Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’سُوئی دھاگے کے ذریعے جذبات کا اظہار‘، بیٹا ماں کے فن پارے دنیا کے سامنے لے آیا

کوئٹہ کی رہائشی 60 سالہ مورکئی نے زندگی کا بیشتر حصہ ایک گھریلو خاتون کے طور پر گزارا۔ گھر کے کاموں سے وقت ملتا تو وہ سوئی، دھاگے اور اُون سے خوبصورت چیزیں اور فن پارے بناتیں۔
اگرچہ وہ بچپن سے یہ کام کر رہی تھیں مگر کبھی اسے دنیا کے سامنے لانے کا موقع نہیں ملا۔ اب پہلی بار ان کے بیٹے محمد آصف کاسی نے دہائیوں سے گھر میں چھپے رہنے والے اپنی والدہ کے ہنر کی نمائش کا اہتمام کیا ہے۔
کوئٹہ کی پشتو اکیڈمی میں نمائش میں رکھے گئے یہ فن پارے عام کشیدہ کاری سے مختلف ہیں۔ رنگ برنگے اُون سے بنے یہ کام دور سے دیکھنے پر پینٹنگ لگتے ہیں۔ ان میں گاؤں کی زندگی، پشتون اور بلوچ ثقافت، خانہ بدوشوں کا طرزِ زندگی اور فطرت کے رنگ نظر آتے ہیں۔
مورکئی نے کبھی کسی آرٹ سکول یا ادارے میں تعلیم حاصل نہیں کی۔ ان کے مطابق انہوں نے صرف بنیادی کشیدہ کاری سیکھی تھی۔ فن پارے بنانا، ڈیزائن تیار کرنا اور مناظر کو دھاگوں میں ڈھالنا انہوں نے خود سیکھا۔ وہ کہتی ہیں ’مجھے بچپن سے سوئی دھاگے کے کام کا شوق تھا۔ میں گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر سوئی دھاگہ لے کر بیٹھ جاتی تھی۔‘
محمد آصف خود بھی ویژول آرٹسٹ ہیں۔ وہ بچپن سے والدہ کا کام دیکھتے آئے ہیں اور خود کو ان کا شاگرد بھی کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’رنگوں کی گہرائی جتنی امی کو سمجھ ہے شاید ہی کسی کو ہو۔‘
آصف بتاتے ہیں کہ ان کی والدہ خاندان میں شادی یا خوشی کے موقع پر اپنے ہاتھ کا بنا فن پارہ تحفے میں دیتی تھیں۔ ’وقت کے ساتھ مجھے احساس ہوا کہ ان کا کام رشتہ داروں اور مختلف لوگوں کے گھروں میں موجود ہے مگر خود ان کے گھر میں ان کے فن کو محفوظ کرنے اور لوگوں کے سامنے لانے کا کوئی انتظام نہیں۔‘
ان کے مطابق یہ منفرد کام آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہو رہا تھا اسی لیے انہوں نے سنہ 2016 سے والدہ کے کام کو محفوظ کرنا شروع کیا۔ آج ان کے پاس والدہ کے ہاتھ کے بنے تقریباً 20 فن پارے موجود ہیں۔ آصف کہتے ہیں کہ ان کی ہمیشہ خواہش تھی کہ ماں کا ہنر لوگوں تک پہنچے۔
یہ نمائش پشتون کلچر ڈے کے موقع پر منعقد کی گئی اور تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہی۔ آصف نے بطور کیوریٹر یعنی نمائش کے منتظم اس کا اہتمام کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر بلوچ اور پشتون گھریلو خواتین کشیدہ کاری لباس یا گھر کی چیزوں کی سجاوٹ کے لیے کرتی ہیں۔ بعض اسے بیچتی بھی ہیں مگر ان کی والدہ نے اس ہنر کو فن کی الگ شکل دی ہے۔ ان کے مطابق کئی بڑے فنکاروں نے بھی یہ کام دیکھا اور اسے محنت اور باریکی والا اعلیٰ ہنر قرار دیا۔

مورکئی کے فن پاروں میں وہ چیزیں بھی نظر آتی ہیں جو شاید محمد آصف نے اپنی زندگی میں دیکھی اور محسوس کیں (فوٹو: اردو نیوز)

محمد آصف نے بتایا کہ مورکئی کے فن پاروں میں وہ چیزیں بھی نظر آتی ہیں جو شاید انہوں نے اپنی زندگی میں دیکھی اور محسوس کیں۔ خانہ بدوش خاندانوں کی زندگی، دیہی مناظر، ثقافتی روایات اور مقامی ماحول ان کے کام کا اہم حصہ جبکہ خواتین بنیادی موضوع رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے احساسات کو سوئی اور دھاگوں کے ذریعے بیان کیا۔
ان کے مطابق والدہ نے موسمیاتی تبدیلیوں کو بھی اپنے کام میں پیش کیا جس کے اثرات انہوں نے خود اپنی زندگی میں دیکھے اور محسوس کیے کہ کیسے پہلے  کوئٹہ میں ہرطرف باغات ہوتے تھے اب خشک سالی اور خشکی ہے۔
آصف نے بتایا کہ والدہ نے مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اپنے فن کو زندہ رکھا۔
نمائش میں آنے والوں نے فن پاروں کو منفرد قرار دیا۔ کئی لوگوں نے پہلی بار صرف اُون اور دھاگوں سے بنے ایسے فن پارے دیکھے جو بیک وقت کشیدہ کاری اور بصری آرٹ کا تاثر دیتے ہیں۔ نمائش کے شرکاء نے مورکئی کی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا۔ نمائش دیکھنے کے لیے آنے والے احسان اللہ نے بتایا کہ مورکئی کی کہانی یہ پیغام دیتی ہے کہ خواب پورا کرنے کے لیے عمر نہیں بلکہ جذبہ چاہیے۔

کئی لوگوں نے پہلی بار صرف اُون اور دھاگوں سے بنے ایسے فن پارے دیکھے جو بیک وقت کشیدہ کاری اور بصری آرٹ کا تاثر دیتے ہیں (فوٹو: اردو نیوز)

آصف نے بتایا کہ لوگ ان کی والدہ کے فن پارے مانگتے ہیں مگر وہ انہیں بیچنا نہیں چاہتے۔ ان کی خواہش ہے کہ یہ کام محفوظ رہے۔ ان کے مطابق ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے فن پاروں کی تصویر دیکھی تو انہیں یہ اتنے پسند آئے کہ وہ منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہو گئے۔ ’انہوں نے بہت اصرار کیا جس پر میں انہیں ایک فن پارہ دے دیا۔ افسر نے اس کی بہت اچھی قیمت ادا کی۔‘
اردو نیوز سے گفتگو میں مورکئی نے بتایا کہ جب بیٹے نے نمائش کے بارے میں بتایا تو انہیں یقین نہیں آیا۔ وہ کہتی ہیں ’مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ رات کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ میری زندگی کے اتنے سال گزر گئے لیکن کسی نے میرا کام اس طرح نہیں دیکھا تھا۔ پہلی بار لوگوں نے میرے فن کو اتنی بڑی سطح پر دیکھا اور سراہا اس لیے میں بہت خوش ہوں۔‘
محمد آصف کو امید ہے کہ ان کی والدہ کی یہ نمائش دوسری خواتین کے لیے بھی حوصلہ افزا ثابت ہوگی۔ وہ کہتے ہیں ’ہمارے گھروں میں بہت سی خواتین باصلاحیت ہیں لیکن ان کے ہنر کو سامنے آنے کا موقع نہیں ملتا۔ میری خواہش ہے کہ میری والدہ کی یہ کہانی اور ان کا کام دوسری خواتین کو بھی اپنے فن پر اعتماد دے۔‘

شیئر: