Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حوثیوں کی تباہ کن حکمتِ عملی کے پیچھے کون سا نظریہ کارفرما ہے؟

اس تحریک کی جڑیں حسین الحوثی کی تعلیمات میں ملتی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
بین الاقوامی مبصرین حالیہ دنوں میں سعودی ہوائی اڈوں اور دیگر شہری اہداف پر حوثیوں کے حملوں کو عموماً عسکری حکمتِ عملی، علاقائی رقابت اور ایران کے ساتھ اس گروہ کے اتحاد کے تناظر میں بیان کرتے رہے ہیں۔
تاہم عرب نیوز کے مطابق میزائلوں اور ڈرونز کے پیچھے ایک ایسا نظریہ کارفرما ہے جو دنیا کو دوستوں اور دشمنوں میں تقسیم کرتا ہے، مذہبی حقانیت کا خصوصی دعویٰ کرتا ہے اور محاذ آرائی کو ایک مقدس فریضہ قرار دیتا ہے۔
یمن کے شمالی علاقوں میں مذہبی مطالعاتی حلقوں کے ایک نیٹ ورک سے جنم لینے والے حوثی، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، وقت کے ساتھ ایک ایسی علاقائی عسکری قوت بن چکے ہیں جو عالمی توانائی کی سپلائی کو خطرے میں ڈالنے اور دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس تحریک کی جڑیں حسین الحوثی کی تعلیمات میں ملتی ہیں، جو یمن کے مذہبی اور سیاسی نظام کو پیغمبر اسلام کی نسل سے تعلق رکھنے والوں کی قیادت کے گرد دوبارہ تشکیل دینا چاہتے تھے۔
زیدی شیعہ اسلام کی ایک سخت گیر تشریح اور ایران کے اسلامی انقلاب سے متاثر ہو کر انہوں نے ایک ایسی تحریک قائم کی جس میں مذہبی تعلیم، سیاسی تنظیم سازی اور مسلح تصادم کی تیاری کو یکجا کیا گیا۔
ان کی تحریریں ایک ایسے تصورِ دنیا کو ظاہر کرتی ہیں جس میں مذہبی اختلاف دشمنی اور اخراج کی بنیاد بن سکتا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو ایک بنیادی اور لازمی فریضہ قرار دیا جاتا ہے۔
اگرچہ ان تحریروں میں بعد میں شہریوں پر ہونے والے ہر حملے کے لیے براہِ راست مذہبی جواز موجود نہیں، لیکن یہ اس نظریاتی ڈھانچے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں جس کے ذریعے یہ تحریک اپنے دشمنوں کی تعریف کرتی اور تشدد کو جائز قرار دیتی ہے۔
یہ تحریک 1992 میں ایران کی جانب سے اپنے انقلاب کو برآمد کرنے کی کوششوں اور ایران۔عراق جنگ سمیت خطے کی سیاسی ہلچل کے پس منظر میں وجود میں آئی۔
اس کا بنیادی مقصد ایک نظامِ امامت قائم کرنا تھا، یعنی ایسا طرزِ حکومت جس میں اقتدار صرف پیغمبر اسلام کی نسل سے تعلق رکھنے والے مخصوص خاندان کے افراد کا حق سمجھا جائے۔

حسین الحوثی نے ایران کا دورہ کیا اور قم میں مذہبی علما سے تعلیم حاصل کی (فوٹو: اے ایف پی)

نومبر 2010 میں وفات پانے والے بدرالدین الحوثی، جو حسین الحوثی کے والد تھے، اپنے سخت مذہبی مؤقف اور فرقہ وارانہ عدم برداشت کے لیے معروف تھے۔ وہ پہلے دو خلفائے راشدین، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے لیے روایتی دعائیہ جملہ ’رضی اللہ عنہ‘ استعمال کرنے سے انکار کرتے تھے۔
حسین الحوثی نے بھی یہی طرزِ عمل اختیار کیا اور حضرت عائشہؓ، جو پیغمبر اسلام کی زوجہ مطہرہ اور حضرت ابوبکرؓ کی صاحبزادی تھیں، کے لیے بھی یہ دعائیہ کلمات استعمال نہیں کیے۔
بزرگ الحوثی نے احادیث کی مشہور کتابوں صحاح اور سنن پر تنقید کرتے ہوئے محدثین امام بخاری اور امام مسلم پر الزام لگایا کہ انہوں نے حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے بعض اقوال کو پیغمبر اسلام سے منسوب کیا۔ ان کے بیٹے حسین الحوثی نے بھی یہی نظریات اپنائے۔
1996 میں بدرالدین الحوثی اور ان کے بیٹوں نے مذہبی شخصیت مجدالدین المؤیدی کے ساتھ اختلافات کے بعد حزب الحق سے استعفیٰ دے دیا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی توجہ الشباب المؤمن تنظیم پر مرکوز کر دی، جو صعدہ، ذمار، عمران اور یمن کے دیگر علاقوں میں پھیل گئی۔
پیغمبر اسلام کے خاندان کے حقِ حکمرانی پر زور دیتے ہوئے یہ تنظیم امامت کے انقلابی نظریے کی جانب بڑھتی گئی اور زیدی مکتب فکر کے نسبتاً معتدل رجحان سے دور ہوتی چلی گئی، جو تاریخی طور پر یمن میں رائج شیعہ اسلام کی ایک شاخ ہے۔
حسین الحوثی نے ایران کا دورہ کیا اور قم میں مذہبی علما سے تعلیم حاصل کی۔ وقت کے ساتھ تحریک نے ایران کے اسلامی انقلاب اور حزب اللہ کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ قبول کیا اور اس کا رخ مذہبی تبلیغ سے ہٹ کر سیاسی تنظیم سازی اور مسلح تصادم کی طرف مڑ گیا۔
2004  میں حوثیوں نے یمنی حکومت کے خلاف مسلح لڑائی شروع کر دی۔ 2004 سے 2010 کے درمیان جنگ کے چھ ادوار ہوئے اور یہ لڑائی صعدہ سے نکل کر کئی صوبوں تک پھیل گئی، یہاں تک کہ سعودی سرحد تک جا پہنچی۔

ستمبر 2014 میں حوثیوں نے صنعاء پر قبضہ کر لیا اور جنوب کی طرف پیش قدمی شروع کر دی (فوٹو: اے ایف پی)

بعض رپورٹس کے مطابق آخری مرحلے میں حوثی جنگجوؤں کی تعداد تقریباً 10 ہزار تھی۔
 2011  میں تحریک نے صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف احتجاجی تحریک میں حصہ لیا، لیکن خلیجی ممالک کے اس منصوبے کو مسترد کر دیا جس کے تحت اقتدار ان کے نائب عبدربہ منصور ہادی کو منتقل کیا گیا تھا۔
ستمبر 2014 میں حوثیوں نے صنعاء پر قبضہ کر لیا اور جنوب کی طرف پیش قدمی شروع کر دی، جس کے نتیجے میں مارچ 2015 میں ایک بین الاقوامی اتحاد جنگ میں شامل ہو گیا۔
یہ تنازع بعد میں ایک وسیع علاقائی محاذ آرائی میں تبدیل ہو گیا۔ حوثیوں کے میزائلوں اور ڈرونز نے سعودی عرب کے سرحدی علاقوں، ابہا سمیت متعدد ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ 2019 میں سعودی عرب کی بڑی آئل پروسیسنگ تنصیبات پر ہونے والے حملے نے حوثیوں کے عسکری ہتھیاروں کی رسائی اور صلاحیت کو نمایاں کر دیا۔
2022  میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے بعد لڑائی میں کمی آئی، لیکن نومبر 2023 میں حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی جہازوں پر حملے شروع کر دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ غزہ جنگ کے دوران فلسطینیوں کی حمایت میں یہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔
ان حملوں کے نتیجے میں شپنگ کمپنیوں نے اپنے بحری جہازوں کا رخ بدل کر افریقہ کے گرد طویل راستے اختیار کرنا شروع کر دیے، جبکہ امریکہ اور برطانیہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔
اکتوبر 2026 تک سعودی اہداف پر نئے حملوں، ایک اعلان کردہ بحری ناکہ بندی اور یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں لڑائی نے ایک بار پھر شہریوں اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو خطرات سے دوچار کر دیا تھا۔

وہ ایران کے انقلابی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کو ایک ایسی بااثر شخصیت سمجھتے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

اصل سوال یہ ہے کہ تحریک کا بنیادی نظریہ اس کے تصادم کے انداز اور ان افراد یا گروہوں کی تعریف کو کس طرح واضح کرتا ہے جن کے خلاف تشدد کا رخ کیا جاتا ہے۔
17  جنوری 2002 کو حسین الحوثی نے صعدہ کے علاقے مران میں واقع امام الہادی سکول میں ایرانی انقلابی نعرہ’امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد‘ متعارف کرایا اور حاضرین سے اسے دہرانے کو کہا۔
وہ ایران کے انقلابی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کو ایک ایسی بااثر شخصیت سمجھتے تھے جو وفاداری اور دشمنی کے تصورات کو بخوبی سمجھتی تھی۔
انہوں نے خمینی کے اس نظریے کو قبول کیا جس میں ’امریکہ سے بیزاری، مشرکین سے بیزاری اور اسرائیل سے بیزاری‘ کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ وہ یوم القدس کی حمایت کرتے تھے اور حزب اللہ کے اس وقت کے سربراہ حسن نصراللہ کو ’وہ شخص جس نے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا‘ قرار دیتے تھے۔
تاہم الحوثی کا نظریہ صرف بیرونی طاقتوں کی مخالفت تک محدود نہیں تھا۔ وہ ہر اس شخص کو کافر سمجھتے تھے جو اس عقیدے کو قبول نہ کرتا ہو کہ حضرت علیؓ بن ابی طالب کو پیغمبر اسلام کی حیاتِ مبارکہ میں واضح طور پر جانشین مقرر کیا گیا تھا۔
سورۃ المائدہ کی اپنی تفسیر کے پہلے درس میں انہوں نے ابو طالب کی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل کی ذمہ داری حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکرؓ پر عائد کی اور حضرت ابوبکرؓ کی قیادت کو ایک ایسی برائی قرار دیا جس کے اثرات ان کے بقول مسلمان آج تک بھگت رہے ہیں۔
اپنے رسالے’اتحاد فی الدین‘ میں انہوں نے شیخ محمد بن عبدالوہاب کی تعلیمات کو اسلام کے خلاف ایک یہودی سازش کا حصہ قرار دیا اور انہیں قادیانی اور بہائی تحریکوں کے ساتھ یکجا رکھا۔

حسین الحوثی نے اپنی سوچ کو عوامی تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا (فوٹو: اے ایف پی)

مسلم اتحاد کے ان کے تصور میں صرف ایک ہی نظریاتی راستے کی گنجائش تھی۔ جو لوگ اختلاف کرتے تھے، ان سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ اپنے عقائد ترک کرکے ان کی تعلیمات اختیار کریں۔
ان کے ایک اور رسالے ’الولاء والبراء‘ (وفاداری اور دشمنی) میں دشمنی کا دائرہ ہر اس شخص تک پھیلا دیا گیا جو اہلِ بیت کے راستے سے ہٹ گیا ہو۔ اس میں پیغمبر اسلام کی بعض ازواج اور وہ تمام افراد بھی شامل تھے جنہوں نے حضرت علیؓ یا کسی امام کے خلاف جنگ لڑی تھی۔
ان تعلیمات کی اہمیت مذہبی اختلاف کے بارے میں ان کے تصور میں پوشیدہ ہے۔
اسلام کے اندر مختلف آرا کو جائز اختلافات سمجھنے کے بجائے حسین الحوثی بعض مخالفین کو کافر قرار دیتے تھے اور اپنے مذہبی نظریے سے وفاداری کو عقیدت و وابستگی کا بنیادی معیار قرار دیتے تھے۔
ایسا نقطۂ نظر نظریاتی طور پر اخراج اور دشمنی کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے، جہاں مخالفین کو مخصوص زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور تصادم کو ایک فریضے کی شکل دی جاتی ہے۔
حسین الحوثی نے اپنی سوچ کو عوامی تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کیا اور ان کی وفات تک ان کے پیروکاروں کی تعداد مبینہ طور پر 18 ہزار سے تجاوز کر چکی تھی۔ انہوں نے ایران کے طرز پر مذہبی مدارس قائم کیے جن کے نصاب میں خمینی کے انقلاب کے نظریات شامل تھے۔
انہوں نے یمن بھر میں 60 سے زائد ادارے قائم کیے، جن میں صعدہ میں 24، عمران میں 6، المحویت میں 5، حجہ میں 12، دارالحکومت کی میونسپل حدود میں 5، ذمار میں 7، اور اب و تعز میں ایک ایک ادارہ شامل تھا، جبکہ صوبہ صنعاء میں 4 ادارے قائم کیے گئے۔

15 سے 25 سال عمر کے پیروکاروں کو متحرک کیا گیا تاکہ وہ جمعے کی نماز کے بعد مساجد کے باہر مظاہرے کریں (فوٹو: اے ایف پی)

حزب اللہ اور دیگر سیاسی اسلامی تحریکوں سے متاثر ہو کر انہوں نے گرمیوں کے کیمپ، سیمینارز، لیکچرز اور درسی نشستوں کا انعقاد کیا اور اپنی فکر کو فروغ دینے کے لیے کتابچے اور کتابیں شائع کیں۔
انہوں نے اپنے زیدی پیروکاروں پر زور دیا کہ وہ ان دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی تیاری کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود حاصل کریں جنہیں وہ ’امریکی‘ اور ’یہودی‘ قرار دیتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ زکوٰۃ کا ایک حصہ ان افراد کے لیے مختص کیا جائے جو ’اسلام کی عزت‘ اور اپنے مسلک کے دفاع میں سرگرم ہیں۔
15 سے 25 سال عمر کے پیروکاروں کو متحرک کیا گیا تاکہ وہ جمعے کی نماز کے بعد مساجد کے باہر مظاہرے کریں اور امریکہ و اسرائیل مخالف نعرے لگائیں۔ 2003 میں عراق جنگ کے دوران تحریک کی جانب سے امریکی سفارت خانے کی طرف نکالے گئے ایک مارچ کے نتیجے میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
یہ سرگرمیاں مذہبی تعلیم، سیاسی تنظیم سازی اور تصادم کی تیاری کو یکجا کرتی تھیں۔ انہوں نے ان لوگوں کے درمیان ایک مضبوط تفریق بھی قائم کی جنہیں مذہب کا محافظ قرار دیا جاتا تھا اور ان افراد کے درمیان جنہیں اس کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا تھا۔
تاہم الحوثی کی تحریریں یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ یمنی حکومت کے ساتھ ان کی محاذ آرائی ہمیشہ کھلے طور پر ظاہر نہیں کی جاتی تھی۔ 2004 میں پہلی حوثی جنگ شروع ہونے سے قبل، جو اس وقت ان کی خواہش کے مطابق نہیں تھی، انہوں نے صدر علی عبداللہ صالح کو ایک خط لکھا۔
انہوں نے لکھا کہ ’ہم آپ کے خلاف کام نہیں کر رہے اور ہم آپ کا بہت احترام کرتے ہیں۔ جو کچھ میں کر رہا ہوں وہ صرف میرے مذہبی اور قومی فریضے کے تحت ہے، جس کا مقصد دین اور قوم کے دشمنوں، یعنی امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت کرنا ہے۔‘
مزید لکھا کہ ’ان لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھریں جو ذاتی مقاصد رکھتے ہیں یا منافق ہیں۔ مطمئن رہیں کہ ہم نہ آپ کے خلاف سازش کر رہے ہیں اور نہ ہی کوئی خفیہ منصوبہ بنا رہے ہیں۔‘
یہ خط ظاہر کرتا ہے کہ الحوثی اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ایک مذہبی اور قومی فریضے کے طور پر پیش کرتے تھے، حالانکہ وہ اسی حکومت کو یقین دہانی بھی کرا رہے تھے جس کے ساتھ ان کی تحریک جلد جنگ میں داخل ہونے والی تھی۔

یوم القدس کی ایک تقریب میں انہوں نے خمینی کو ’عرب قوم کے لیے خدا کی طرف سے رحمت‘ قرار دیا (فوٹو: اے ایف پی)

خمینی کے انقلاب کا اثر صرف آلِ حوثی کی تہران آمد و رفت یا وہاں قیام تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ ایران کی وسیع تر حکمت عملی ’انقلاب برآمد کرنے‘ کا حصہ بھی تھا۔
خمینی کے نظریہ ولایتِ فقیہ روایتی اثناعشری شیعہ فکر سے مختلف تھا۔
دوسری طرف زیدی مکتب فکر کی تاریخی روایت مختلف رہی ہے۔ اس کے مطابق ظالم حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ایک بنیادی فریضہ ہے اور اس کے لیے کسی امام کی واپسی کا انتظار ضروری نہیں۔ اس روایت کا سلسلہ امام زید بن علی کی تحریک سے لے کر حزب الحق تک پھیلا ہوا ہے، جس کے قیام میں بدرالدین الحوثی اور ان کے بیٹوں نے بھی کردار ادا کیا تھا۔
اس کے باوجود حسین الحوثی خمینی کے نظریات سے گہرا متاثر تھے۔ اپنی تحریر ’یمن میں امریکہ کے داخلے کا خطرہ‘ میں انہوں نے لکھا کہ ’ہم نے دیکھا کہ امام خمینی کے دور میں ایران کے اسلامی انقلاب کے خلاف کھڑا ہونے والے ہر ملک کو اپنے اقدامات کا نتیجہ بھگتنا پڑا۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’انہوں نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف عراق کی حمایت کی، حالانکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے مضبوط ترین مخالفین میں سے تھا اور اب بھی ہے۔‘
’امام خمینی عربوں اور مسلمانوں کو امریکہ اور مغربی ممالک کی بالادستی سے آزاد کرانا چاہتے تھے اور اسرائیل کا خاتمہ چاہتے تھے، لیکن سب لوگ ان کے خلاف کھڑے ہو گئے۔‘
’ہم نے دیکھا کہ جن لوگوں نے ان کی مخالفت کی، انہیں انہی طاقتوں نے نشانہ بنایا جن کی انہوں نے مدد کی تھی اور جن کے مفادات کی خدمت کی تھی۔ کویت متاثر ہوا اور عراق بھی متاثر ہوا۔‘
یوم القدس کی ایک تقریب میں انہوں نے خمینی کو ’عرب قوم کے لیے خدا کی طرف سے رحمت‘ قرار دیا اور کہا کہ عرب اس نعمت سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔

23  فروری 2012 کو حوثیوں نے ایک دستاویز جاری کی جس پر ان کے رہنما عبدالملک الحوثی کے دستخط تھے (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے مزید کہا کہ ’عربوں نے اس نعمت کی قدر نہیں کی، بلکہ اس کے خلاف کھڑے ہو گئے اور امریکہ اور اسرائیل کو اس سے تحفظ فراہم کیا۔‘
یہ زبان ظاہر کرتی ہے کہ حسین الحوثی علاقائی تنازعات کو ایرانی انقلاب کے تناظر میں دیکھتے تھے اور خمینی کے منصوبے سے وفاداری کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت سے الگ نہیں سمجھتے تھے۔
23  فروری 2012 کو حوثیوں نے ایک دستاویز جاری کی جس پر ان کے رہنما عبدالملک الحوثی کے دستخط تھے۔ اس میں ان کے مذہبی اصولوں اور سیاسی مؤقف کو واضح کیا گیا تھا۔
حسین الحوثی اور ان کے والد کی تعلیمات کی بنیاد پر تیار کی گئی اس دستاویز میں اسلام اور صحیح عقیدے پر خصوصی حق کا دعویٰ کیا گیا اور دیگر مسلمانوں کو گمراہ یا کافر قرار دیا گیا۔ اس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ خدا نے اس تحریک کو امتِ مسلمہ کی تجدید اور دین کی بحالی کے لیے منتخب کیا ہے۔
الٰہی انتخاب کا یہ دعویٰ تحریک کے اس مؤقف کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ اسے ایک خصوصی مذہبی اختیار حاصل ہے۔
’وفاداری اور دشمنی‘ کے نظریے کے ساتھ مل کر یہ تصور سیاسی جدوجہد کو محض اقتدار کی کشمکش سے بڑھا کر ایک مذہبی مشن کی شکل دیتا ہے، جہاں مخالفین کو صرف سیاسی حریف نہیں بلکہ مذہبی مقصد کے دشمن کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
یہی حوثی منصوبے کا بنیادی نظریاتی خطرہ ہے۔ مذہبی حقانیت پر خصوصی اجارہ داری کا دعویٰ، مختلف عقائد کو غیر معتبر قرار دینا اور مخصوص دشمنوں کے خلاف محاذ آرائی کو ایک مقدس فریضے میں تبدیل کرنا ایک ایسا فکری ڈھانچہ تشکیل دیتا ہے جو دشمنی کو معمول بنا سکتا ہے اور شہریوں کے خلاف تشدد سمیت مختلف کارروائیوں کے لیے جواز فراہم کر سکتا ہے۔

 

شیئر: