Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر عائد نئی پابندیاں اور ٹیرف منسوخ کر دیے

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اچانک یوٹرن کو صدر پوتن کے ساتھ طے پانے والے ایک متنازع معاہدے کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے روس کی توانائی کی آمدن کو نشانہ بنانے والی ان وسیع ترین امریکی پابندیوں اور ٹیرف کو منسوخ کر دیا ہے جنہیں انہوں نے محض گزشتہ ماہ ہی قانون کا درجہ دیا تھا۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے جمعے کے روز جاری کردہ اس ایگزیکٹو آرڈر کے بعد روس کی توانائی کی صنعت کو ایک بڑی ریلیف ملی ہے جبکہ دوسری جانب واشنگٹن اور کیئف (یوکرین) کے درمیان سفارتی کشیدگی میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔
’لنڈسے گراہم ایکٹ‘ (جو آنجہانی امریکی سینیٹر کے نام سے منسوب ہے) امریکی صدر کو یہ اختیار دیتا تھا کہ وہ روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک کی بھاری ڈیوٹی عائد کر سکیں۔
تاہم جمعے کو جاری ہونے والے نئے صدارتی حکم نامے کے متن کے مطابق ’اس آرڈر کے سیکشن 4 میں کی گئی مزید وضاحت کے تحت، میں گراہم ایکٹ کے تحت فراہم کردہ ایسی تمام پابندیوں، بندشوں اور ڈیوٹیز کے اطلاق کو معطل (ویو) کرتا ہوں۔‘
اس قانون کا بنیادی مقصد روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں، صدر ولادیمیر پوتن اور دیگر اعلیٰ حکام کو معاشی طور پر مفلوج کرنا تھا۔
اس کے علاوہ مغربی پابندیوں سے بچنے کے لیے ماسکو کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ’شیڈو فلیٹ‘ (تیل بردار بحری جہازوں کے خفیہ بیڑے) کو بھی اس قانون کے تحت نشانہ بنایا جانا تھا۔
پوتن کے ساتھ متنازع ڈیل اور ٹرمپ کا یوٹرن
روسی پابندیوں پر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اچانک یوٹرن کو صدر پوتن کے ساتھ طے پانے والے ایک متنازع معاہدے کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
اس معاہدے کے تحت روس کو ڈیزل کی برآمد کی اجازت دی گئی ہے جبکہ بدلے میں امریکہ کی جانب سے اقتصادی پابندیوں میں نرمی کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اس ڈیل کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سے واشنگٹن اور کیئف کے درمیان تعلقات میں زبردست کشیدگی اور تلخی پیدا ہو چکی ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس پیش رفت پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسے امریکی انتظامیہ کا ایک ’کمزور فیصلہ‘ قرار دیا ہے۔
اس سفارتی تناؤ کے فوراً بعد یوکرینی افواج نے بھی روسی آئل ریفائنریوں پر اپنے حملوں کا سلسلہ دوبارہ تیز کر دیا ہے۔

شیئر: