آبی گزرگاہوں کی بحالی، ریاض کی وادی السلی میں ترقیاتی کام مکمل
وادی کے ترقیاتی منصوبے کے دوران راستے میں موجود رکاوٹوں کو ہٹایا گیا (فوٹو: سکرین گریب)
ریاض میونسپلٹی نے وادی السلی کے مرکزی راستے پر ترقیاتی کام کے مکمل ہونے کے بعد اسے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق شہر کے شمالی حصے سے جنوبی جانب تک پھیلی وادی کی مجموعی لمبائی 110 کلومیٹر ہے۔ یہ دارالحکومت میں ماحولیاتی بحالی کے اہم منصوبوں میں سے ایک ہے۔
ترقیاتی منصوبے کا مقصد وادی میں پانی کے قدرتی بہاؤ کو بحال کرنا، آبی گزرگاہوں میں حائل رکاوٹوں کو دورکرتے ہوئے اسے واٹر نیٹ ورک سے منسلک کرنا تھا۔
یہ اقدام ماحولیاتی پائیداری کو برقرار رکھتے ہوئے لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
منصوبے کے تحت وادی السلی کے قدرتی راستے کی بحالی کے ساتھ اس سے نکلنے والے 21 نالوں کی مینٹیننس کا کام بھی مکمل کیا گیا۔

یہ وادی ریاض شہر میں ہونے والی بارشوں اور سیلابی ریلوں کے 40 فیصد تک پانی کی نکاسی کے لیے اہم ہے۔
وادی کے ترقیاتی منصوبے کے دوران راستے میں موجود رکاوٹوں کو ہٹایا گیا تاکہ رہائشیوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
10 لاکھ 50 ہزار مکعب میٹر سے زائد ملبہ ہٹایا گیا جبکہ کھدائی کا حجم چار کروڑ 45 لاکھ مکعب میٹر سے زیادہ رہا۔
علاوہ ازیں 9 لاکھ 20 ہزار مکعب میٹر پتھریلی حفاظتی تعمیرات اور چار لاکھ 79 ہزار مکعب میٹر کنکریٹ کا کام کیا گیا ہے۔

منصوبے کا اہم ہدف ریاض شہر کے مشرقی اور شمال مشرقی علاقوں میں بارش اور سیلابی پانی کی نکاسی کے نظام کی استعداد میں اضافہ کرنا اور وادی السلی کو برساتی پانی کے نیٹ ورک سے جوڑتے ہوئے مربوط نظام قائم کرنا ہے۔
واضح رہے کہ وادی السلی ریاض کے اہم قدرتی آبی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ شہر کے 75 محلوں میں پھیلے تقریباً 2400 مربع کلومیٹر رقبے سے آنے والے بارش اور سیلابی پانی کو جمع کرنے کی گنجائش رکھتی ہے۔
