روسی محقق کی پُراسرار موت، نمونیا طاعون کیا ہے اور یہ کتنا خطرناک ہے؟
روسی محقق کی پُراسرار موت، نمونیا طاعون کیا ہے اور یہ کتنا خطرناک ہے؟
منگل 6 اکتوبر 2026 18:53
روس میں 28 سالہ لیبارٹری محقق کی ’نامعلوم‘ وجہ سے نمونیا کے باعث موت ہوگئی۔(فوٹو:اے پی)
روس میں طاعون اور خطرناک جراثیم پر تحقیق کرنے والے ایک ادارے میں کام کرنے والی 28 سال کی لیبارٹری محقق کی ’نامعلوم‘ وجہ سے موت کے بعد نمونیا طاعون کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق سائبیریا میں قائم ارکتسک ریسرچ اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والی محقق کی موت ہوئی ہے جبکہ کئی دیگر افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
روس میں متعدی بیماریوں کی نگرانی کرنے والے ادارے ’روس پوٹری بینادزور‘ نے محقق کی موت اور اس کے کام کے درمیان تعلق کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں کے درمیان تعلق ثابت نہیں ہوا۔
تاہم اس واقعے نے اس قسم کے طاعون سے متعلق سوالات پیدا کیے ہیں جو پھیپھڑوں کو متاثر کرکے نمونیا کا سبب بنتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ اور سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے کہا ہے کہ وہ صورت حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پیر کو کہا کہ وہ روسی صحت حکام سے رابطے میں ہے تاکہ واقعے، جاری ٹیسٹنگ اور اس کے ممکنہ عالمی صحت کے اثرات سے متعلق معلومات کی تصدیق کی جا سکے۔
ڈبلیو ایچ او کے ترجمان نے کہا کہ ’دستیاب غیر سرکاری معلومات کی بنیاد پر عام آبادی کے لیے صحت کا خطرہ کم معلوم ہوتا ہے۔‘
ترجمان کے مطابق مزید معلومات سامنے آنے کے بعد خطرے کے جائزے کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
نمونیا طاعون کیا ہے؟
نمونیا طاعون ایک نایاب لیکن جان لیوا پھیپھڑوں کا انفیکشن ہے جو ’یرسینیا پیسٹس‘ نامی بیکٹیریا سے ہوتا ہے۔ ماہرین اسے طاعون کی سب سے خطرناک قسم سمجھتے ہیں۔
’یرسینیا پیسٹس‘ سے ہونے والی طاعون کی دیگر اقسام جسم کے مختلف حصوں کو متاثر کرتی ہیں۔
طاعون کی سب سے عام قسم ’ببونک طاعون‘ ہے جو عام طور پر پسو کے کاٹنے یا بیکٹیریا کے جلد پر موجود کٹ یا زخم کے ذریعے جسم میں داخل ہونے سے لاحق ہوتا ہے۔
نمونیا طاعون میں جراثیم پھیپھڑوں میں پہنچ کر شدید نمونیا کا سبب بن سکتے ہیں۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
یہ انفیکشن لمف نوڈز میں سوجن اور شدید درد کا سبب بنتا ہے اور آگے چل کر ’سیپٹیسیمک طاعون‘ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
سیپٹیسیمک طاعون خون کو متاثر کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں جسم کے مختلف اعضا ناکارہ ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی پسو کے کاٹنے سے براہ راست لاحق ہو سکتا ہے۔
’فیرینجیل طاعون‘ گلے کو متاثر کرتا ہے اور اس وقت ہو سکتا ہے جب کوئی شخص متاثرہ گوشت کھائے۔
نمونیا طاعون کیسے پھیلتا ہے؟
نمونیا طاعون، طاعون کی واحد قسم ہے جو براہ راست ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتی ہے۔
متاثرہ شخص کے کھانسنے یا چھینکنے سے خارج ہونے والے سانس کے ذرات کے ذریعے یہ دوسرے افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ متاثرہ جانوروں سے نکلنے والے قطرے بھی بیماری کی منتقلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
امریکا میں نمونیا طاعون کی انسان سے انسان میں منتقلی کا آخری دستاویزی واقعہ 1924 میں لاس اینجلس میں سامنے آیا تھا۔
نمونیا طاعون کی علامات کیا ہیں؟
نمونیا طاعون میں جراثیم پھیپھڑوں میں پہنچ کر شدید نمونیا کا سبب بن سکتے ہیں، جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔
انفیکشن کے 24 گھنٹے کے اندر علامات ظاہر ہونا شروع ہو سکتی ہیں۔
دیگر علامات میں بخار، سردی لگنا، سر درد، جسم میں درد، چکر آنا، کمزوری، تھکن، متلی، قے اور اسہال شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
نمونیا طاعون کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
طاعون کا علاج کم از کم 10 سے 14 دن تک اینٹی بایوٹکس کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عام طور پر سیپروفلوکساسن، لیوو فلوکساسن، موکسی فلوکساسن، جینٹامائسن اور سٹریپٹومائسن استعمال کی جاتی ہیں۔
انفیکشن کے پہلے 24 گھنٹوں کے اندر اینٹی بایوٹکس لینے والے مریضوں کے زندہ بچنے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔
مریض کو معاون طبی نگہداشت بھی فراہم کی جا سکتی ہے، جس میں اضافی آکسیجن، جسم میں سیال کی کمی پوری کرنا اور آرام شامل ہے۔
اینٹی بایوٹکس نے طاعون کو قابو کرنا آسان بنا دیا ہے، تاہم یہ بیماری آج بھی موجود ہے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
کیا طاعون کی ویکسین موجود ہے؟
طاعون کی ویکسینز 19ویں صدی سے استعمال ہوتی رہی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ وہ نمونیا طاعون سے تحفظ فراہم کرتی ہیں یا نہیں۔
ڈبلیو ایچ او عام طور پر طاعون کے خلاف ویکسینیشن کی سفارش نہیں کرتا، تاہم ایسے افراد اس حوالے سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں جو مسلسل اس جراثیم سے متاثر ہونے کے امکان میں رہتے ہیں، مثلاً لیبارٹری کا عملہ۔
آج بھی طاعون کیوں ہوتا ہے؟
لوگ طاعون کو عموماً بائبل، تاریخی کتب یا 14ویں صدی میں آنے والی ’بلیک ڈیتھ‘ سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ بیماری آج بھی موجود ہے۔
14ویں صدی میں ’بلیک ڈیتھ‘ کے نام سے مشہور اس وبا نے یورپ میں ’5 کروڑ سے زیادہ افراد‘ کی جان لی تھی۔
اینٹی بایوٹکس نے طاعون کو قابو کرنا آسان بنا دیا ہے، تاہم یہ بیماری آج بھی موجود ہے اور اوشیانا کے علاوہ دنیا کے ہر براعظم میں پائی جاتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق 1990 کی دہائی سے طاعون کے زیادہ تر انسانی کیسز افریقا میں سامنے آئے ہیں۔
امریکا میں نمونیا طاعون سے آخری موت جولائی 2025 میں ایریزونا میں ہوئی تھی۔ سی این این کے مطابق متاثرہ نوجوان بیمار بلیوں کے ساتھ کام کرتا تھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ اسے بیماری وہیں سے لگی۔
بلیوں کے رابطے میں آنے والے کسی دوسرے شخص میں بیماری کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
متعدی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر ٹائلر ایونز نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں، خصوصاً امریکا میں صحت عامہ کے بنیادی ڈھانچے اور اقدامات میں کمی کے باعث طاعون کا خطرہ ’بدتر ہو رہا ہے۔‘
تاہم ان کے مطابق طاعون کی تشخیص نسبتاً تیزی سے کی جا سکتی ہے اور ’پہلی اور دوسری ترجیح کی اینٹی بایوٹکس اس کے خلاف بہت مؤثر ہیں۔‘
دنیا بھر میں لوگوں کو کتنا محتاط رہنے کی ضرورت ہے؟
ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس وقت عام آبادی کے لیے طاعون کا خطرہ کم معلوم ہوتا ہے۔
پین سٹیٹ ہیلتھ سینٹ جوزف میڈیکل سینٹر کے متعدی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر روتل دلال کے مطابق نمونیا طاعون میں مریض بہت تیزی سے بیمار ہو جاتا ہے، جس سے بیماری کے مزید پھیلاؤ کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’کسی شخص کے لیے چلنا پھرنا اور روزمرہ کے کام کرنا بھی بہت مشکل ہو جاتا ہے، سفر کرنا تو دور کی بات ہے۔‘
ان کے مطابق متاثرہ شخص میں بیماری کی علامات 24 گھنٹے کے اندر ظاہر ہو سکتی ہیں۔
ماہرین صابن اور پانی سے باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کی بھی ہدایت کرتے ہیں۔(فوٹو:اے ایف پی)
ڈاکٹر دلال نے کہا کہ روس اور امریکا کے درمیان براہ راست پروازیں نہیں ہیں، اس لیے اگر کوئی متاثرہ شخص امریکا پہنچے تو امکان ہے کہ اس وقت تک اس میں بیماری کی علامات ظاہر ہو چکی ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’یقیناً احتیاط کرنی چاہیے اور اسے ذہن میں رکھنا چاہیے۔ دنیا اب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اس وقت کووڈ کی وبا کے دوران جو صورت حال ہم نے دیکھی تھی، اس کے مقابلے میں یہ معاملہ اس پیمانے کا نہیں ہے اور امید ہے کہ یہ اسی طرح محدود رہے گا۔‘
ڈبلیو ایچ او کے مطابق طاعون کے مریضوں کے قریب رہنے والے افراد کو بیمار شخص سے براہ راست رابطے سے گریز کرنا چاہیے اور اس کے جسم سے ’نکلنے والے مادے سے بھی احتیاط کرنی چاہیے۔‘
نمونیا طاعون کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے طبی کارکنوں کو معمول کے حفاظتی سامان کا استعمال کرنا چاہیے، جبکہ انہیں احتیاطی طور پر اینٹی بایوٹکس بھی دی جا سکتی ہیں۔
کسی متاثرہ شخص سے رابطے کی صورت میں صحت کے حکام اس کے اہل خانہ اور دیگر قریبی رابطے میں آنے والے افراد کی نگرانی کرتے ہیں اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے انہیں اینٹی بایوٹکس فراہم کی جا سکتی ہیں۔
ماہرین صابن اور پانی سے باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کی بھی ہدایت کرتے ہیں۔