کوئٹہ کے گرلز کالج میں ہنگامہ آرائی اور چوکیدار پر تشدد، وکیل کے خلاف مقدمہ درج
اتوار 4 اکتوبر 2026 7:34
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے گورنمنٹ گرلز کالج گلستان روڈ میں زیرِ تعلیم طالبہ کو مقررہ وقت سے پہلے ساتھ لے جانے کی اجازت نہ ملنے پر مبینہ ہنگامہ آرائی، چوکیدار کو تشدد کا نشانہ بنانے اور زبردستی کالج کی عمارت میں داخل ہونے کے الزام میں ایک وکیل اور 15 سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ تین اکتوبر کو پیش آیا جس کا مقدمہ کوئٹہ کے تھانہ بجلی روڈ میں کالج کے چوکیدار محمد اکبر کی مدعیت میں نامزد ملزم ولید اور ان کے دیگر نامعلوم ساتھیوں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ایف آئی آر کے متن کے مطابق تین اکتوبر کی دوپہر قریباً سوا 12 بجے ولید نامی شخص گرلز کالج کے مرکزی گیٹ پر پہنچا اور موقف اختیار کیا کہ وہ کالج میں پڑھنے والی اپنی بھابھی کو ساتھ لے جانے آیا ہے۔
گیٹ پر موجود چوکیدار نے انہیں آگاہ کیا کہ کالج کے ضوابط کے تحت تعلیمی اوقات کے دوران کسی بھی طالبہ کو لے جانے کے لیے باقاعدہ درخواست اور کمیٹی کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ مزید برآں، قواعد کے مطابق طالبات کو صرف والد یا بھائی کے ساتھ جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمیٹی کی جانب سے درخواست منظور نہ ہونے پر ملزم نے مبینہ طور پر گالم گلوچ کی اور پرنسپل کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے۔
اس دوران انہوں نے وکالت کا کارڈ دکھاتے ہوئے خود کو وکیل ظاہر کیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے مزید افراد کو موقع پر بلا لیا۔
درج مقدمے کے مطابق دوپہر قریباً ڈیڑھ بجے کالج کی چھٹی کے وقت ملزم ولید اپنے 15 سے 16 دیگر نامعلوم ساتھیوں کے ہمراہ دوبارہ گیٹ پر پہنچا۔ ملزمان نے وہاں موجود دوسرے چوکیدار محمد اعظم کو مبینہ طور پر زدوکوب کیا اور زبردستی کالج کی عمارت کے اندر داخل ہو گئے۔
مستغیث کے مطابق ملزمان نے پرنسپل کے دفتر میں جا کر شور شرابہ کیا، تاہم عملے نے انہیں دفتر سے باہر نکالا اور واقعے سے متعلق اعلیٰ حکام کو اطلاع دی۔
پولیس کے مطابق تشدد سے زخمی ہونے والے چوکیدار محمد اعظم کے دائیں کندھے اور گردن پر اندرونی چوٹیں آئی ہیں جبکہ انہوں نے سانس لینے میں دشواری کی بھی شکایت کی جس کے بعد انہیں فوری طبی معائنے کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔
بجلی روڈ تھانے میں ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان میں سر یا چہرے پر چوٹ پہنچانے، غیر قانونی اجتماع، ہنگامہ آرائی، سرکاری ملازم کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے، دھمکانے اور خاتون پر مجرمانہ طاقت کے استعمال کی دفعات شامل ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش اے ایس آئی سید حضرت علی کے سپرد کر دی گئی ہے اور معائنہ کے بعد قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
