ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے، سلامتی کونسل کی سعودی عرب کے حقِ دفاع کی حمایت
حوثیوں کی جانب سے ریاض ایئرپورٹ کے علاوہ ابھا کے ہوائی اڈے کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی ’سخت ترین الفاظ‘ میں مذمت کی ہے اور دفاع کو مملکت کا ’بنیادی حق‘ قرار دیا ہے۔
عرب نیو کے مطابق سلامتی کونسل کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں رواں ماہ ریاض کے مرکزی ہوائی اڈے پر ہونے والے مہلک حملوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
کونسل نے 10 اور 11 اکتوبر کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ’غیر ذمہ دارانہ‘ حملوں کی مذمت کی، جن میں 14 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔
بیان میں سعودی عرب کے دیگر ہوائی اڈوں اور سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن سے شہری ہوابازی اور توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور جبکہ کئی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔
سلامتی کونسل کا یہ بیان سعودی عرب پر حملوں کے معاملے پر اس کے سخت مؤقف کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے صدارتی بیان کے لیے کونسل کے تمام 15 ارکان کا متفق ہونا ضروری ہوتا ہے اور اسے باقاعدہ اجلاس میں پڑھا جاتا ہے۔
اس سے پہلے سلامتی کونسل نے سات اگست اور 18 ستمبر کو بیانات جاری کیے تھے، جن میں حوثیوں سے فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکنے اور شہریوں و شہری تنصیبات پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سلامتی کونسل کے صدارتی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کونسل کے ارکان سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی سرزمین اور شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔
ارکان نے بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کو بھی تسلیم کیا۔
کونسل نے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ، سعودی حکومت اور عوام سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔
سلامتی کونسل نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے مسلسل حملوں کی بھی مذمت کی۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کی حفاظت یقینی بنائی جائے جبکہ ساتھ ہی اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے معاہدے، جہاز رانی کی آزادی اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کیے جانے پر بھی زور دیا گیا۔
سلامتی کونسل نے اپریل 2015 میں منظور کی گئی قرارداد 2216 پر مکمل عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا۔
اس قرارداد کے تحت حوثیوں پر مخصوص ہتھیاروں کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ کونسل نے یمن کی حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے تعاون کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ حوثیوں کو مزید حملوں کے لیے ہتھیار، تکنیکی مدد، تربیت اور مالی وسائل نہ مل سکیں۔
کونسل نے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کو بھی اس پابندی پر عمل کرنے کی یاد دہانی بھی کرائی۔
کونسل نے یمن کی حکومت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ملک کی وحدت، خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ تشدد، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے یمن میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
سلامتی کونسل نے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ کی کوششوں کی بھی حمایت کی۔ ان کوششوں کا مقصد مذاکرات کے ذریعے ایسا سیاسی حل نکالنا ہے جس میں تمام فریق شامل ہوں اور جس کی قیادت بھی یمنی عوام کے پاس ہو۔
10 اکتوبر کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والا حملہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب پر سب سے مہلک حملہ تھا، جس میں ایک بیلسٹک میزائل ایئرپورٹ کے اس حصے پر گرا جہاں ٹرمینل تین اور چار واقع ہیں۔
اس حملے میں زیادہ تر ہلاک ہونے والے افراد عرب ممالک اور ترقی پذیر خطوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں چار سعودی شہری، دو بنگلہ دیشی اور مصر، اردن، فلسطین، شام، سوڈان، انڈیا اور امریکا کا ایک ایک شہری شامل تھا۔
11 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں سعودی عرب میں مقیم ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے۔
آٹھ اکتوبر کو اسی ایئرپورٹ پر حملے میں ایک پائلٹ سمیت تین سعودی شہری ہلاک ہوئے اور سعودی ایئرلائنز کا ایک طیارہ تباہ ہوا، اس حملے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
اسی طرح چھ اور سات اکتوبر کو ابھا کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر الجزائر اور مراکش سے تعلق رکھنے والی دو خواتین ہلاک اور 28 افراد زخمی ہوئے جبکہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور حملے میں سوڈان کا ایک شہری ہلاک ہوا اور آٹھ افراد زخمی ہوئے تھے۔