Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نئی دہلی میں ’کاکروش‘ رہنما ابھیجیت ڈیپکے ایک بار پھر گرفتار

سی جے پی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ دہلی پولیس نے ابھیجیت کو حراست میں لے لیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا میں انتخابی کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر نئے احتجاج سے قبل پولیس نے جمعے کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنما ابھیجیت دیپکے کو حراست میں لے لیا ہے۔ 
31 سالہ ابھیجیت دیپکے کو نئی دہلی کے مرکزی علاقے کناٹ پلیس کے مصروف تجارتی مرکز میں واقع سینٹرل پارک میں احتجاج شروع ہونے سے کچھ دیر قبل حراست میں لیا گیا۔
سی جے پی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’دہلی پولیس نے ابھیجیت کو حراست میں لے لیا ہے! یہ حکومت قومی پرچم لہرانے والے نوجوانوں سے اس قدر خوف زدہ ہے!‘
سی جے پی اور اپوزیشن جماعتیں بڑے پیمانے پر انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے معاملے پر انڈیا کے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمل سے وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں انتخابات کی نگرانی کرنے والے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کسی بھی غلط کاری کی تردید کی ہے۔
دیپکے نے اپنے حامیوں سے قومی پرچم لے کر سینٹرل پارک میں جمع ہونے کی اپیل کی تھی۔ اس سے قبل ان کے دو ساتھیوں کو جنتر منتر میں سکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس نے رواں ہفتے جنتر منتر کو احتجاج کے لیے ممنوع مقام قرار دیا تھا۔
جمعے کو نئی دہلی کے مرکزی علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی جبکہ پولیس نے عوامی اجتماعات پر پابندی کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے مظاہرین کو احتجاجی مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران نئی دہلی میں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے خلاف سڑکوں پر کئی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ اس عمل کی نگرانی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے کی۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق اس کارروائی کے تحت انتخابی فہرستوں سے 13 کروڑ 30 لاکھ سے زائد نام خارج کیے جا چکے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ان ناموں کے اخراج سے اقلیتیں، خصوصاً مسلمان، غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
انتخابی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد انتخابی فہرستوں سے ایک سے زائد بار درج ناموں، وفات پا جانے والے افراد کے ناموں اور جعلی اندراجات کو ختم کرنا تھا۔

شیئر: