Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کوئٹہ میں زیارت واقعے کے خلاف دھرنا ختم، حکومت اور لواحقین کے مابین معاہدہ طے پا گیا

سیاسی حلقوں کی جانب سے اس پیش رفت کا خیرمقدم تو کیا گیا ہے مگر ساتھ ہی تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کئی روز سے جاری دھرنا حکومت اور دھرنا کمیٹی کے مابین مذاکرات کی کامیابی اور تحریری معاہدے کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔
اس معاہدے کے ساتھ ہی زیارت واقعے میں جان سے جانے والوں کی میتوں کو آبائی علاقے زیارت منتقل کرنے اور ایوب سٹیڈیم میں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد تدفین کے انتظامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شاہد رند کے مطابق وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی مفاہمتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں فریقین کے مابین معاملات خوشگوار ماحول میں حل ہوئے۔
حکومتی مذاکراتی وفد کی سربراہی صوبائی وزیر صحت بخت کاکڑ کر رہے تھے جن کا کہنا تھا کہ صوبے پر مسلط کی گئی جنگ اور امن و امان کے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم حکومت شہداء کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے۔
اس دھرنے کا پس منظر چھ جولائی کو پیش آنے والا وہ واقعہ ہے جب کوئٹہ سے تقریباً 60 کلومیٹر دور زیارت کے علاقے کچھ کے قریب ’مانگی ڈیم فیز تھری واٹر پمپنگ سٹیشن‘ پر شدت پسندوں نے حملہ کیا۔
حکام کے مطابق اس حملے میں 30 پولیس اہلکار جان سے گئے۔ ان میں سے 9 اہلکار پہلے دن موقعے پر ہی مار دیے گئے تھے جبکہ 21 اہلکاروں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ مقتول اہلکاروں کی لاشیں بعد میں کوئٹہ اور زیارت کے درمیان واقع زرغون غر کے پہاڑی علاقے سے ملیں۔
مقتولین میں سے زیادہ تر کا تعلق زیارت سے تھا جس کے بعد پورے علاقے میں سوگ کی فضا پھیل گئی۔
واقعے میں قتل ہونے والے 9 اہلکاروں کو منگل جبکہ 14 کو جمعرات کے روز سپردِ خاک کر دیا گیا تھا، تاہم 7 اہلکاروں کے لواحقین نے فوری تدفین سے انکار کرتے ہوئے کوئٹہ کے علاقے کوئلہ پھاٹک پر میتوں کے ساتھ دھرنا دے رکھا تھا جو اب کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔

معاہدے کے اہم نکات اور فوری پیش رفت
طے پانے والے معاہدے کے تحت مانگی ڈیم واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا جبکہ مروجہ سرکاری پالیسی کے تحت لواحقین کے لیے معاوضے اور بچوں کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ کچ مانگی کے علاقے سے متعلق ریونیو اور اراضی کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے وزیر بورڈ آف ریونیو کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جو 15 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے پر فوری عمل درآمد شروع کرتے ہوئے ’وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر زیارت کے چار پولیس سٹیشنوں، تین سکولوں اور دو صحت کے مراکز کو شہداء کے ناموں سے منسوب کرنے کے لیے متعلقہ وزارتوں کو باقاعدہ مراسلے جاری کر دیے گئے ہیں۔‘
’اصل امتحان معاہدے پر عمل درآمد کا ہے‘
دوسری جانب سیاسی حلقوں کی جانب سے اس پیش رفت کا خیرمقدم تو کیا گیا ہے مگر ساتھ ہی تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اتنے دن دھرنے کے بعد مذاکرات کی کامیابی خوش آئند ہے اور ہم فریقین کے صبر و تحمل کے مشکور ہیں تاہم اصل امتحان اب شروع ہوا ہے کہ اس معاہدے پر روح کے مطابق عمل درآمد ہو۔‘
انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر معاہدے پر عمل نہ کیا گیا تو عوام کا انتظامیہ پر سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔

شیئر: