردگی کو برقرار رکھنے اور اس کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

اس ڈیم کے ماحولیات پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس کی جھیل نے پودوں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کو بھی ایک قدرتی مسکن فراہم کیا ہے۔
اس وقت ڈیم کی بحالی، اپ گریڈیشن، ریت اور مٹی کو نکالنے، اس کی مسلسل آپریشنل تیاری اور دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے کئی منصوبے جاری ہیں۔

 

شیئر: