بندش کے باوجود جنتر منتر جانے والے کاکروچ کے رہنما گرفتار، ’مودی جی کچھ ہمت دکھائیں‘
بندش کے باوجود جنتر منتر جانے والے کاکروچ کے رہنما گرفتار، ’مودی جی کچھ ہمت دکھائیں‘
بدھ 14 اکتوبر 2026 8:36
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے اشوتوش رانکا اور سارو داس کو پانچ روز کے لیے عدالتی تحویل میں دیا گیا ہے (فوٹو: انڈین میڈیا)
انڈیا میں نوجوانوں کی مشہور جماعت کاکروچ جنتا پارٹی کے دو اہم رہنماؤں کو جنتر منتر آنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔
دہلی میں واقع اور تین دہائیوں سے احتجاج کے لیے مشہور اس مقام کو ایک روز قبل ہی بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور یہاں کسی بھی قسم کے احتجاج پر پابندی لگا دی تھی۔
ٹریبیون انڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے اشوتوش رانکا اور سارو داس کو پانچ روز کے لیے عدالتی تحویل میں دیا گیا ہے۔
کاکروچ پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے واقعے کے بعد ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا دونوں کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ جنتر منتر پہنچے تھے۔
انہوں نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں دونوں رکاوٹوں کو عبور کرتے اور پرچم لہراتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور پولیس ان کا تعاقب کرتی ہے۔
حالیہ دنوں کے دوران جہان نوجوانوں کے احتجاج میں تیزی آئی ہے وہیں اپوزیشن جماعتیں بھی کافی متحرک ہیں جبکہ آن لائن بھی کاکروچ پارٹی کو بہت زیادہ حمایت حاصل ہو رہی ہے۔
اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والے ملک انڈیا میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مہم چل رہی ہے اور ان سے استعفے کا مطالبہکیا جا رہا ہے، ان پر الزام ہےکہ انہوں نے ووٹر فہرستوں میں ایسی تبدیلیاں کروائیں جن سے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت کو فائدہ پہنچتا ہے۔
کاکروچ تحریک کو مودی حکومت کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے (فوٹو: گیٹی امیجز)
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے الزام کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کی جانب سے کوئی غلط کام نہیں کیا گیا۔
جنتر منتر کے مقام کو کئی روز سے رکاوٹیں لگا کر بند کیا گیا ہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی وہاں تعینات ہے۔
ابھیجیت دپکے نے حراست میں لیے گئے جانے والے رہنماؤں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو صرف جنتر منتر پر ترنگا لہرانے کی سزا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ ہمت کا مظاہرہ کریں۔‘
خیال رہے امتحانات کا پرچہ لیک ہونے پر وجود میں آنے والی نوجوانوں کی تحریک کاکروچ اس سے قبل بھی کئی احتجاج کر چکی ہے جن کے نتیجے میں ان کے مطالبات تسلیم کیے گئے، امتحانی پرچے کی درستی گئی جبکہ چند ماہ پیشتر ایسے ہی ایک احتجاج کی وجہ سے وزیر تعلیم کو بھی مستعفی ہونا پڑا تھا۔
ملک کی اپوزیشن میں شامل جماعتیں بھی احتجاج کے موقع پر اس کا ساتھ دیتی دکھائی دیتی ہیں اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ہونے والے احتجاج میں کانگریس رہنما راہل گاندھی بھی شریک ہوئے جن کو گرفتار بھی کیا گیا تاہم بعد میں رہا کر دیا گیا۔