Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی انفلواینسرز کی مملکت کے ساتھ اتحاد اور وفاداری کی یقین دہانی

سعودی انفلوئنسر رتیل الشہری کے ٹک ٹاک پر 1.6 ملین فالورز ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی انفلوئنسرز جاری علاقائی کشیدگی کے دوران قومی اتحاد کو فروغ دینے، غلط معلومات کا مقابلہ کرنے اور باخبر بات چیت کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق عربی ہیش ٹیگ وطن_کی_حفاظت_میں_انتہا_پسندی_اختیار_کرو انٹرنیٹ پر کافی مشہور ہو چکا ہے، جو شہریوں اور مقیم افراد کو مملکت کی حمایت میں اپنی آواز اٹھانے کی ترغیب دے رہا ہے۔
یہ مہم کانٹینٹ کری ایٹرز کے لیے ایک مرکز بن گئی ہے جو گفتگو کا رخ تصدیق شدہ معلومات اور اتحاد و قومی فخر پر مبنی تعمیری بات چیت کی طرف موڑنا چاہتے ہیں۔
مقامی سامعین کے لیے پیغام کے علاوہ، انفلوئنسرز نے اپنے پلیٹ فارمز کا استعمال بین الاقوامی فالورز کو مملکت سے جڑے واقعات کی وضاحت کے لیے بھی کیا ہے، تاکہ باخبر بات چیت کو فروغ دیا جا سکے اور عالمی سطح پر واقعات کی بہتر سمجھ پیدا کی جا سکے۔
مہم میں حصہ لینے والے بہت سے لوگوں نے سعودی عرب کے بنیادی نظامِ حکومت کے آرٹیکل 34 کا حوالہ بھی دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ’اسلامی عقیدے، معاشرے اور وطن کا دفاع کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔‘
انفلوئنسرز کا کہنا ہے کہ یہ ذمہ داری ڈیجیٹل دنیا تک پھیلی ہوئی ہے، جہاں سوشل میڈیا صارفین کشیدگی کے ادوار میں بیداری پیدا کرنے، غلط معلومات کا مقابلہ کرنے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں مدد کر سکتے ہیں۔
ان میں 15 سالہ سعودی انفلواینسررتیل الشہری بھی شامل ہیں، جن کے ٹک ٹاک پر 1.6 ملین فالورز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم میں حصہ لینے کا ان کا فیصلہ اپنے ملک کے لیے گہرے ممنونیت اور فخر کے احساس سے ابھرا۔

ثامر نے مملکت کی قیادت اور ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار افراد کا بھی شکریہ ادا کیا (فوٹو: عرب نیوز)

انہوں نے کہا کہ ’میں اپنے ملک سے گہرا لگاؤ رکھتی ہوں اور اس پر بے حد فخر محسوس کرتی ہوں، خاص طور پر ان تمام مواقع پر جو اس نے مجھے اور میری نسل کو دیے ہیں۔‘
’بہت سی چیزیں جو میں آج کرنے کے قابل ہوئی ہوں اور جن کا خواب دیکھا ہے وہ صرف اس لیے ممکن ہوئیں کہ میں سعودی عرب میں ایک ایسے وقت میں بڑی ہوئی جب میری نسل کو کام آغاز کرنے کا موقع ملا، تجربات کرنے اور اپنی آواز اٹھانے کی مکمل آزادی دی گئی۔‘
الشہری نے کہا کہ بولنا اس مواد کا ایک قدرتی حصہ محسوس ہوا جو وہ پہلے سے اپنے سامعین کے ساتھ شیئر کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میں مسلسل اپنی کامیابیوں اور اپنی زندگی اور سعودی عرب میں ہونے والی مثبت چیزوں کو شیئر کرتی رہتی ہوں اس لیے، میرے لیے یہ بات بے معنی ہوتی کہ جب کوئی واقعی اہم واقعہ پیش آئے تو میں خاموش رہوں، جیسے میرا پلیٹ فارم صرف اچھے دنوں کے لیے بنا ہو۔‘
’اگر لوگ آپ کو سننے کا انتخاب کرتے ہیں اور آپ کو اپنے دن میں ایک جگہ دیتے ہیں، تو میرا ماننا ہے کہ کچھ ایسے لمحات آتے ہیں جب آپ کی آواز کو عام مواد سے زیادہ معنی خیز ہونا چاہیے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ان کی پوسٹس نے غیر عرب فالورز کے درمیان زیادہ مشغولیت پیدا کی، جن میں سے بہت سے لوگوں نے مملکت کے واقعات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
ایک ویڈیو شیئر کرنے کے بعد ان کے اکاؤنٹ سے وابستہ سب سے زیادہ تلاش کیے جانے والے جملوں میں سے ایک تھا کہ ’سعودی عرب میں کیا ہو رہا ہے؟‘
انہوں نے کہا کہ ’تب مجھے اندازہ ہوا کہ اس صورتحال کی وضاحت کرنا کتنا اہم تھا۔‘
’میں ایک سادہ اور سچے انداز میں یہ بتانا چاہتی تھی کہ جو لوگ آن لائن دیکھتے ہیں وہ اس سے مختلف کیوں ہو سکتا ہے جو ہم حقیقت میں محسوس کرتے ہیں، اور یہ مسئلہ ہمارے لیے اتنی اہمیت کیوں رکھتا ہے۔‘
الشہری نے حقائق کی جانچ اور درستگی کی اہمیت پر زور دیا، اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ کشیدگی کے دور میں آن لائن معلومات کتنی تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔
ٹک ٹاک پر 18 ملین سے زیادہ فالورز رکھنے والے سعودی انفلواینسرایکس زیٹ ثامر نے ایک بڑے پلیٹ فارم کے ساتھ آنے والی ذمہ داری پر ان کے خیالات سے اتفاق کیا۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’جب میں نے حوثیوں کو سوشل میڈیا پر متحرک ہوتے اور ہمارے خلاف اکساتے دیکھا، تو میں نے محسوس کیا کہ ایک ایسا شخص ہونے کے ناطے جس کے پاس ایک پلیٹ فارم ہے، مجھے اپنے ملک کا جواب دینا اور دفاع کرنا ہوگا۔‘
18 ملین سے زیادہ فالورز والی ایک معروف شخصیت کے طور پر، میں لوگوں میں یہ بیداری پیدا کر سکتا ہوں کہ وہ صحیح طریقے سے اپنے ملک کا دفاع کیسے کر سکتے ہیں۔

الشہری نے حقائق کی جانچ اور درستگی کی اہمیت پر زور دیا (فوٹو: عرب نیوز)

ثامر نے کہا کہ ان کے بین الاقوامی سامعین نے انہیں غلط معلومات کو چیلنج کرنے اور واقعات کا ایک درست منظرنامہ پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چونکہ میرے پاس بین الاقوامی سامعین بھی ہیں، جن میں مختلف ممالک کے فالورز شامل ہیں، میں اپنے پلیٹ فارم کا استعمال پیش آنے والے واقعات کی سچائی شیئر کرنے کے لیے کر سکتا ہوں۔‘
’بحران کے اوقات میں ہمیشہ غلط معلومات پھیلتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ کچھ آن لائن تنقید میں نسلی تبصرے اور ان کی سعودی قومیت پر سوال اٹھانے والے جملے شامل تھے، اور انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں انہوں نے بہت سے اکاؤنٹس کی شناخت حوثی حامیوں کے طور پر کی۔
ردعمل کے باوجود، ثامر نے کہا کہ سعودیوں کی طرف سے ملنے والا ردعمل انتہائی مثبت تھا۔

الشہری نے کہا کہ بولنا اس مواد کا ایک قدرتی حصہ محسوس ہوا جو وہ پہلے سے اپنے سامعین کے ساتھ شیئر کرتی رہی ہیں (فوٹو: عرب نیوز)

انہوں نے کہا کہ ’سعودی قوم میرے ساتھ کھڑی ہوئی، چاہے وہ مجھے فالو کرتے تھے یا نہیں، اور اس بات نے مجھے بہت خوشی دی۔‘
الشہری کے لیے، اس آن لائن مہم نے ان کی نسل کا ایک ایسا پہلو بھی روشن کیا جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’بعض اوقات لوگ کہتے ہیں کہ ہماری نسل صرف سوشل میڈیا اور اپنے آپ میں مگن رہتی ہے، لیکن اس جیسے لمحات میں آپ کو بالکل برعکس دیکھنے کو ملتا ہے۔‘
’آپ ایک ایسی نسل کو دیکھتے ہیں جو واقعات کا تعاقب کرتی ہے، سوالات پوچھتی ہے، سمجھنے کی کوشش کرتی ہے اور اپنے ارد گرد ہونے والی باتوں کے ساتھ جڑتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ قومی اہمیت کے لمحات اکثر نوجوان سعودیوں کے درمیان اختلافات سے بالاتر ہو جاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم عمر، اپنے بنائے گئے مواد، اپنی دلچسپیوں اور اپنے اظہار کے انداز میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ لیکن جب بات سعودی عرب کی آتی ہے، تو ایسا لگتا ہے کہ وہ تمام اختلافات ختم ہو جاتے ہیں۔‘
ثامر نے مملکت کی قیادت اور ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار افراد کا بھی شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’اللہ کے کرم سے اور پھر آپ کی کوششوں سے لوگ اپنی زندگی گزارنے اور سکون سے سونے کے قابل ہیں۔ ہر چیز کے لیے آپ کا شکریہ۔‘

 

شیئر: