Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں گوگل کے ڈیٹا سنٹرز کی تعمیر کا آغاز، مقامی آبادی احتجاج کیوں کر رہی ہے؟

شہری گوگل کے ڈیٹا سینٹرز کو کم قیمت پر زمین دینے پر احتجاج کر رہے ہیں (فوٹو: دی ہندو)
گوگل نے جب اپریل کے اوآخر میں آندھرا پردیش میں اپنے ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کا آغاز کیا تو اس منصوبے کو بھارت کے ڈیجیٹل مستقبل میں ایک تاریخی سرمایہ کاری کے طور پر سراہا گیا۔ لیکن چند ہی ہفتے گزرنے کے بعد اب اس حوالے سے ایک زیادہ تشویش ناک تصویر سامنے آ رہی ہے، جس میں اس منصوبے کے باعث ماحول اور روزگار کے لیے خطرات کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور یہ ملک کے بعض انتہائی کمزور طبقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق گوگل کا مجوزہ مصنوعی ذہانت کا یہ ہب جنوبی بھارت کے مشرقی ساحل پر واقع ضلع وشاکھاپٹنم میں قائم کیا جا رہا ہے، اور یہ سنہ 2026 سے سنہ 2030 کے درمیان بھارت میں گوگل کے 15 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری منصوبے کا حصہ ہے۔ یہ منصوبہ بھارت میں اس نوعیت کا پہلا اور امریکہ سے باہر سب سے بڑا منصوبہ ہوگا۔
یہ منصوبہ جس علاقے میں قائم کیا جا رہا ہے وہ ایک جنگلاتی اور پہاڑی خطہ ہے جہاں چھوٹی ماہی گیر بستیاں، زرعی دیہات اور وہ اراضی موجود ہے جو پچاس سال قبل دلت برادری کو دی گئی تھی اور یہ انڈیا کے سب سے زیادہ محروم طبقات میں شمار ہوتے ہیں اور روایتی ذات پات کے نظام کے تحت صدیوں تک زمین کی ملکیت سے محروم رہے ہیں۔
تقریباً 500 ایکڑ میں سے 200 ایکڑ زمین، جو اس اے آئی مرکز کے تین ڈیٹا سینٹرز کے لیے تلروادا، آدویورم اور رامبلی کے دیہات میں مختص کی گئی ہے، درحقیقت دلت خاندانوں کی ملکیت ہے۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان خاندانوں پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنی زمین اس کی اصل مارکیٹ ویلیو کے مقابلے سے غیرمعمولی طور پر کم قیمت پر فروخت کریں۔
انڈیا کے سابق پاور سیکرٹری اور سماجی کارکن ڈاکٹر ای اے ایس سرما اس منصوبے کے خلاف مہم چلا رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’دلت کمیونٹی کو یہ اراضی تقریباً 1970 میں اُس وقت دی گئی تھی جب اندرا گاندھی وزیر اعظم تھیں۔ اس وقت ملک بھر میں ایک بڑے منصوبے کے تحت بے زمین ہاریوں کو زمین دی جا رہی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو وشاکھاپٹنم کے تلروادا گاؤں کی اس زمین کے ملکیتی حقوق دیے گئے تھے جہاں آج گوگل کا ڈیٹا سینٹر بن رہا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’گوگل کے ڈیٹا سینٹر کو یہ زمین بہت کم قیمت پر دی جا رہی ہے، اور دلتوں اور چھوٹے زمین داروں سے بھی یہ زمین مارکیٹ ریٹ کی بجائے انتہائی کم قیمت پر لی جا رہی ہے۔ میں نے حساب لگایا ہے کہ یہ قیمت اصل مارکیٹ ویلیو کے پانچویں حصے سے بھی کم پر لی جا رہی ہے۔ یہ دلت اور پچھڑے ہوئے طبقات درحقیقت گوگل کے ڈیٹا سینٹر کو سبسڈی دے رہے ہیں۔ یہ بہت افسوس ناک صورتِ حال ہے۔ گوگل ہر سال کھربوں ڈالر منافع کماتا ہے۔‘

ڈیٹا سینٹر چونکہ بجلی کے بڑے صارف ہیں تو اس وجہ سے مقامی بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے (فوٹو: ہیومن رائٹس فورم)

اس علاقے میں دلت خاندان مقامی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں اور وہ اس وقت بے دخلی کے خوف میں مبتلا ہیں، جبکہ علاقے کے دیگر لوگ اور قریبی رہائشی وشاکھاپٹنم شہر کے جنگلات کی کٹائی، ماحولیاتی خطرات اور پانی کے بحران پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں، کیونکہ یہ ایک گیگاواٹ کا منصوبہ روزانہ لاکھوں لیٹر پانی استعمال کر سکتا ہے، جبکہ یہ علاقہ پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار ہے۔
ڈاکٹر سرما کے مطابق تلروادا، رامبلی، اور  شہر کے وسط میں سمہچلم پہاڑی پر قائم ہونے جا رہے یہ تینوں ڈیٹا سینٹرز شدید تنازع کا مرکز بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ’آپ اگر تلروادا کے گوگل ڈیٹا سینٹر کو دیکھیں تو 90 فیصد علاقہ جنگلاتی زمین کے طور پر درج ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’جب درخت کاٹے جاتے ہیں تو مٹی بہہ کر جمع ہو جاتی ہے، جس سے آبی ذخائر کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔ اور یہ ڈیٹا سینٹرز انہی ذخائر سے پانی لیں گے، جس سے وشاکھاپٹنم کے لوگوں کے پینے کے پانی کے ذخائر متاثر ہوں گے جس سے شہر اور اس کے گردونواح میں پانی کا سنگین بحران جنم لے گا۔‘
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’ڈیٹا سینٹر صرف بجلی کے بڑے صارف نہیں ہوتے بلکہ ان کا بجلی کا استعمال غیر مستحکم ہوتا ہے، جس سے مقامی بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ان ڈیٹاسنٹرز کی وجہ سے ہمارے پانی کے وسائل، بجلی کے نظام، زمین اور دلت آبادی سب دبائو میں ہیں اور ان کی زمین، ان کا روزگار سب متاثر ہو رہا ہے۔‘
ریاستی احتساب، بے دخلی، ماحولیاتی انصاف اور محروم طبقات کے حقوق پر کام کرنے والے ادارے ہیومن رائٹس فورم نے کہا ہے کہ مقامی سطح پر گوگل کے اس منصوبے کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔

اس علاقے میں دلت خاندان مقامی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں اور وہ اس وقت بے دخلی کے خوف کا سامنا کر رہے ہیں (فوٹو: وال سٹریٹ جرنل)

وشاکھاپٹنم کے شہری علاقوں اور دلت کسانوں نے اس منصوبے کے خلاف احتجاج اور عوامی جلسے جلوس شروع کر دیے ہیں۔
تنظیم کے کوآرڈینیٹر وی ایس کرشنا نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’لوگوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ ان بڑے ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے اعلان کے بعد علاقے کے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’عوامی سطح پر کوئی حقیقی معلومات دستیاب نہیں ہیں، نہ یہ بتایا گیا ہے کہ پانی کہاں سے لیا جائے گا، نہ یہ کہ بجلی کہاں سے اور کیسے حاصل کی جائے گی، اور نہ ہی یہ کہ پہلے سے موجود ماحولیاتی خدشات کو کیسے کم کیا جائے گا۔ یہ سب معلومات بہت خفیہ رکھی جا رہی ہیں۔‘

شیئر: