ٹیسلا کی فروخت کم، 2025 میں زیادہ الیکٹرک گاڑیاں بیچنے کا اعزاز چینی کمپنی بی وائی ڈی کے نام
ٹیسلا کی فروخت کم، 2025 میں زیادہ الیکٹرک گاڑیاں بیچنے کا اعزاز چینی کمپنی بی وائی ڈی کے نام
جمعہ 2 جنوری 2026 20:18
ٹیسلا کو ایلون مسک کی ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حمایت کی وجہ سے اہم منڈیوں میں فروخت کے مسائل کا سامنا تھا (فائل فوٹو: روئٹرز)
امریکہ کی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے جمعے کو کہا ہے کہ سنہ 2025 میں اس کی گاڑیوں کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی سب سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں فروخت کرنے کا اعزاز چینی کمپنی بی وائی ڈی کے پاس چلا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا نے سنہ 2025 کے آخری تین ماہ میں چار لاکھ 18 ہزار 227 گاڑیاں ڈیلیور کیں، جس سے پورے سال کی مجموعی فروخت قریباً 16 لاکھ 40 ہزار الیکٹرک گاڑیوں تک پہنچ گئی۔
یہ تعداد سنہ 2024 کے مقابلے میں آٹھ فیصد سے زائد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
اس سے ایک دن قبل بی وائی ڈی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے گذشتہ برس 22 لاکھ 60 ہزار الیکٹرک گاڑیاں فروخت کیں۔
فیکٹ سیٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کو توقع تھی کہ ٹیسلا کی چوتھی سہ ماہی کی فروخت میں نسبتاً کم سست روی آئے گی اور یہ تعداد چار لاکھ 49 ہزار کے قریب ہو گی۔
فروخت میں یہ کمی ستمبر 2025 کے اختتام پر 7500 ڈالر کے امریکی ٹیکس کریڈٹ کے خاتمے کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جبکہ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی طلب کو دوبارہ متوازن ہونے میں وقت لگے گا۔
تاہم اس سے پہلے ہی ٹیسلا کو اہم منڈیوں میں فروخت کے مسائل کا سامنا تھا، جس کی ایک وجہ چیف ایگزیکٹیو ایلون مسک کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر انتہائی دائیں بازو کے سیاست دانوں کی سیاسی حمایت بتائی جا رہی ہے۔
ٹیسلا کو بی وائی ڈی اور دیگر چینی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ یورپی آٹو ساز اداروں کی بڑھتی ہوئی مسابقت کا بھی سامنا ہے۔
بی وائی ڈی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے گذشتہ برس 22 لاکھ 60 ہزار الیکٹرک گاڑیاں فروخت کیں (فائل فوٹو: روئٹرز)
شینزین میں قائم بی وائی ڈی، جو ہائبرڈ گاڑیاں بھی تیار کرتی ہے، نے جمعرات کو گذشتہ برس میں ریکارڈ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کا اعلان کیا۔
چینی زبان میں ’بیادی‘ کے نام سے معروف یا انگریزی نعرے ’بلڈ یور ڈریمز‘ کے تحت پہچانی جانے والی بی وائی ڈی کی بنیاد سنہ 1995 میں رکھی گئی تھی اور ابتدا میں یہ بیٹریوں کی تیاری میں مہارت رکھتی تھی۔
اگرچہ بی وائی ڈی اور دیگر چینی الیکٹرک گاڑی ساز اداروں کو امریکہ میں بھاری ٹیرف کا سامنا ہے، تاہم جنوب مشرقی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں کمپنی کی کامیابی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔