Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی خوفزدہ کرنے والی ہالی وڈ کی 10 کلاسک فلمیں

رواں برس ہالووین 31 اکتوبر کو منایا جائے گا (فائل فوٹو: اے نائٹ میئر آن ایلم سٹریٹ)
’ہیلووین‘ تہوار کے قریب آتے ہی خوف اور سنسنی سے بھرپور فلمیں دیکھنے کا شوق ایک بار پھر بڑھ جاتا ہے۔ کچھ فلمیں اپنی کہانی، کچھ خوفناک کرداروں اور کچھ ایسے مناظر کی وجہ سے یادگار بن جاتی ہیں جو دیکھنے والوں کے ذہنوں میں برسوں تک نقش رہتے ہیں۔
نفسیاتی خوف سے لے کر پراسرار مخلوق، آسیب اور قاتلوں کی کہانیوں تک، ہارر سنیما کی کئی کلاسک فلمیں آج بھی ناظرین کو خوفزدہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
رواں برس ہیلووین 31 اکتوبر کو منایا جائے گا جو ہارر فلموں کی ایک طویل فہرست دیکھنے کے لیے بہترین موقع ہو سکتا ہے۔
اگر آپ بھی ہیلووین کے موقع پر کچھ یادگار ہارر فلمیں دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہاں ہالی وُڈ کی 10 ایسی کلاسک فلموں کا ذکر ہے جنہوں نے اس صنف کو ایک نئی پہچان دی۔ ان میں ’روزمیریز بے بی‘ سے لے کر ’دی ایگزارسسٹ‘ تک کئی ایسی فلمیں شامل ہیں جن کا خوف آج بھی برقرار ہے۔

’روزمیریز بے بی‘

یہ نفسیاتی خوف پر مبنی فلم روزمیری وُڈہاؤس نامی خاتون کی کہانی بیان کرتی ہے، جو اپنے شوہر کے ساتھ نیویارک شہر کے ایک اپارٹمنٹ میں منتقل ہوتی ہے۔ دونوں ایک نئی زندگی شروع کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں، لیکن جلد ہی انہیں اپنے نئے پڑوسیوں کے غیر معمولی رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر روزمیری کے حاملہ ہونے کے بعد پڑوسیوں کی اس میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اسے پریشان کرنے لگتی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ روزمیری کو اپنے ہونے والے بچے کے حوالے سے کسی خوفناک سازش کا شبہ ہونے لگتا ہے۔ تنہائی، بے یقینی اور مسلسل بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتی ہے کہ آیا اس کے خوف کی کوئی حقیقی بنیاد ہے یا وہ کسی ایسے منصوبے کا شکار بن رہی ہے جس کا اسے علم نہیں۔
فلم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ خوف پیدا کرنے کے لیے اچانک سامنے آنے والے مناظر کے بجائے نفسیاتی دباؤ اور شکوک و شبہات سے کام لیتی ہے۔

’ہیلووین‘

’ہیلووین‘ ہارر سنیما کی مشہور ترین فلموں میں شمار ہوتی ہے، جس نے مائیکل مائرز نامی قاتل کے کردار کو متعارف کرایا۔
کہانی کے مطابق مائیکل اپنی بڑی بہن کو قتل کرنے کے 15 سال بعد ایک نفسیاتی مریضوں کے ادارے سے فرار ہو جاتا ہے اور اپنے آبائی قصبے ہیڈن فیلڈ واپس پہنچ جاتا ہے۔ ہیلووین کی رات وہ نوجوان لوری سٹروڈ اور اس کی سہیلیوں کا تعاقب شروع کر دیتا ہے۔
مائیکل کا سابق ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سیم لومس اس کے خطرناک عزائم کو بھانپ لیتا ہے اور اسے مزید قتل کرنے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ فلم میں قاتل کی پراسرار خاموشی، مسلسل تعاقب اور معمول کے ماحول میں چھپا خطرہ خوف کی فضا کو گہرا کرتے ہیں۔
اس فلم نے ہارر سنیما میں ایسے قاتلوں کی کہانیوں کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا جو بظاہر عام زندگی کے درمیان اچانک موت کا پیغام بن کر سامنے آتے ہیں۔

’اے نائٹ میئر آن ایلم سٹریٹ‘

یہ فلم فریڈی کروگر نامی ایک خوفناک قاتل کی کہانی ہے جو نوجوانوں کو ان کے خوابوں میں نشانہ بناتا ہے۔ کہانی میں نینسی تھامسن اور اس کے دوستوں کو مسلسل ایسے ڈراؤنے خواب آنے لگتے ہیں جن میں ایک مسخ چہرے والا شخص نظر آتا ہے۔
اس کے ہاتھ پر نصب تیز دھار بلیڈز والا دستانہ اسے مزید خوفناک بنا دیتا ہے۔ جلد ہی نوجوانوں کو معلوم ہوتا ہے کہ خوابوں میں ہونے والے حملوں کے اثرات حقیقی زندگی میں بھی جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ نینسی اس خطرے کی حقیقت جاننے اور خود کو بچانے کی کوشش کرتی ہے، لیکن فریڈی سے بچنے کے لیے اسے نیند اور بیداری کے درمیان موجود خوفناک تعلق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس فلم کی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ہالی وڈ اداکار جانی ڈیپ نے اپنے ابتدائی فلمی کرداروں میں سے ایک اسی فلم میں ادا کیا تھا۔ خوابوں کو خوف کا میدان بنانے والے اس تصور نے فلم کو ہارر سنیما کی یادگار تخلیقات میں شامل کر دیا۔

’پولٹرجیسٹ‘

’پولٹرجیسٹ‘ ایک ایسے خاندان کی کہانی ہے جس کے پرسکون گھر میں پراسرار اور مافوق الفطرت واقعات پیش آنے لگتے ہیں۔
فری لنگ خاندان ابتدا میں ان واقعات کو غیر معمولی مگر بے ضرر سمجھتا ہے، تاہم صورتحال اس وقت خوفناک رخ اختیار کر لیتی ہے جب گھر کے ٹیلی وژن کے ذریعے عجیب و غریب آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں۔ اس کے بعد خاندان کی سب سے چھوٹی بیٹی کیرول این اچانک غائب ہو جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی پراسرار روحانی دنیا میں پھنس گئی ہے۔
خاندان اپنی بیٹی کو واپس لانے کے لیے غیر معمولی قوتوں کا سامنا کرتا ہے۔ کمروں میں خودبخود حرکت کرتی کرسیاں، اپنے آپ کھلنے والے دروازے اور گھر میں ہونے والی عجیب سرگرمیاں اس فلم کے نمایاں مناظر ہیں۔ فلم عام گھریلو ماحول کو خوفناک تجربے میں بدل دیتی ہے اور یہ دکھاتی ہے کہ جس جگہ کو انسان سب سے محفوظ سمجھتا ہے، وہی اس کے لیے خوف کا مرکز بھی بن سکتی ہے۔

’ری اینیمیٹر‘

یہ فلم ہربرٹ ویسٹ نامی ایک میڈیکل طالب علم کی کہانی ہے جو مردہ جسموں کو دوبارہ زندہ کرنے والا ایک پراسرار محلول تیار کرتا ہے۔ اپنے تجربات کو کامیاب بنانے کی کوشش میں وہ میڈیکل سکول میں لاشوں پر اس محلول کا استعمال شروع کر دیتا ہے، لیکن اس کے نتائج توقعات سے کہیں زیادہ خوفناک ثابت ہوتے ہیں۔
ویسٹ کے ساتھی طالب علم ڈین کین اور اس کی گرل فرینڈ بھی ان خطرناک تجربات میں الجھ جاتے ہیں۔ مردہ جسموں کو دوبارہ حرکت دینے کی کوشش رفتہ رفتہ ایک ایسے سلسلے میں تبدیل ہو جاتی ہے جس پر کسی کا قابو نہیں رہتا۔ ’ری اینیمیٹر‘ میں خوف کے ساتھ سیاہ مزاح اور خون آشام مناظر بھی شامل ہیں، جو اسے روایتی مافوق الفطرت فلموں سے مختلف بناتے ہیں۔
یہ فلم ان کہانیوں میں شمار ہوتی ہے جو انسانی تجسس اور سائنسی تجربات کی حدود سے متعلق ایک خوفناک تصور پیش کرتی ہیں۔

’دی تھنگ‘

برف سے ڈھکے انٹارکٹیکا میں قائم ایک تحقیقی مرکز میں امریکی محققین کی زندگی اس وقت خطرے میں پڑ جاتی ہے جب ان کا سامنا ایک ایسی پراسرار مخلوق سے ہوتا ہے جو دوسری جاندار مخلوقات کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ کہانی میں محققین ایک عام دکھائی دینے والے سلیج کتے کو اپنے مرکز میں لے آتے ہیں، لیکن جلد ہی اس کے اندر چھپی خوفناک حقیقت سامنے آتی ہے۔
اب ٹیم کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ جاننا ہے کہ ان میں سے کون حقیقی انسان ہے اور کون اس مخلوق کا روپ دھار چکا ہے۔ دور دراز مقام، شدید سردی اور ایک دوسرے پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ ’دی تھنگ‘ کی خاص بات اس کا مسلسل بڑھتا ہوا تناؤ ہے، جہاں خطرہ صرف باہر سے نہیں بلکہ ٹیم کے اندر بھی موجود ہو سکتا ہے۔ یہی غیر یقینی کیفیت اس فلم کو سائنس فکشن اور ہارر کے امتزاج کی ایک نمایاں مثال بناتی ہے۔

’کینڈی مین‘

’کینڈی مین‘ ہیلن لائل نامی ایک گریجویٹ طالبہ کی کہانی ہے جو امریکی شہر شکاگو میں شہری داستانوں اور توہمات پر تحقیق کر رہی ہوتی ہے۔ اپنی تحقیق کے دوران اسے کینڈی مین نامی ایک پراسرار کردار کے بارے میں معلوم ہوتا ہے، جس سے متعلق کہا جاتا ہے کہ آئینے کے سامنے اس کا نام پانچ مرتبہ لینے سے وہ ظاہر ہو جاتا ہے۔
ہیلن اس روایت کی حقیقت جاننے کی کوشش میں اس کا نام پانچ مرتبہ دہرا دیتی ہے، جس کے بعد خوفناک واقعات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ پراسرار قتل، خوفناک انکشافات اور ایسے حالات جن کی وضاحت کرنا مشکل ہوتا ہے، ہیلن کی زندگی کو تباہی کی طرف لے جانے لگتے ہیں۔
وہ ایک ایسی حقیقت میں الجھ جاتی ہے جہاں شہری داستانوں، اجتماعی خوف اور حقیقی واقعات کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ فلم اپنی خوفناک کہانی کے ساتھ شہری زندگی میں موجود سماجی مسائل اور توہمات کو بھی موضوع بناتی ہے۔

’دی ایگزارسسٹ‘

’دی ایگزارسسٹ‘ ہارر سنیما کی مشہور ترین فلموں میں سے ایک ہے، جس کی کہانی 12 سالہ ریگن میک نیل کے گرد گھومتی ہے۔
ریگن کے رویے میں اچانک اور غیر معمولی تبدیلیاں آنے لگتی ہیں، جس کے بعد اس کی والدہ کرس میک نیل اس کی حالت کی وجہ جاننے کے لیے مختلف طبی طریقے آزماتی ہیں۔ تاہم، جب علاج سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا تو انہیں شبہ ہونے لگتا ہے کہ ان کی بیٹی پر کسی شیطانی قوت کا قبضہ ہے۔ بالآخر وہ دو کیتھولک پادریوں، فادر ڈیمین کاراس اور فادر لینکسٹر میرین سے مدد طلب کرتی ہیں۔
دونوں پادری ریگن کو اس پراسرار قوت سے نجات دلانے کے لیے آسیب کے اثرات ختم کرنے کی رسم ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فلم میں ماں کی بے بسی، بچی کی بدلتی ہوئی حالت اور پادریوں کی جدوجہد کو انتہائی سنسنی خیز انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اپنی ریلیز کے کئی دہائیوں بعد بھی یہ فلم مافوق الفطرت خوف کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔

’سٹیفن کنگز اِٹ‘

اسٹیفن کنگ کے ناول پر مبنی اس فلم کی کہانی امریکی قصبے ڈیری میں رہنے والے بچوں کے ایک گروپ کے گرد گھومتی ہے، جن کا سامنا پینی وائز نامی ایک خوفناک مخلوق سے ہوتا ہے۔ یہ مخلوق مختلف روپ دھار سکتی ہے اور قصبے میں پیش آنے والے کئی پراسرار اور خوفناک واقعات سے اس کا تعلق سامنے آتا ہے۔
بچے رفتہ رفتہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کا سامنا کسی عام خطرے سے نہیں بلکہ ایسی قوت سے ہے جو طویل عرصے سے ان کے قصبے کو دہشت زدہ کر رہی ہے۔ وہ مل کر اس مخلوق کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ان کا خوف بچپن تک محدود نہیں رہتا۔ تقریباً 30 سال بعد، جب پینی وائز دوبارہ سامنے آتا ہے، تو وہی دوست ایک بار پھر اپنے ماضی کے خوف کا سامنا کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔
فلم میں بچپن کے ڈر، دوستی اور ماضی کے صدمات کو ایک خوفناک داستان کے ساتھ جوڑا گیا ہے، جبکہ پینی وائز کا کردار ہارر سنیما کے یادگار کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔
’نائٹ آف دی ڈیمنز‘
یہ فلم نوجوانوں کے ایک گروپ کی کہانی ہے جو ہیلووین کی رات تفریح کے لیے ایک ویران جنازہ گاہ میں جمع ہوتا ہے۔ ابتدا میں یہ محفل ایک عام پارٹی کی طرح دکھائی دیتی ہے، لیکن جب نوجوان ایک پراسرار رسم ادا کرتے ہیں تو وہاں موجود شیطانی قوت بیدار ہو جاتی ہے۔
اس کے بعد صورتحال تیزی سے خوفناک ہوتی جاتی ہے اور گروپ کے کچھ افراد پراسرار قوتوں کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔ عمارت میں پھنس جانے والے باقی نوجوانوں کو اپنی جان بچانے اور وہاں سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا پڑتا ہے۔
رات گہری ہونے کے ساتھ خطرات بڑھتے جاتے ہیں اور دوستوں کے درمیان اعتماد بھی متزلزل ہونے لگتا ہے۔ ’نائٹ آف دی ڈیمنز‘ ہیلووین، آسیب اور ویران عمارت کے ماحول کو یکجا کرتے ہوئے ایک ایسی کہانی پیش کرتی ہے جس میں معمول کی تفریح ایک جان لیوا تجربے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
یہ فلم ان ناظرین کے لیے خاص طور پر دلچسپ ہو سکتی ہے جو کلاسک ہارر فلموں میں شیطانی قوتوں اور پراسرار واقعات کو پسند کرتے ہیں۔

شیئر: