ایلون مسک کی ’اُڑنے والی‘ ٹیسلا روڈسٹر کیا واقعی اُڑ سکے گی؟
ایلون مسک کی ’اُڑنے والی‘ ٹیسلا روڈسٹر کیا واقعی اُڑ سکے گی؟
جمعہ 16 اکتوبر 2026 14:20
ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا نے ایک نئی گاڑی پیش کی ہے جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ سڑک پر چلنے کے ساتھ ہوا میں بھی اڑے گی۔
سی این این کے مطابق ایلون مسک نے اپنی دوسری کمپنی سپیس ایکس کی ٹیکساس میں واقع ٹیسٹنگ تنصیب میں ٹیسلا کی نئی ’روڈسٹر‘ پیش کی۔
دو افراد کی گنجائش رکھنے والی اس سپورٹس کار کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔
تقریب کے دوران گاڑی کو ایک ڈھلوان پر چڑھتے، الٹی حالت میں لٹکتے، پھر گھوم کر ہوا میں قلابازی لگاتے اور ایئر جیٹس کی مدد سے زمین پر اترتے ہوئے دکھایا گیا۔
ایلون مسک کے مطابق گاڑی کے نچلے حصے میں سکشن ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس کی مدد سے یہ ڈھلوان پر چڑھ کر الٹی حالت میں لٹک سکتی ہے۔
گاڑی چلانے کے دوران اس میں کوئی ڈرائیور موجود نہیں تھا۔ ایلون مسک نے کہا کہ ایسا ’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا کہ کوئی نقصان نہ ہو۔‘
تقریب کے ایک اور مرحلے میں روڈسٹر نے ایئر جیٹس کی مدد سے ٹیسلا کی دوسری گاڑیوں کی قطار کے اوپر سے چھلانگ لگائی۔ اس کے بعد گاڑی کے پچھلے حصے میں نصب ایئر جیٹس کی مدد سے اسے تیز رفتاری سے آگے بڑھایا گیا۔
ایلون مسک کے مطابق گاڑی ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔
تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ گاڑی حقیقت میں کتنی دور تک اُڑ سکتی ہے یا صرف ہوا میں چھلانگ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ بھی ثابت ہونا باقی ہے کہ آیا اسے سڑک پر چلانے کے ساتھ باقاعدہ پرواز کے لیے استعمال کیا جا سکے گا یا نہیں۔
ایلون مسک کے مطابق گاڑی میں 10 نوزلز اور ’انتہائی زیادہ دباؤ والے ایئر ٹینکس‘ نصب ہیں۔(فوٹو:رائٹرز)
ایلون مسک کے مطابق گاڑی میں 10 نوزلز اور ’پائی پریشرائزڈ ایئر ٹینکس‘ نصب ہیں، جو اسے ہوا میں بلند ہونے اور زمین پر تیزی سے رفتار پکڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے اس ٹیکنالوجی کو دنیا کی بہترین کار ساز کمپنی اور دنیا کی بہترین راکٹ بنانے والی کمپنی کے اشتراک کا نتیجہ قرار دیا۔
ایلون مسک کا کہنا ہے کہ روڈسٹر کی پیداوار 2028 میں شروع ہو جائے گی۔ تاہم، ماضی میں ٹیسلا کے کئی منصوبوں کی تکمیل کے لیے دی گئی تاریخیں آگے بڑھتی رہی ہیں اور بعض منصوبوں میں کئی سال کی تاخیر ہوئی ہے۔
تقریب میں موجود ٹیسلا کے مداحوں سے خطاب کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ خود گاڑی کو دیکھیں تاکہ انہیں یقین ہو کہ یہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) یا کسی اور مصنوعی چیز کا کمال نہیں۔
اس کے باوجود گاڑی کو طویل فاصلے تک اُڑتے ہوئے نہیں دکھایا گیا، اس لیے اس کی حقیقی پرواز کی صلاحیت کے بارے میں سوالات برقرار ہیں۔
جم ڈوخونی نے سی این این کو بتایا کہ اگر ٹیسلا کی روڈسٹر ہوا میں بلند ہو جائے تو انہیں حیرت نہیں ہو گی۔(فوٹو:رائٹرز)
ٹیسلا کی تقریب سے قبل ایلیف کے چیف ایگزیکٹیو جم ڈوخونی نے سی این این کو بتایا کہ اگر ٹیسلا کی روڈسٹر ہوا میں بلند ہو جائے تو انہیں حیرت نہیں ہو گی لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہو گا کہ گاڑی حقیقی معنوں میں اُڑ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’یہ بالکل ممکن ہے تاہم تمام ای وی ٹی او ایل گاڑیوں کے لیے سب سے مشکل مرحلہ عمودی طور پر بلند ہونے کے بعد آگے کی جانب حرکت شروع کرنا ہے۔ اس عمل میں بہت احتیاط ضروری ہے تاکہ گاڑی ہوا میں بلند رہ سکے اور مستحکم بھی رہے۔‘
راجر کونر نے بھی اس امکان پر شکوک کا اظہار کیا کہ روڈسٹر جیسی سڑک پر چلانے کے قانونی تقاضے پورے کرنے والی گاڑی اپنے مالک کی خواہش کے مطابق کسی بھی جگہ اُڑ کر جا سکے گی۔
انہوں نے کہا، ’ہم مسلسل پرواز کی بات نہیں کر رہے بلکہ درحقیقت صرف چھلانگ لگانے کی بات کر رہے ہیں۔‘