ویب سائٹس کی گرتی ہوئی ٹریفک، گوگل سرچ کا اے آئی موڈ میں بڑی تبدیلی کا اعلان
اب اے آئی سے تیار کردہ جوابات میں لنکس کو زیادہ کثرت اور نمایاں جگہ پر دکھایا جائے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
معروف ٹیکنالوجی کمپنی ’گوگل‘نے اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) پر مبنی سرچ نتائج میں ویب سائٹس اور خبروں کے لنکس کو زیادہ نمایاں اور اوپر کی جانب دکھانے کا اعلان کیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق یہ قدم خبر رساں اداروں اور برانڈز کی جانب سے ویب سائٹ ٹریفک میں شدید کمی کے خدشات اور شکایات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
گوگل کی پیرنٹ کمپنی ’الفابیٹ‘ نے دو برس قبل اپنے سرچ انجن میں اے آئی فیچرز کی شمولیت شروع کی تھی۔
مئی 2024 میں گوگل نے ’اے آئی اوور ویوز‘ کا آغاز کیا تھا جس میں روایتی لنکس کی فہرست کے بجائے صارف کے سوالات کا خلا صہ تیار کر کے پیش کیا جاتا تھا۔
بعد ازاں مارچ 2025 میں گوگل نے ’اے آئی موڈ‘ متعارف کرایا جو ایک الگ ونڈو میں کھلتا ہے اور زیادہ تفصیلی معلومات اور لنکس فراہم کرتا ہے۔
تاہم ان اے آئی خلاصوں کی وجہ سے صارفین کا اصل ویب سائٹس پر جانے کا تناسب کافی حد تک کم ہو گیا۔
میڈیا اور ویب سائٹ ٹریفک کے تجزیاتی ادارے ’چارٹ بیٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 سے جولائی 2026 کے دوران خبروں کی ویب سائٹس پر گوگل کے ذریعے آنے والی ٹریفک میں 40 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
اگست میں فرانسیسی روزناموں کی تنظیم ’ایپگ‘نے مقابلے کے تحفظ کے ادارے (کمپیٹیشن اتھارٹی) سے شکایت کی کہ اے آئی خلاصے 2022 میں ناشرین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں۔
ان خدشات کے پیشِ نظر گوگل نے اب اپنی پالیسی میں تبدیلی کی ہے۔
نئے اعلان کے مطابق اب اے آئی سے تیار کردہ جوابات میں لنکس کو زیادہ کثرت اور نمایاں جگہ پر دکھایا جائے گا۔
اس کے علاوہ گوگل اپنے ’لنک کیپشنز یا کیراسل‘ کے فیچر کو عالمی سطح پر وسعت دے رہا ہے جس میں اے آئی اوور ویوز کے بالکل نیچے تصاویر اور سرخیوں کے ساتھ متعلقہ مضامین کے کارڈز نظر آئیں گے۔
گوگل کا الگورتھم ان سائٹس کو ترجیح دے گا جنہیں صارف نے اپنی ’پسندیدہ ذرائع‘ کے طور پر منتخب کر رکھا ہو گا جبکہ اس میں سوشل میڈیا اور فورمز کی تحریریں بھی شامل کی جا سکیں گی۔
الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی کے مطابق سال 2025 کی دوسری سہ ماہی تک 200 سے زائد ممالک میں ’اے آئی اوور ویوز‘ کے ماہانہ صارفین کی تعداد دو ارب سے تجاوز کر چکی تھی۔
کمپنی کو امید ہے کہ نئی تبدیلیوں سے معلومات کی گہرائی تک جانے کے خواہش مند صارفین کے لیے لنکس کا استعمال زیادہ آسان اور دلکش ہو جائے گا۔
