کوئٹہ: ’بیٹا چھٹیاں منانے گھر آیا تھا‘، شعبان سے چار افراد کی کئی روز پرانی لاشیں برآمد
کوئٹہ: ’بیٹا چھٹیاں منانے گھر آیا تھا‘، شعبان سے چار افراد کی کئی روز پرانی لاشیں برآمد
بدھ 15 جولائی 2026 16:59
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں اب تک 100 سے زیادہ شدت پسند مارے جا چکے ہیں (فوٹو: اے پی پی)
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب ضلع ہرنائی کے پہاڑی علاقے شعبان سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ چاروں کو شرپسندوں نے اغوا کے بعد گولیاں مار کر قتل کیا۔
کوئٹہ پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اُردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بدھ کو کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک سے متصل ہرنائی کے پہاڑی علاقے شعبان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران چار افراد کی کئی روز پرانی لاشیں ملی ہیں۔ چاروں کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔‘
پولیس نے لاشوں کو تحویل میں لے کر کوئٹہ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کر دیا جہاں ان کی شناخت ایئرپورٹ سکیورٹی فورسز کے انسپکٹر زبیر احمد شاہوانی، سی ٹی ڈی کے اہل کار سید خلیل الرحمان، فوج کے ریٹائرڈ حوالدار محمد صادق پانیزئی اور زیارت پولیس کے کانسٹیبل زبیراللہ کاکڑ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق انسپکٹر زبیر احمد شاہوانی کوئٹہ کے علاقے جناح ٹاؤن کے رہائشی تھے اور ان کے اغوا کا مقدمہ ان کے والد نے جناح ٹاؤن پولیس سٹیشن میں 24 جون کو درج کروایا تھا اور کہا تھا کہ ’ان کے بیٹے اسلام آباد ایئرپورٹ پر تعینات تھے اور ایک ماہ کی چھٹی لے کر کوئٹہ آئے تھے۔ وہ 21 جون کی سہ پہر اپنے ایک دوست سید خلیل الرحمان کے ساتھ گھر سے نکلے اور تب سے ہی لاپتا ہیں۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ’دونوں کو 21 جون کو اغوا کر کے اس پہاڑی علاقے میں منتقل کیا گیا تھا جب کہ پولیس کانسٹیبل فریداللہ کاکڑ زیارت کے رہائشی تھے اور پولیس سٹیشن مانگی میں تعینات تھے جنہیں پولیس سٹیشن سے گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کیا جبکہ محمد صادق پانیزئی کا تعلق بھی زیارت سے بتایا جاتا ہے اور انہیں بھی نامعلوم افراد نے ہی اغوا کیا تھا۔‘
کوئٹہ سے متصل زیارت اور ہرنائی کے پہاڑی علاقوں میں بدامنی اور گذشتہ ہفتے 30 پولیس اہل کاروں کے قتل کے خلاف ان کے لواحقین احتجاج کر رہے ہیں جبکہ گذشتہ آٹھ دنوں سے سات پولیس اہل کاروں کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی تدفین سے انکار کرتے ہوئے میتوں کے ہمراہ دھرنا دیا ہوا ہے۔
پولیس نے لاشوں کو تحویل میں لے کر کوئٹہ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کر دیا (فائل فوٹو: روئٹرز)
واضح رہے کہ زیارت کے علاقے کچھ میں مانگی ڈیم فیز تھری کے پراجیکٹ پر تعینات 30 پولیس اہل کاروں کو شدت پسندوں نے قتل کیا جن میں سے نو کو موقع پر اور 21 کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا جس پر لواحقین نے شدید احتجاج کیا۔
قبل ازیں، کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک میں شدت پسندوں نے ایک گائوں پر حملہ کر کے پانچ افراد کو قتل اور سات کو زخمی کر دیا تھا جبکہ 11 کو اغوا کر لیا تھا جو بعدازاں بازیاب ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے خلاف بھی کوئٹہ میں پانچ روز تک دھرنا دیا گیا۔
لواحقین اور سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے بعد سکیورٹی فورسز نے اس علاقے میں آپریشن شروع کر رکھا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن میں اب تک 100 سے زیادہ شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔ اس آپریشن میں ڈرونز، ہیلی کاپٹرز اور دیگر جدید ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔